Events / Seminars

Organized by the Catholic Diocese of Faisalabad, a seminar on protecting the rights of minority girls

Faisalabad (94 News City Reporter) کاتھولک ڈایوسیس آف فیصل آباد کے زیرِ اہتمام اقلیتی بچیوں کے حقوق کے تحفظ، کم عمری کی شادی، جبری تبدیلی مذہب اور اغوا جیسے سنگین مسائل سے آگاہی کےلئے ایک سیمینار بشپ ہاوس فیصل آباد میں منعقد میں کیا گیا۔ جس کا مقصد مسیحی کمسن بچیوں میں آگاہی پیدا کرنا، قانون کی عملداری کو یقینی بنانے پر زور دینا اور کم عمر بچیوں کے تحفظ کے لیے اجتماعی آواز بلند کرنا تھا۔ اس موقع پر بشپ اندریاس رحمت، فادر خالدرشید عاصی، فادرعابد تنویر ، شاہد انور ایڈووکیٹ ، تسنیم داود ایڈووکیٹ، اکمل بھٹی ایڈووکیٹ، سسٹر سروت اقبال، زنیہ میرب اور نائلہ عنایت نے شرکاء سے خطاب کیا۔اس سیمینار میں مذہبی رہنماؤں، وکلاء، سول سوسائٹی نمائندگان کے علاوہ فیصل آباد کے مختلف سکولز کی بچیوں اور اساتذاہ کرام کی ایک بڑی تعداد نے شرکت کی۔
اس موقع پر ڈاکٹر اندریاس رحمت نے کہا کہ کم عمر بچی نہ بیوی بن سکتی ہے اور نہ ہی اس کا مذہب زبردستی تبدیل کیا جا سکتا ہے۔ یہ نہ صرف انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزی ہے بلکہ قانون کی روح کے بھی منافی ہے۔ ہم ریاستی اداروں سے مطالبہ کرتے ہیں کہ اقلیتی بچیوں کے اغوا، جبری تبدیلیٔ مذہب اور کم عمری کی شادی کے خلاف فوری قانون سازی اور مؤثر اقدامات کیے جائیں۔ ہر بچی کو تعلیم، تحفظ اور اپنے ایمان کے ساتھ آزاد زندگی گزارنے کا حق حاصل ہے۔
اس موقع پر مقررین نے اس بات پر زور دیا کہ کم عمر بچی کی شادی قانونی اور اخلاقی طور پر ناقابل قبول ہے اور کسی بھی بچی کو زبردستی مذہب تبدیل کرنے پر مجبور نہیں کیا جا سکتا۔ سیمینار میں حالیہ آئینی عدالت کے فیصلہ اور پاکستان میں نافذ قوانین کی روشنی میں اقلیتی بچیوں کے تحفظ کی ضرورت کو اجاگرکیا گیا اور آئینی عدالت کے فیصلے پر نظر ثانی پر زور دیا اورمطالبہ کیا کہ
کم عمر بچیوں کے اغوا کو روکا جائے
چائلڈ میرج قوانین میں ترامیم کرکے کم عمری کے نکاح کو کالعدم قرار دیا جائے۔
جبری تبدیلیٔ مذہب کا خاتمے کے لئے قانونی سازی کیا جائے
اقلیتی بچیوں کے تحفظ کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button