Pakistan in the world with 28.98 million tonnes of wheat 7 The thirty is ranked, Dr. Javed Ahmed

Faisalabad(94 News City Reporter) Utilizing the modern agricultural research of the developed countries of the world, the production per acre of various crops including wheat has increased significantly in Pakistan. Pakistan in the world with the production of 28.98 million tons of wheat 7 is on the th The introduction of 715 new varieties of low water and high heat tolerant crops to combat the challenges of climate change is a great achievement of agricultural scientists. Cultivation of these new varieties to the country's agriculture annually 2 سو ارب روپے سے زائد کا فائدہ ہورہا ہے۔ان خیالات کا اظہار چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کا وزٹ کرنے والے گوٹھ سنگھار فاؤنڈیشن خیرپور سندھ کے کاشتکاروں کے وفد سے اظہار خیال کرتے ہوئے کیا۔ گوٹھ سنگھار فاؤنڈیشن خیرپور سندھ کے کاشتکاروں میں چیئرمین گوٹھ سنگھار خیرپور سندھ علی محمد، ایس او ٹیکنیکل عبید اللہ خان، اسسٹنٹ نیک محمد، علی مراد، کامران حسین چھینہ، شرافت علی، ممتاز تبسم شر، زاہد حسین اور مشو علی ڈاہر شامل تھے۔ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد کی طرف سے وفد کے شرکاء کو بریفنگ دینے والوں میں چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد، ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ریسرچ ڈاکٹر قربان علی، ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ریسرچ، حافظ ڈاکٹر سعید الرحمن، سینئر سائنٹسٹ شعبہ کماد ڈاکٹر محمد نعیم اقبال اور ڈائریکٹر زراعت انفارمیشن فیصل آباد ڈاکٹر آصف علی شامل تھے۔ چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد نے سالانہ ویٹ پلاننگ میٹنگ میں شرکاء کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ امسال ادارہ کے زرعی سائنسدان گندم کی نئی اقسام سمیت ریسرچ کے دیگر پہلوؤں پر83 تجربات کریں گے۔ انہوں نے بتایا کہ چھوٹے کاشتکار روایتی تساہل پسندی اور کم علمی کے باعث گھریلو بیج استعمال کرتے ہیں جس کی وجہ سے فی ایکڑ پیداوار میں کمی واقع ہو جاتی ہے۔ ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ڈاکٹر قربان علی نے پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں، پنجاب سیڈ کارپوریشن اور محکمہ زراعت توسیع کے افسران پر زور دیا کہ وہ فصلوں کی منافع بخش کاشت کیلئے ادارہ کے زرعی سائنسدانوں کے تجربات کے نتیجہ میں مرتب کردہ جدید پیداواری ٹیکنالوجی کاشتکاروں کی دہلیز تک پہنچانے کے لئے تمام دستیاب وسائل بروئے کار لائیں۔ ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد نے گزشتہ سال ساڑھے تین لاکھ ٹن گندم کی نئی اقسام کا پری بیسک سیڈ پنجاب سیڈ کارپوریشن، پرائیویٹ سیڈ کمپنیوں اور ترقی پسند کاشتکاروں کو فراہم کیا گیا۔ بہتر موسمی حالات اور کاشتکاروں کی بھر پور رہنمائی اور ان کی محنت کی بدولت پنجاب میں گندم کی فی ایکڑ بہتر پیداوار حاصل ہوئی۔گزشتہ سال پنجاب میں گندم کے پیداواری مقابلوں میں ترقی پسند کاشکاروں نے80 من فی ایکڑ سے زیادہ پیداوار حاصل کی۔ ڈپٹی ڈائریکٹر ہیڈکوارٹر ڈاکٹر سعید الرحمن نے کاشتکاروں کو بتایا کہ زرعی تحقیقاتی ادارہ گندم کے زرعی سائنسدانوں نے شبانہ روز کاوشوں کے ذریعے ابتک گندم کی 92 Types are introduced. Wheat variety in Akbar 2019 41 Contains PPM zinc and is Pakistan's first zinc fortified variety. Nawab 22 and Zincol are also new varieties with high zinc content. Chief Scientist, Department of Wheat, Dr. Javed Ahmed, while giving more information in the briefing, said that balanced and proportionate use of chemical fertilizers in wheat crop is very important. Experiments have shown that the use of bio-fertilizers increases the yield per acre of wheat crop besides restoring soil fertility. The use of these organic fertilizers is reducing pollution caused by climate change and reducing production costs per acre for farmers. Wheat crop is indispensable for achieving country's food security and in this context the role of wheat agricultural scientists is of key importance. More than 80 percent of the country's total production of wheat is produced in Punjab. He recommended the farmers to utilize the experiences of agricultural scientists to increase the yield per acre of wheat under changing climatic conditions. Dr. Asif Ali, director of agricultural information, Faisalabad, while throwing light on wheat and barley cultivation issues, said that the newly approved varieties of wheat are Falak 2024, Sawira 2024, Urooj 2022, Durum 2021, Darkh 2020, Bhakkar Star, Fakhr Bhakkar, Nawab, Nishan and Akbar. 2019 In addition to barley varieties Pearl 2021, barley 2021 اور تلبینہ کے سرٹیفائیڈ بیج کے استعمال کو ترجیح دیں۔ انہوں نے مزید بتایا کہ پاکستان میں فصلوں کی پیداوار میں اضافہ کے قومی منصوبہ کے تحت پنجاب میں کاشتکاروں کو کسان کارڈ کے ذریعے ٹریکٹرز، سولر ٹیوب ویل اور زرعی مشینری کے علاوہ مختلف فصلوں کی نئی منظور شدہ اقسام کا معیاری بیج، جڑی بوٹی مار اور ضرر رساں کیڑوں کے بروقت انسداد کے لئے ملاوٹ سے پاک زرعی زہریں کاشتکاروں کی دہلیزِ تک پہنچائی جارہی ہیں۔ دھان کاشت کے علاقوں میں ایپی سیڈر بھی فراہم کئے جارہے ہیں تاکہ کاشتکار دھان کے مڈھوں و دیگر باقیات کو آگ لگانے کی بجائے ایپی سیڈر کے استعمال سے گندم کی بروقت کاشت کو یقینی بنائیں اور مڈھوں کو آسانی سے زمین میں ملاکر اپنی زمینوں کی زرخیزی میں بھی اضافہ کرسکیں۔ زرعی سائنسدانوں کی متعارف کردہ نئی اقسام کی کاشت کے فروغ سے فصلوں، سبزیوں، دالوں، چارہ جات اور پھلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ ممکن ہوگا جس سے ملکی فوڈ سکیورٹی کے حصول میں خاطر خواہ مدد ملے گی۔



