Finance department is being developed on modern lines, DGFDA


Faisalabad (94News City Reporter) Director General Faisalabad Development Authority (FDA) محمد آصف چوہدری کی ہدایات پر ایف ڈی اے کے دیگر شعبوں کی طرح شعبہ مالیات کو بھی مکمل طور پر جدید خطوط پر استوار کیا جا رہا ہے تاکہ حسابات کے اندراجات، مختلف فیسوں اور واجبات کی وصولیوں، دفتری اخراجات اور دیگر مالیاتی لین دین میں مکمل شفافیت برقرار رکھنے کے ساتھ ساتھ دفتری امور کو مزید تیز رفتاری اور مؤثر انداز میں نمٹایا جا سکے.اس سلسلے میں ایک اجلاس ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے قیصر عباس رند کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں ڈائریکٹر آئی ٹی یاسر اعجاز چٹھہ، ڈپٹی ڈائریکٹر آئی ٹی عبداللہ نور، ڈپٹی ڈائریکٹرز فنانس افضال انصاری، عدنان شہزاد اور شعبہ مالیات کے دیگر افسران نے شرکت کی. اجلاس کے دوران ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے نے عالمی معیار کے مطابق مالیاتی نظم و نسق کے تقاضوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مالیاتی معاملات کو ہر قسم کی خامیوں، بے ضابطگیوں اور غیر ضروری تاخیر سے پاک رکھنا ناگزیر ہے، جس کے لیے جدید ٹیکنالوجی سے استفادہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل کے تقاضوں سے ہم آہنگ جدید سافٹ ویئر کی تیاری کے ذریعے مالیاتی امور کی نگرانی، ریکارڈ کی دیکھ بھال اور مختلف مالیاتی سرگرمیوں کو زیادہ مؤثر اور قابلِ اعتماد بنایا جا سکتا ہے، جس کے لیے متعلقہ شعبے کے ماہرین کی خدمات حاصل کی جائیں گی۔ انہوں نے شعبہ مالیات کے افسران کو ہدایت کی کہ مالیاتی امور کی ڈیجیٹلائزیشن کے لیے جامع تجاویز مرتب کی جائیں اور موجودہ نظام میں درپیش مسائل، خامیوں اور بہتری کے امکانات کی نشاندہی کرتے ہوئے جدید سافٹ ویئر کی تیاری کے لیے قابلِ عمل لائحہ عمل وضع کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجوزہ سافٹ ویئر میں آمدن و اخراجات کے اندراج، واجبات کی وصولی، ادائیگیوں کے ریکارڈ، بجٹ کی نگرانی اور مالیاتی رپورٹس کی تیاری کے نظام کو مربوط بنانے پر خصوصی توجہ دی جائے۔
قیصر عباس رند نے مزید ہدایت کی کہ تمام مالیاتی ریکارڈ کو درست، مکمل اور بروقت اپ ڈیٹ رکھنے کے لیے مؤثر طریقہ کار وضع کیا جائے تاکہ افسران کو مطلوبہ معلومات فوری دستیاب ہوں اور مالیاتی فیصلے مستند اعداد و شمار کی بنیاد پر کیے جا سکیں۔ انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ مالیاتی نظام میں شفافیت اور جوابدہی کو یقینی بنانے کے لیے ایسا ڈیجیٹل طریقہ کار متعارف کرایا جائے جس کے ذریعے ہر مالیاتی کارروائی کا مکمل ریکارڈ محفوظ رہے اور متعلقہ امور کی مؤثر نگرانی ممکن ہو۔ ایڈیشنل ڈائریکٹر جنرل ایف ڈی اے نے کہا کہ جدید مالیاتی نظام کے نفاذ سے نہ صرف دفتری امور میں تیزی اور کارکردگی میں بہتری آئے گی بلکہ دستی ریکارڈ پر انحصار کم کرنے، انسانی غلطیوں کی روک تھام اور ادارے کے مالی وسائل کے بہتر استعمال میں بھی مدد ملے گی۔ انہوں نے متعلقہ افسران کو ہدایت کی کہ اس منصوبے پر باہمی رابطے اور مربوط حکمت عملی کے تحت کام کیا جائے تاکہ ایف ڈی اے کے شعبہ مالیات کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرتے ہوئے ادارہ جاتی کارکردگی کو مزید بہتر بنایا جا سکے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔//۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔



