These cleaning hands are also the hands of Pakistan



Tremolo: Mian Nadeem Ahmed 94 news
ہم عید کی نماز کے لیے صاف ستھری سڑکوں سے گزرتے ہیں، مساجد اور بازاروں کے اطراف صفائی دیکھ کر اطمینان محسوس کرتے ہیں، گلیاں صاف ہوں تو اسے معمول سمجھ کر آگے بڑھ جاتے ہیں۔ لیکن کبھی ہم نے رک کر یہ سوچا ہے کہ جن ہاتھوں نے ہماری گلیاں، سڑکیں اور شہر صاف کیا، ان ہاتھوں کی حفاظت کون کر رہا ہے؟
فیصل آباد کی صفائی اور سیوریج کا نظام چلانے والے اداروں، خصوصاً فیصل آباد ویسٹ مینجمنٹ کمپنی اور واسا، میں بڑی تعداد میں ورکرز دن رات اپنی ذمہ داریاں انجام دیتے ہیں۔ ان میں ایسے کارکن بھی ہیں جو عرصہ دراز سے ڈیلی ویجز یا عارضی بنیادوں پر کام کر رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ جو شخص برسوں ایک ہی نوعیت کا کام کرتا رہے، ادارے کے لیے مستقل ضرورت بن چکا ہو، تو اس کے مستقبل کے بارے میں کب سوچا جائے گا؟ کئی کئی ماہ انکو تنخواہ نہیں ملتی اپنی تنخواہ لینے کیلئے انکو احتجاج کرنا پڑتا سڑکوں پر نکلنا پڑتا۔
یہ سوال صرف ملازمت کی مستقلی کا نہیں، بلکہ انسانی وقار، معاشی تحفظ اور مساوی مواقع کا بھی ہے۔
خاص طور پر مذہبی اقلیتوں سے تعلق رکھنے والے صفائی کارکنوں کے حوالے سے یہ تاثر اور شکایات سامنے آتی رہی ہیں کہ انہیں ملازمت اور دیگر معاملات میں بعض اوقات تحفظات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہاں یہ وضاحت ضروری ہے کہ تمام افسران یا تمام اداروں کو ایک ہی نظر سے دیکھنا درست نہیں۔ یقیناً بہت سے افسران اپنے فرائض دیانت داری اور انسان دوستی کے ساتھ ادا کرتے ہیں، لیکن جہاں کہیں کسی کارکن کے ساتھ ناانصافی کا احساس پیدا ہو، وہاں انتظامیہ کو اس کا نوٹس لینا چاہیے۔
کیونکہ آئین پاکستان کی نظر میں شہری کی قدر اس کے مذہب، رنگ یا طبقے سے نہیں بلکہ اس کی پاکستانی حیثیت سے ہوتی ہے۔
فیصل آباد میں مسیحی برادری سمیت مذہبی اقلیتیں شہر کی تعمیر و ترقی میں اپنا کردار ادا کر رہی ہیں۔ ویسٹ مینجمنٹ کمپنی ہو یا واسا، ان اداروں میں کام کرنے والے اقلیتی کارکن بھی اسی شہر کے رہنے والے ہیں، اسی ملک کے شہری ہیں اور اپنی محنت سے ملکی و شہری نظام کو چلانے میں حصہ ڈال رہے ہیں۔

ہماری عید آتی ہے تو یہی کارکن سڑکوں، بازاروں اور محلوں کی صفائی میں مصروف ہوتے ہیں۔ تہوار ہمارا ہو یا کسی اور کا، ان کے لیے ڈیوٹی کا وقت اکثر وہی ہوتا ہے جب باقی لوگ اپنے گھروں اور خاندانوں کے ساتھ خوشیاں منا رہے ہوتے ہیں۔
تو پھر سوال بالکل سادہ ہے:
جو ہماری خوشیوں کو صاف ستھرا بنانے کے لیے اپنا وقت اور محنت دیتا ہے، کیا اس کی زندگی اور عزت ہمارے لیے اتنی ہی اہم نہیں ہونی چاہیے؟
واسہ کے سیور مینوں کا معاملہ تو اس سے بھی زیادہ حساس ہے۔ سیوریج لائنوں اور گٹروں میں اترنا معمولی کام نہیں۔ یہ براہِ راست انسانی جان اور صحت سے متعلق معاملہ ہے۔ ماضی میں ایسے واقعات بھی سامنے آئے جن میں سیور مین اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ اس کے باوجود اگر کوئی کارکن مناسب حفاظتی سامان کے بغیر گٹر میں اترتا ہے تو یہ صرف ایک ملازم کا مسئلہ نہیں، بلکہ پورے نظام کے لیے سوال ہے۔
A man who descends into the gutter has not only a rope in his hands, but also the hopes of a family behind him.
Safety shoes, gloves, masks, helmets, suitable clothing, gas checking devices and other necessary safety measures are not an added convenience but a basic requirement for a worker. If the work is hazardous, protective equipment should also be mandatory.
Even more alarming is that if a worker refuses to enter the sewers due to lack of safety equipment, he is allegedly threatened with dismissal or action. If this is happening somewhere, this behavior needs immediate attention.
کسی انسان کو روزگار کے خوف اور جان کے خطرے میں سے ایک کا انتخاب کرنے پر مجبور نہیں کیا جانا چاہیے۔
Similarly, street sweepers are also an integral part of our city. Those working in dust, fumes, heat, cold and traffic should also have adequate protective jackets, gloves, masks, shoes and other necessary equipment. Their protection is not only the responsibility of the institution, but also the hallmark of a civilized society.
خوش آئند بات یہ ہے کہ ملک کی قیادت کی سطح پر مذہبی اقلیتوں کے حقوق، تحفظ اور فلاح کے لیے قانون سازی اور اقدامات کیے جا رہے ہیں۔ وزیر اعظم پاکستان ہوں یا وزیر اعلیٰ پنجاب، اقلیتوں کے حوالے سے مختلف مواقع پر مثبت اعلانات اور اقدامات سامنے آتے ہیں۔ اسمبلیاں بھی قانون سازی کرتی ہیں۔ یہ سب یقیناً قابلِ تحسین ہے۔
But the real success will come when the policy made from Islamabad and Lahore reaches the Faisalabad office, field and gutters.
Laws look beautiful in books, but their true spirit is seen when a common worker gets his due, when a sanitation worker is respected, when a sewerman is given safety gear and when a minority employee realizes that he is an equal citizen of the same country.
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ صفائی کرنے والا کارکن صرف ’’سینیٹری ورکر‘‘ نہیں، وہ بھی ایک انسان ہے۔ اس کے گھر میں بھی بچے ہیں، والدین ہیں، بیوی ہے، بہن بھائی ہیں، خواب ہیں اور مستقبل کی امیدیں ہیں۔ اس کی جان بھی اتنی ہی قیمتی ہے جتنی کسی دفتر میں بیٹھے افسر کی۔ فرق صرف اتنا ہے کہ ایک شخص فائلوں کے درمیان کام کرتا ہے اور دوسرا گلی، سڑک اور گٹر میں اتر کر شہر کو رواں رکھتا ہے۔
Management of Faisalabad Waste Management Company and WASA should conduct a transparent review of daily wages and long-serving workers' issues. Practical means should be found for the protection and permanence of their employment wherever laws and regulations permit. The concerns of workers belonging to religious minorities should also be heard and there should be an effective and impartial mechanism for redressal of any grievance.
ساتھ ہی واسا کے سیور مینوں اور ویسٹ مینجمنٹ کے فیلڈ ورکرز کے لیے حفاظتی سامان کی فراہمی کو کاغذی کارروائی نہیں بلکہ لازمی عملی ذمہ داری بنایا جائے۔ کیونکہ ترقی صرف نئی سڑکیں، پل اور عمارتیں بنانے کا نام نہیں۔
اصل ترقی یہ ہے کہ جو شخص وہ سڑک صاف کرتا ہے، وہ بھی محفوظ ہو۔ جو گٹر میں اترتا ہے، وہ بھی زندہ اور سلامت اپنے گھر واپس آئے۔ اور جو اقلیتی شہری پاکستان کی خدمت کر رہا ہے، اسے بھی برابر کا پاکستانی سمجھا جائے۔
ہم عید پر اپنے گھروں کو صاف کرتے ہیں، شہر کو صاف کرنے والے ان ہاتھوں کا خیال بھی رکھیں۔ یہ ہاتھ کسی دوسرے ملک کے نہیں۔ یہ پاکستان کے ہاتھ ہیں۔


