international

Dozens of police officers in the United States have resigned, and the situation has taken a new turn

New York (94 news) امریکا میں سیاہ فام شہری کی پولیس کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے۔ دس روز قبل شروع ہونے والے یہ مظاہرے امریکا کے بعد برطانیہ اور فرانس میں بھی پہنچ چکے ہیں۔ جاری ہنگاموں سے صورتحال نے ایک نیا رخ اختیار کرلیا ہے۔

امریکی شہر بفلو میں ہنگامی رسپانس پولیس کے اہلکاروں نے ایک بزرگ شہری کو دھکا دے کر گرایا تو شہری کے سر سے خون بہنے لگا، واقعے کی ویڈیو وائرل ہوئی تو حکام نے ہنگامی رسپانس فورس کے دو اہلکاروں کو معطل کردیا جس پر سکیورٹی فورس بھی باہم متحد ہوگئی اور حکومتی سلوک پر احتجاجا استعفیٰ دے دیا۔

امریکی میڈیا کے مطابق امریکی یونٹ کے تمام 55 ارکان مستعفیٰ ہوگئے ہیں۔ استعفیٰ دینے والے افسران کا کہنا تھا کہ وہ صرف احکامات پر عمل کر رہے تھے۔ زخمی ہونے والے مارٹن گوگینو نے اپنے بیان میں خود کو انسانی حقوق کا وکیل بتایا ہے۔ حکام کے مطابق اب اس شہری کی حالت خطرے سے باہر ہے۔

خیال رہے کہ امریکی ریاست منی سوٹا کے شہر مینی پولِس میں 25 May 2020 کو سفید فام پولیس اہلکار کے ہاتھوں 45 سالہ سیاہ فام شہری جارج فلوئیڈ ہلاک ہوگیا تھا۔ مینی پولس میں سفید فام پولیس اہلکاروں کے ہاتھوں سیاہ فام جارج فلائیڈ کے قتل کے بعد ہنگامے پھوٹ پڑے تھے جس نے امریکا کے کئی شہروں کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔

More

Related news

Leave a Reply

Close