Column

5 Oct: A special message to our benefactors on International Teachers' Day

یومِ اساتذہ پر اپنے محسنوں کے نام ایک خصوصی پیغام

Tremolo: محمد طلحہ غفور

کچھ رشتے خون کے نہیں ہوتے، مگر ان کے احسانات خون کے رشتوں سے کسی صورت کم نہیں ہوتے۔ کچھ لوگ ہماری زندگی میں چند برس کے لیے آتے ہیں، لیکن ان کی باتیں، ان کی نصیحتیں، ان کی ڈانٹ، ان کی شفقت اور ان کی دی ہوئی تربیت عمر بھر ہمارے ساتھ چلتی رہتی ہے۔ زندگی کے سفر میں ایسے بے شمار کردار ملتے ہیں جو کسی نہ کسی موڑ پر ہماری انگلی تھامتے ہیں، مگر ان میں ایک رشتہ ایسا ہے جو انسان کی شخصیت، سوچ اور مستقبل کی تعمیر میں بنیادی کردار ادا کرتا ہے، اور وہ رشتہ استاد کا ہے۔آج 5 اکتوبر ہے۔ دنیا کے کئی ممالک میں یہ دن یومِ اساتذہ کے طور پر منایا جاتا ہے۔ پاکستان میں بھی یہ دن ان عظیم شخصیات کو خراجِ تحسین پیش کرنے کا ایک موقع فراہم کرتا ہے جو خاموشی سے نسلوں کی تربیت میں اپنا کردار ادا کرتی ہیں۔ بظاہر یہ ایک دن ہے، چند تقریبات ہیں، کچھ پیغامات ہیں، چند پھول ہیں اور سوشل میڈیا پر مبارک باد کی پوسٹس ہیں، لیکن حقیقت میں استاد کے احسانات کسی ایک دن، ایک تقریب یا چند الفاظ کے محتاج نہیں ہوتے۔ استاد تو وہ محسن ہے جس کا اثر انسان کی پوری زندگی پر محیط ہوتا ہے۔ہم اپنی زندگی میں بہت سے لوگوں کو بھول جاتے ہیں۔ وقت کے ساتھ چہرے دھندلا جاتے ہیں، آوازیں یادوں میں کہیں دور چلی جاتی ہیں، ملاقاتوں کا سلسلہ ختم ہو جاتا ہے، مگر ایک اچھے استاد کی یاد اکثر دل میں ہمیشہ زندہ رہتی ہے۔ ہمیں آج بھی یاد ہوتا ہے کہ پہلی مرتبہ کس استاد نے ہمارے ہاتھ میں قلم پکڑایا تھا، کس نے الفاظ لکھنا سکھائے تھے، کس نے غلط تلفظ درست کیا تھا، کس نے ریاضی کا مشکل سوال سمجھایا تھا، کس نے ہماری پہلی تقریر پر حوصلہ افزائی کی تھی اور کس نے ہماری کسی چھپی ہوئی صلاحیت کو ہم سے پہلے پہچان لیا تھا۔طالب علمی کے زمانے میں استاد کی ڈانٹ کبھی کبھی دنیا کی سب سے بڑی سزا محسوس ہوتی تھی۔ کلاس میں کھڑا ہونا، ہوم ورک مکمل نہ کرنے پر سرزنش، غلط جواب دینے پر سخت لہجہ، سبق یاد نہ ہونے پر اضافی کام یا امتحان میں کم نمبر آنے پر استاد کی ناراضی اس وقت بہت ناگوار گزرتی تھی۔ ہمیں لگتا تھا کہ شاید استاد ہم سے خوش نہیں، شاید وہ ہمیں پسند نہیں کرتے، مگر وقت نے آہستہ آہستہ یہ راز کھولا کہ استاد کی وہ سختی دراصل ہمارے مستقبل کی فکر تھی۔آج جب ہم اپنی زندگی کے مختلف مراحل سے گزر چکے ہیں تو سمجھ آتا ہے کہ بعض ڈانٹیں دراصل دعائیں تھیں، بعض سخت الفاظ کے پیچھے محبت چھپی تھی اور بعض پابندیاں ہماری آزادی چھیننے کے لیے نہیں بلکہ ہماری شخصیت سنوارنے کے لیے تھیں۔والدین نے ہمیں انگلی پکڑ کر چلنا سکھایا تو استاد نے اسی انگلی میں قلم پکڑنا سکھایا۔ والدین نے ہمیں زندگی دی تو استاد نے اس زندگی کو مقصد، سمت اور شعور دینے کی کوشش کی۔ والدین نے ہمارے جسم کی پرورش کی تو استاد نے ہمارے ذہن اور کردار کی تعمیر میں حصہ ڈالا۔ یہی وجہ ہے کہ استاد کا مقام محض ایک ملازم یا ایک پیشہ ور فرد کا نہیں، بلکہ ایک معمارِ انسانیت کا مقام ہے۔ایک اچھا استاد صرف کتاب کے صفحات نہیں پڑھاتا۔ وہ طالب علم کے اندر چھپی ہوئی دنیا کو پڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ وہ جانتا ہے کہ ہر بچہ یکساں صلاحیتوں کے ساتھ کلاس روم میں نہیں آتا۔ کوئی پڑھائی میں تیز ہوتا ہے، کوئی کھیل میں اچھا ہوتا ہے، کوئی تقریر میں، کوئی لکھنے میں، کوئی تخلیقی کام میں اور کوئی شاید بظاہر کسی خاص صلاحیت کا اظہار نہ کر رہا ہو۔ ایک باصلاحیت استاد وہ ہوتا ہے جو اس خاموش صلاحیت کو تلاش کرتا ہے اور اسے پروان چڑھنے کا موقع دیتا ہے۔کئی مرتبہ استاد کا صرف ایک جملہ طالب علم کی پوری زندگی کا رخ بدل دیتا ہے۔کسی بچے کو شاید گھر میں بار بار یہ سننے کو ملتا ہو کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا، مگر استاد نے ایک دن اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر کہا ہو: “تم کر سکتے ہو۔” یہی چند الفاظ اس بچے کے اندر اعتماد کی ایسی شمع روشن کر دیتے ہیں جو برسوں تک جلتی رہتی ہے۔دنیا میں بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہونے والے لوگ شاید اپنے سفر کی ہر منزل یاد نہ رکھ سکیں، لیکن انہیں وہ استاد ضرور یاد رہتا ہے جس نے انہیں پہلی مرتبہ یہ یقین دلایا تھا کہ وہ کچھ بن سکتے ہیں۔
یہی استاد کی اصل طاقت ہے۔آج ہم اپنے اردگرد نظر دوڑائیں تو زندگی کے ہر شعبے میں استاد کی محنت کے نقوش دکھائی دیتے ہیں۔ ڈاکٹر کے ہاتھ میں مہارت ہے تو کسی استاد نے اسے علم دیا۔ انجینئر نے عمارت کھڑی کی تو کسی استاد نے اسے حساب، سائنس اور اصولِ تعمیر سمجھائے۔ وکیل نے قانون کے پیچیدہ نکات سمجھے تو کسی استاد نے اسے تعلیم دی۔ صحافی نے قلم اٹھایا تو کسی استاد نے اسے الفاظ کے استعمال، تحقیق اور اظہار کا شعور دیا۔ شاعر نے شعر کہا، ادیب نے کتاب لکھی، سائنس دان نے تجربہ کیا، استاد نے کسی نہ کسی مرحلے پر ان سب کی بنیاد رکھنے میں اپنا کردار ادا کیا۔
یہاں تک کہ ایک اچھا انسان جب معاشرے میں اچھائی پھیلاتا ہےدوسروں کا احترام کرتا ہے، کمزور کا ہاتھ تھامتا ہے، سچ بولنے کی کوشش کرتا ہے اور اپنے فرائض ایمانداری سے ادا کرتا ہے تو اس کے کردار کی تعمیر میں بھی کسی نہ کسی استاد کی محنت شامل ہوتی ہے۔اس لیے یہ کہنا غلط نہ ہوگا کہ استاد صرف فرد نہیں بناتا، وہ معاشرہ بناتا ہے۔ایک کلاس روم میں بیٹھا ہوا بچہ کل کسی ہسپتال میں مریض کی زندگی بچا سکتا ہے، کسی عدالت میں انصاف کی کرسی پر بیٹھ سکتا ہے، کسی یونیورسٹی میں تحقیق کر سکتا ہے، کسی ادارے کی قیادت کر سکتا ہے، کسی اخبار میں قلم اٹھا سکتا ہے یا ملک کی کسی سرحد پر وطن کی حفاظت کر سکتا ہے۔ ان تمام کرداروں کے پیچھے کہیں نہ کہیں ایک استاد موجود ہوتا ہے، جس نے برسوں پہلے اس بچے کی شخصیت کی بنیاد رکھنے میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔
افسوس یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں بعض اوقات استاد کے عظیم مقام کو محض ایک ملازمت تک محدود کر دیا جاتا ہے۔ استاد سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ مقررہ وقت پر آئے، نصاب مکمل کرے، امتحان لے اور نتیجہ دے دے۔ مگر ہم بھول جاتے ہیں کہ استاد مشین نہیں، انسان ہے۔ وہ ہر روز درجنوں بچوں کی ذہنی، اخلاقی اور تعلیمی ضروریات سے نبردآزما ہوتا ہے۔ ایک استاد بیک وقت کئی خاندانوں کے مستقبل پر کام کر رہا ہوتا ہے۔
اگر ہم واقعی ایک بہتر معاشرہ چاہتے ہیں تو ہمیں اپنے استاد کو صرف تنخواہ دینے والا ملازم نہیں بلکہ قوم کے مستقبل کا معمار سمجھنا ہوگا۔ استاد کی عزت، اس کے وقار، اس کی تربیت، اس کی معاشی آسودگی اور اس کے پیشہ ورانہ مقام کا خیال رکھنا دراصل اپنے بچوں کے مستقبل کا خیال رکھنا ہے۔ہماری دینی اور تہذیبی روایات میں بھی علم اور اہلِ علم کو ہمیشہ بلند مقام حاصل رہا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے تعلیم، تربیت، اخلاق اور کردار سازی کے ذریعے ایک ایسی جماعت تیار فرمائی جس نے دنیا کو علم، عدل، اخلاق اور انسانیت کا راستہ دکھایا۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا علم حاصل کرنے کا شوق، رسول اکرم ﷺ کے سامنے ان کا ادب اور سیکھنے کی ان کی جستجو ہمارے لیے ہمیشہ ایک روشن مثال ہے۔
یہی وجہ ہے کہ ہمارے لیے علم محض روزگار حاصل کرنے کا ذریعہ نہیں بلکہ شخصیت سازی اور انسان سازی کا وسیلہ بھی ہے۔آج ہمیں اپنے بچوں کو صرف یہ سکھانے کی ضرورت نہیں کہ امتحان میں اچھے نمبر کیسے حاصل کرنے ہیں؛ ہمیں یہ بھی سکھانا ہوگا کہ علم دینے والے کا احترام کیسے کرنا ہے۔ استاد سے سوال کیا جا سکتا ہے، اختلاف بھی کیا جا سکتا ہے، کسی بات کو دلیل کے ساتھ سمجھنے کی کوشش بھی کی جا سکتی ہے، لیکن اختلاف اور بے ادبی کے درمیان جو باریک لکیر ہے، اسے عبور نہیں کرنا چاہیے۔استاد کا احترام دراصل علم کا احترام ہے۔
اور یہ احترام صرف طالب علمی کے زمانے تک محدود نہیں ہونا چاہیے۔
زندگی میں کبھی ایسا بھی ہوتا ہے کہ برسوں بعد کسی بازار میں، کسی چوک پر، کسی مسجد کے باہر یا کسی تقریب میں اچانک اپنا پرانا استاد نظر آ جاتا ہے۔ وقت نے شاید اس کے بالوں کو سفید کر دیا ہو، چہرے پر عمر کی لکیریں نمایاں ہو چکی ہوں اور ہاتھ میں وہی قلم نہ ہو جو کبھی ہماری کاپیوں پر سرخ نشان لگایا کرتا تھا۔
ایسے لمحے میں قدم رکنے چاہئیں۔
سلام میں پہل ہونی چاہیے۔خیریت دریافت کرنی چاہیے۔اور دل میں یہ احساس ہونا چاہیے کہ یہ وہ شخص ہے جس نے میری زندگی کے سفر میں کبھی میرے ہاتھ سے قلم نہیں چھیننے دیا۔
یہ وہ شخص ہے جس نے شاید میری کمزوری پر مجھے ڈانٹا، مگر مجھے ٹوٹنے نہیں دیا۔یہ وہ شخص ہے جس نے شاید میری غلطی پر مجھے سزا دی، مگر میری زندگی کو سزا بننے سے بچایا۔یہ وہ شخص ہے جس نے شاید میری صلاحیت کو اس وقت پہچان لیا تھا جب میں خود اپنی صلاحیت سے ناواقف تھا۔
استاد کی سب سے خوبصورت خصوصیت شاید یہی ہے کہ وہ اپنے شاگرد کی کامیابی کو اپنی کامیابی سمجھتا ہے۔ ایک استاد اپنے شاگرد کو ڈاکٹر، انجینئر، افسر، وکیل، صحافی، سائنس دان یا کسی بڑے عہدے پر دیکھتا ہے تو عموماً اس کے دل میں یہ خواہش نہیں ہوتی کہ لوگ اسے بھی اس کامیابی کا مالک سمجھیں۔ اسے سب سے بڑا انعام یہ محسوس ہوتا ہے کہ اس کا شاگرد ایک اچھا انسان بن گیا ہے، اپنے والدین کا نام روشن کر رہا ہے اور معاشرے میں عزت کے ساتھ زندگی گزار رہا ہے۔
شاید اسی لیے استاد کا دیا ہوا علم ایسا قرض ہے جو کبھی مکمل ادا نہیں ہو سکتا۔ہم اپنے اساتذہ کو تحفے دے سکتے ہیں۔ ان کے نام سے تقریبات منعقد کر سکتے ہیں۔ ان کے لیے پھول لا سکتے ہیں۔ انہیں مبارک باد دے سکتے ہیں۔ ان کی تصاویر سوشل میڈیا پر لگا سکتے ہیں۔ لیکن ان کا حقیقی شکریہ تب ادا ہوگا جب ہم ان کی سکھائی ہوئی اچھی باتوں کو اپنی زندگی کا حصہ بنائیں گے۔
اگر استاد نے ہمیں سچ بولنا سکھایا ہے تو ہم سچ بولیں۔اگر استاد نے ہمیں محنت کا سبق دیا ہے تو ہم محنت کریں۔
اگر استاد نے ہمیں انسانیت کا درس دیا ہے تو ہم انسانوں کے کام آئیں۔اگر استاد نے ہمیں والدین کا احترام سکھایا ہے تو ہم اپنے والدین کی خدمت کریں۔اگر استاد نے ہمیں کتاب سے محبت سکھائی ہے تو ہم علم کا سفر جاری رکھیں۔تب شاید ہمارے استاد کو محسوس ہوگا کہ اس کی برسوں کی محنت رائیگاں نہیں گئی۔
آج یومِ اساتذہ کے موقع پر ہمیں ان تمام اساتذہ کو یاد کرنا چاہیے جو آج ہمارے درمیان موجود ہیں، اور ان کو بھی جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں۔کسی استاد کی آواز آج بھی ہمارے کانوں میں گونج رہی ہوگی۔
کسی کی ڈانٹ آج بھی یاد ہوگی۔کسی کی شفقت آج بھی دل کو چھوتی ہوگی۔
کسی کی مسکراہٹ آج بھی ذہن میں محفوظ ہوگی۔
اور کسی استاد کا کہا ہوا ایک جملہ شاید آج بھی ہماری زندگی کا سہارا بنا ہوا ہو۔ایسے تمام اساتذہ کو سلام۔ان ہاتھوں کو سلام جنہوں نے ہمارے ہاتھوں میں قلم دیا۔
ان آنکھوں کو سلام جنہوں نے ہمارے مستقبل کے خواب دیکھے۔
ان لبوں کو سلام جنہوں نے ہمیں لفظوں کا شعور دیا۔ان ذہنوں کو سلام جنہوں نے ہمیں سوچنے کا ہنر سکھایا۔اور ان دلوں کو سلام جنہوں نے ہزاروں بچوں کو اپنا سمجھ کر ان کے مستقبل کی فکر کی۔
استاد ایک فرد نہیں، ایک نسل کی تعمیر کا نام ہے۔
آج ہمیں اپنے اساتذہ کو صرف مبارک باد نہیں دینی چاہیے بلکہ ان کی قدر کرنے کا عہد بھی کرنا چاہیے۔ جو استاد ہمارے درمیان ہیں، ان کی عزت کریں، ان کی خیریت پوچھیں، ان سے دعائیں لیں اور ان کے تجربے سے فائدہ اٹھائیں۔ جو ہم سے بچھڑ چکے ہیں، ان کے لیے دعا کریں، ان کے اچھے کاموں کو یاد کریں اور ان کے نام کو احترام سے لیں۔ کیونکہ وقت گزر جاتا ہے۔ عمارتیں بدل جاتی ہیں۔ کتابیں پرانی ہو جاتی ہیں۔ کلاس روم خالی ہو جاتے ہیں۔ بلیک بورڈ پر لکھی تحریریں مٹ جاتی ہیں۔ لیکن ایک استاد کی دی ہوئی تعلیم، تربیت اور کردار سازی انسان کے وجود میں زندہ رہتی ہے۔
ایک شاگرد کی گفتگو میں، اس کے فیصلوں میں، اس کے کردار میں، اس کے بچوں کی تربیت میں اور معاشرے کے ساتھ اس کے رویے میں استاد کی محنت کہیں نہ کہیں سانس لے رہی ہوتی ہے۔یومِ اساتذہ کے موقع پر اپنے تمام اساتذہ کرام کو سلامِ عقیدت پیش کرتے ہوئے دل سے دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمارے اساتذہ کو عزت، صحت، سکون، خوشیاں اور آسانیوں بھری زندگی عطا فرمائے۔ جو اساتذہ حیات ہیں، انہیں سلامت رکھے اور ان کے علم و عمل میں برکت عطا فرمائے، اور جو اس دنیا سے رخصت ہو چکے ہیں، اللہ تعالیٰ ان کے درجات بلند فرمائے، ان کی مغفرت فرمائے اور انہیں جنت الفردوس میں اعلیٰ مقام عطا فرمائے۔
آمین ثم آمین یا رب العالمین، بجاہ سید المرسلین و خاتم النبیین ﷺ۔ صرف اتنا کہنا کافی ہے کہ استاد کا احسان الفاظ سے بیان نہیں کیا جا سکتا۔ اس کا بدلہ پھولوں، تحفوں اور رسمی مبارک بادوں سے نہیں دیا جا سکتا۔
استاد کا احسان لفظوں سے نہیں، کردار سے چکایا جاتا ہے۔
Because”استاد صرف پڑھاتا نہیں، نسلیں بناتا ہے۔”

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button