Women with disabilities should be recruited on priority basis, inclusion in local government should also be ensured


Faisalabad (94 News Bureau Report) By strengthening the implementation system on the 3% quota reserved for persons with disabilities, women with disabilities should be recruited on priority basis for the posts related to complaints cell, front desk officer, and information desk. Inclusion of persons with disabilities in the local government should be ensured. The system of registration of persons with disabilities should be facilitated through one-window operation. The system of coordination between government departments and offices related to persons with disabilities should be strengthened. Public buildings, public parks and shopping plazas should be made accessible to persons with disabilities. These demands were made by organizations working for the rights of persons with disabilities, including Awam Pakistan, DRAG, CBID Network and Chanon Network, during a media conference on the completion of 13 years of ratification of the United Nations Convention on the Rights of Persons with Disabilities, Shazia George, Sonia Patras, Alhaj Chaudhry Latif Gul.(Convener drag)Mian Iftikhar Ahmed(General Secretary Drag), and Muhammad Yunus(Individuals are mutually disabled)نے صحافیوں سے بات کرتے ہوئے کیے۔ شازیہ جارج نے کہا کہ گو کہ حکومت نے افراد باہم معذوری کے لئے کوٹہ مختص کر رکھا ہے، اور بہت ساری دوسری سہولیات کا اعلان بھی کیا ہوا ہے لیکن کوٹہ اور سہولیات تک رسائی جوئے شیر لانے کے مترادف ہے۔ خاص طور پر خواتین باہم معذوری کے لئے۔ مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ خواتین باہم معذوری کو مختلف حکومتی اسکیموں و کمیٹیوں میں نظر انداز کیا جاتا ہے نتیجتا خواتین باہم معذوری کے ہاں ترقی کا گراف بہت کم ہے۔ سونیا پطرس نے کہا کہ افراد باہم معذوری کے حوالہ سے حکومت کی طرف سے کوئی بھی واضع پالیسی ابھی تک نہیں دی گئی۔حکومت کی طرف سے مختلف کمیٹیوں کا اجرا تو کیا گیا ہے کہ لیکن کمیٹیوں کے کام کرنے کے لئے کسی بھی قسم کے فنڈز مختص نہیں کیے گئے۔ الحاج چوہدری لطیف گل نے کہا کہ سابقہ پانچ برسوں میں ہم نے 8219افراد باہم معذوری کو معذوری کا سرٹیفکیٹ حاصل کرنے میں معاونت کی ہے لیکن ابھی تک یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ افراد باہم معذوری اس سرٹیفیکیٹ اور معذوری والے مونوگرام والے شناختی کارڈ کو لے کر کہاں جائیں۔ مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ ہمارا دفتری نظام اور معاشرتی رویے افراد باہم معذوری کو بھیک مانگنے پر مجبور کر رہے ہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ ان کیلئے مختص ملازمتوں کے کوٹہ پر سختی سے عملدرآمد کروایا جائے اور ایسی تمام آسامیاں جن کا تعلق بیٹھ کر کام کرنے سے ہیں افراد باہم معذوری کے لئے مختص کر دی جائیں۔ میاں افتخار احمد نے کہا کہ افراد باہم معذوری سے متعلقہ کئی قسم کے ابہام ہیں۔ سرکاری ادارے اپنے اعداد و شمار کو ڈیجیٹل نہیں کر پائے جس کی وجہ سے افراد باہم معذوری کی اصل تعداد سامنے نہیں آ پائی۔ محمد یونس نمائندہ افراد باہم معذوری نے کہا کہ افراد باہم معذوری کو خیراتی کاموں تک محدود نہ رکھا جائے بلکہ ترقیاتی کاموں میں شامل کیا جائے۔ مزید بات کرتے ہوئے کہا کہ افراد باہم معذوری کے لئے آسان قرضہ اسکیموں کا اجرا جیسے اقدام افراد باہم معذوری کو با اختیار بنا کر ایک پروقار زندگی کی یقین دہانی کروا سکتے ہیں۔



