ٹریفک قوانین کا احترام، مہذب معاشرے کی پہچان


ٹریفک قوانین کا احترام، مہذب معاشرے کی پہچان
تحریر: میاں ندیم احمد
سڑک صرف سفر کا راستہ نہیں، یہ ہمارے اجتماعی شعور، نظم و ضبط اور تہذیب کا آئینہ بھی ہوتی ہے۔ کسی قوم کے مہذب ہونے کا اندازہ صرف اس کی بلند و بالا عمارتوں، جدید شاہراہوں یا ترقیاتی منصوبوں سے نہیں لگایا جا سکتا، بلکہ یہ بھی دیکھا جاتا ہے کہ اس قوم کے شہری ٹریفک قوانین کا کس قدر احترام کرتے ہیں۔ ہم اکثر ترقی یافتہ ممالک کی مثالیں دیتے ہیں کہ وہاں سڑکوں پر ٹریفک کس قدر منظم ہے، ہر شخص اپنی لین میں چلتا ہے، سگنل کی پابندی کرتا ہے، پیدل چلنے والوں کا خیال رکھا جاتا ہے اور قانون کی خلاف ورزی کو معمولی بات نہیں سمجھا جاتا۔ مگر سوال یہ ہے کہ ہم خود اپنے رویوں میں کتنی تبدیلی لانے کے لیے تیار ہیں؟
فیصل آباد جیسے بڑے صنعتی شہر میں ٹریفک کا دباؤ روز بروز بڑھ رہا ہے۔ سڑکوں پر گاڑیوں، موٹر سائیکلوں، رکشوں اور دیگر ذرائع آمدورفت کی تعداد میں اضافہ ہو رہا ہے۔ ایسے میں ٹریفک قوانین کی پابندی پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہو چکی ہے۔ اس سارے نظام میں ٹریفک وارڈنز کا کردار بھی انتہائی اہم ہے۔ شدید گرمی ہو، تیز دھوپ ہو، سردی کی یخ بستہ ہوائیں ہوں یا بارش کا موسم، ٹریفک وارڈنز کئی کئی گھنٹے سڑکوں پر کھڑے ہو کر ٹریفک کی روانی برقرار رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ دھوپ میں پسینہ بہاتے یہ اہلکار، بارش میں بھیگتے ہوئے، شہریوں کی سہولت کے لیے اپنی ذمہ داریاں ادا کرتے ہیں۔ ایسے اہلکار یقیناً ہماری حوصلہ افزائی اور احترام کے مستحق ہیں۔ تاہم یہ بھی حقیقت ہے کہ ہر شعبے کی طرح ٹریفک پولیس میں بھی چند ایسے اہلکار موجود ہو سکتے ہیں جو اپنی ذمہ داری پوری طرح ادا نہیں کرتے۔ چند لوگوں کی غفلت یا کام چوری کی وجہ سے پورے محکمے کو برا بھلا کہنا کسی طور مناسب نہیں۔ ضرورت اس امر کی ہے کہ اچھا کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو اور جو اہلکار فرائض میں کوتاہی کرتے ہیں، ان کی اصلاح اور احتساب بھی کیا جائے۔
فیصل آباد کے چیف ٹریفک آفیسر ناصر جاوید رانا کا ایک مثبت پہلو یہ ہے کہ وہ خود فیلڈ میں نکلتے ہیں، مختلف مقامات کا دورہ کرتے ہیں، ٹریفک کی صورتحال کا جائزہ لیتے ہیں اور شہریوں سے براہِ راست گفتگو بھی کرتے ہیں۔ ان کا عوام میں گھل مل جانا اور میڈیا کے ساتھ رابطہ رکھنا بھی ایک خوش آئند امر ہے۔ میڈیا کے ذریعے سامنے آنے والی شکایات اور مسائل پر نوٹس لینا اس بات کی علامت ہے کہ انتظامیہ عوامی آواز کو اہمیت دے رہی ہے۔

لیکن ٹریفک کا نظام صرف ٹریفک پولیس کے ذریعے بہتر نہیں ہو سکتا۔ اصل کامیابی اس وقت ممکن ہے جب شہری بھی اپنی ذمہ داری سمجھیں۔
آج بھی ہمارے ہاں بہت سے لوگ ہیلمٹ کو محض چالان سے بچنے کا ذریعہ سمجھتے ہیں، حالانکہ ہیلمٹ کسی پولیس اہلکار کے لیے نہیں بلکہ اپنی زندگی کے تحفظ کے لیے پہنا جاتا ہے۔ ایک لمحے کی غفلت زندگی بھر کا نقصان بن سکتی ہے۔ موٹر سائیکل چلانے والوں کو یہ بات سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ہیلمٹ قانون کی مجبوری نہیں، زندگی کی حفاظت ہے۔
اسی طرح ون وے کی خلاف ورزی بھی معمولی جرم نہیں۔ ایک شخص اگر چند منٹ بچانے کے لیے غلط سمت میں موٹر سائیکل یا گاڑی لے جائے تو وہ صرف قانون نہیں توڑتا بلکہ سامنے سے آنے والے شہری کی زندگی بھی خطرے میں ڈال دیتا ہے۔ ون وے کی خلاف ورزی حادثات کا سبب بنتی ہے اور کئی مرتبہ ایک غلط فیصلہ کئی خاندانوں کو مشکلات میں مبتلا کر دیتا ہے۔
افسوسناک بات یہ ہے کہ قانون توڑنے والوں میں بعض اوقات پڑھے لکھے لوگ بھی شامل ہوتے ہیں۔ عجیب منظر اس وقت دیکھنے کو ملتا ہے جب ایک شخص غلط سمت سے آ رہا ہو، اور سامنے سے قانون کی پابندی کرتے ہوئے آنے والے شہری کو ہی گھورنے لگے، جیسے غلطی اس کی نہیں بلکہ دوسرے شخص کی ہو۔ ہمیں اپنے رویے بدلنے ہوں گے۔ اگر ہم غلطی کریں تو اسے تسلیم کرنا بھی تہذیب ہے۔ قانون کی پابندی کرنے والے کو اپنا دشمن سمجھنا اور قانون توڑنے پر فخر کرنا کسی مہذب معاشرے کی علامت نہیں۔
فیصل آباد میں ٹریفک جام کی ایک بڑی وجہ موٹر سائیکل رکشوں اور دیگر چھوٹی گاڑیوں کی بے ہنگم نقل و حرکت بھی ہے۔ جہاں جگہ کم ہو، وہاں غیر منظم انداز میں رکشے کھڑے کرنا، سڑک کے درمیان مسافروں کو اتارنا یا سوار کرنا اور اچانک سمت تبدیل کرنا ٹریفک کے بہاؤ کو متاثر کرتا ہے۔ اس مسئلے کا حل صرف چالان نہیں بلکہ مؤثر انتظام، آگاہی اور مستقل نگرانی ہے۔
یہاں ایک اور شکایت بھی اکثر شہریوں کی جانب سے سامنے آتی ہے کہ بعض اوقات بلاوجہ چالان کیے جاتے ہیں۔ اگر کسی شہری کو واقعی قانون کی خلاف ورزی پر روکا جائے تو اسے قانون کا احترام کرنا چاہیے، لیکن اگر کوئی اہلکار بلاوجہ یا غیر ضروری کارروائی کرے تو اس شکایت کو بھی سنجیدگی سے دیکھا جانا چاہیے۔ قانون کا احترام اسی وقت پیدا ہوتا ہے جب قانون نافذ کرنے والا اور قانون پر عمل کرنے والا، دونوں اپنی اپنی ذمہ داری پوری کریں۔
اسی تناظر میں فیصل آباد میں ای چالان کا مؤثر نظام شروع کرنا ایک اہم قدم ثابت ہو سکتا ہے۔ جہاں خلاف ورزی کی واضح ریکارڈنگ اور شفاف طریقے سے کارروائی ہو، وہاں موقع پر ہونے والی تلخ کلامی اور شہریوں اور ٹریفک اہلکاروں کے درمیان جھگڑوں کے امکانات بھی کم ہو سکتے ہیں۔ ٹیکنالوجی کا استعمال شفافیت، احتساب اور اعتماد میں اضافے کا ذریعہ بن سکتا ہے۔
ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ ٹریفک پولیس اور شہری ایک دوسرے کے مخالف نہیں، بلکہ ایک ہی نظام کے دو اہم حصے ہیں۔ وارڈن کا مقصد شہری کو تنگ کرنا نہیں بلکہ سڑک کو محفوظ بنانا ہے، جبکہ شہری کا فرض ہے کہ وہ قانون کی پابندی کرے اور اہلکار کے ساتھ بھی مہذب رویہ اختیار کرے۔
آخر میں سب سے اہم بات ہمارے نوجوانوں کے لیے ہے۔
پاکستان کا نوجوان ہمارا مستقبل ہے۔ ہمارے نوجوان ہماری امید، ہماری طاقت اور ہمارا فخر ہیں۔ سڑک پر موٹر سائیکل چلاتے ہوئے ایک نوجوان صرف اپنی جان نہیں بلکہ اپنے والدین کی امیدیں بھی ساتھ لے کر چل رہا ہوتا ہے۔ اسے یہ سمجھنا ہوگا کہ تیز رفتاری، ون وے کی خلاف ورزی، ہیلمٹ سے گریز یا ٹریفک سگنل کی خلاف ورزی بہادری نہیں، بلکہ غیر ذمہ داری ہے۔
نوجوانو! آپ نے اس ملک کو آگے لے کر جانا ہے۔ آپ ہمیں درکار ہیں، آپ ہمارا مستقبل ہیں، آپ ہمارا فخر ہیں۔ اس لیے سڑک پر بھی اپنی ذمہ داری کا ثبوت دیں۔ ہیلمٹ پہنیں، سگنل کی پابندی کریں، ون وے کی خلاف ورزی نہ کریں، تیز رفتاری سے گریز کریں اور دوسروں کے حق کا بھی خیال رکھیں۔
یاد رکھیں، مہذب قومیں صرف تقریروں سے نہیں بنتیں، وہ اپنے روزمرہ کے رویوں سے پہچانی جاتی ہیں۔ اگر ہم واقعی ایک منظم، محفوظ اور مہذب پاکستان دیکھنا چاہتے ہیں تو تبدیلی کا آغاز ہمیں اپنی گاڑی، اپنی موٹر سائیکل اور اپنے رویے سے کرنا ہوگا۔
قانون کا احترام کریں، زندگی کا احترام کریں، دوسروں کا احترام کریں۔ یہی ایک مہذب معاشرے کی اصل پہچان ہے۔


