National

Student unions should be restored immediately and elections should be held, student union is the nursery of democracy, press conference of the leaders of Islamic Jamiat students at the press club in Faisalabad.

Faisal Aba d (94 news) اسلامی جمعیت طلبہ کے رہنماؤں عمیس عزیز ناظم اسلامی جمعیت طلبہ فیصل آباد ڈویژن، بلاول ندیم ناظم اسلامی جمعیت طلبہ زرعی یونیورسٹی فیصل آباد، رانا سکندر بخت ناظم اسلامی جمعیت طلبہ جی سی یونیورسٹی، اور منیب الرحمن کلیار ناظم اسلامی جمعیت طلبہ فیصل آباد نے پریس کلب فیصل آباد میں طلبہ یونین کی بحالی کے حوالے سے پریس کانفرنس کی۔ اسلامی جمعیت طلباء کےرہنماؤں نے سپریم کورٹ کے فیصلے اور آئین کے آرٹیکل 17 کی روشنی میں طلبہ یونین کو فوری بحال کرنے اور جلد از جلد انتخابات کروانے کا مطالبہ کیا۔ انہوں نے خیبر پختونخوا کے وزیر اعلٰی کی جانب سے طلبہ یونین کے انتخابات کے اعلان کو خوش آئند قرار دیا اور سندھ اسمبلی میں طلبہ یونین کی بحالی کی قرارداد کی منظوری کو سراہا۔ پریس کانفرنس میں اعلان کیا گیا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے لیے 21 نومبر کو تمام جامعات میں احتجاجی کیمپ لگائے جائیں گے، رہنماؤں نے کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی وقت کی اہم ضرورت ہے اور اس سے طلبہ کی نمائندگی اور مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔ پریس کانفرنس میں پرائیویٹ ہاسٹلز میں طلبہ کو درپیش مشکلات کے حل کے لیے چیک اینڈ بیلنس کے موثر نظام کے قیام پر زور دیا گیا۔ رہنماؤں نے کہا کہ پرائیویٹ ہاسٹلز میں نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے حکومت کو باقاعدہ پالیسی مرتب کرنی چاہیے، جس کے تحت تمام ہاسٹلز کے رجسٹریشن، سہولیات، اور فیسوں کے معاملات کو مانیٹر کیا جائے۔ اس نظام سے طلبہ کے تحفظ اور سہولیات کی فراہمی یقینی بنائی جا سکتی ہے۔انہوں نے جامعہ زرعیہ میں جیمرز کی وجہ سے انٹرنیٹ کی بندش کو تعلیمی سرگرمیوں میں رکاوٹ قرار دیتے ہوئے کہا کہ انٹرنیٹ موجودہ دور میں تعلیمی نظام کی ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتا ہے اور اس کی بندش سے طلبہ کے مسائل میں اضافہ ہو رہا ہے۔پریس کانفرنس میں یونیورسٹی میں ڈینز کی مستقل تعیناتی نہ ہونے کی وجہ سے تعلیمی امور متاثر ہونے کی نشاندہی کی گئی۔ رہنماؤں نے کینٹین کی ناقص حالت اور ہاسٹلز کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور فیسوں میں حالیہ اضافے کو واپس لینے کا مطالبہ کیا۔رہنماؤں نے کہا کہ طلبہ یونین کی بحالی کے ساتھ ساتھ تعلیمی اداروں کے مسائل حل کرنے کے لیے بھی فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔ انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ طلبہ کی فلاح و بہبود کے لیے ٹھوس اقدامات کرے تاکہ تعلیمی اداروں میں مثبت ماحول پیدا کیا جا سکے، مقررین نے کہا کہ طلبہ یونین جمہوریت کی نرسری ہیں۔ یونین نہ ہونے کی وجہ سے آج قائدین کی کمی کا سامنا کرنا پڑرہا ہے۔ پرتشدد سیاست نے جنم لے لیا ہے۔ پیسے کی دوڑ نے عام آدمی کو سیاست سے باہر پھینک دیا ہے۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button