National

آپ کی ہسپتال پر حملہ کرنے کی جرات کیسے ہوئی؟ جج کا وکیل کو سوال

Lahore(94 news) پی آئی سی حملے میں گرفتار وکلاء کی رہائی کی 4 درخواستوں پر آج سماعت ہوئی۔

جسٹس علی باقر نجفی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ درخواستوں پر سماعت کر رہا ہے۔درخواست میں آئی جی پنجاب سمیت دیگر کو فریق بنایا گیا ہے۔دوران سماعت اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ کا کہنا تھا کہ ابھی تک 81 افراد کو گرفتار کیا جا چکا ہے۔گرفتار وکلاء کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا،ہم کوئی بھارت سے جنگ لڑنے نہیں آئے۔جس پر جسٹس علی باقر نجفی نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ہاں،آپ نے ہسپتال پر حملہ کیا۔ آپ کی ہسپتال پر حملہ کرنے کی جراءت کیسے ہوئی؟ کیا آپ وضاحت دے سکتے ہیں کہ حملہ کیوں کیا گیا؟ جسٹس انورالحق پنوں نے کہا کہ کیا اس کی بھی توقع ہے کہ بار کونسل اس پر کوئی کارروائی کرے؟ جس پر اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ ہم نے ٹی وی پروگرامز میں مذمت کی ہے۔ جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپکے پروفیشن میں کالی بھیڑیں موجود ہیں۔آپ کو اندازہ ہی نہیں کہ ہم کس دکھ میں ہیں۔ہم بہت مشکل سے اس کیس کی سماعت کر رہے ہیں۔اگر آپ کہتے ہیں تو ابھی اس کیس کو ٹرانسفر کر دیتے ہیں۔دکھ اس بات کا ہے کہ آپ اس پر وضاحت دے رہے ہیں۔ اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے کہا کہ جی ہم مذمت کر رہے ہیں، جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ آپ سرعام تسلیم کریں کہ آپ نے لاہور بار میں پلاننگ کی۔اعظم نذیر تارڑ ایڈووکیٹ نے جواب دیا کہ ہم وکلاء کے خلاف کارروائی کرنے جا رہے ہیں۔جسٹس علی باقر نجفی نے کہا کہ ہمیں آپ نے کہیں کا نہیں چھوڑا ایسا جنگوں میں بھی نہیں ہوتا۔جسٹس انوار الحق پنوں نے کہا کہ ایک ویڈیو بڑی عجیب سی تھی جس میں کہا گیا کہ یہ ڈاکٹرز کی موت ہے۔واضح رہے کہ وکلاء نے بڑی تعداد میں پی آئی سی پر حملہ کیا تھا جس کے نتیجے میں مریضوں کو علاج نہ مل سکا اور 5 سے زائد مریض دم توڑ گئے تھے۔

More

Related news

Leave a Reply

Close