China found Asia's largest offshore gold deposit


Beijing (94 news) China has announced the discovery of gold deposits in the sea, which is being described as the largest undersea gold deposit in Asia so far. This important discovery was made in the sea near Laizhou, a coastal area of Yantai City in East China's Shandong Province.
According to the details, Laizhou's proven gold reserves after this discovery 3,900 tonnes, which accounts for nearly all of China's total gold reserves 26 Percentages are made. At the same time, Laizhou has become the leader in China, both in terms of gold reserves and production. However, the authorities did not reveal the exact amount of gold reserves discovered under the sea.
ساؤتھ چائنہ مارننگ پوسٹ کے مطابق یہ دریافت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب چین ملک بھر میں قیمتی دھاتوں کی تلاش کی مہم تیز کر رہا ہے، اور حالیہ مہینوں میں سونے کے بڑے ذخائر کی ایک کے بعد ایک دریافت نے یہ تاثر مضبوط کر دیا ہے کہ چین کے اصل سونے کے ذخائر، پہلے کے اندازوں سے کہیں زیادہ ہو سکتے ہیں۔
گزشتہ ماہ چین نے شمال مشرقی صوبے لیاؤ نِنگ میں اپنے پہلے سپر لارج مگر کم گریڈ سونے کے ذخیرے کی دریافت کا اعلان کیا تھا، جس کے تصدیق شدہ ذخائر 1,444.49 ٹن ہیں۔ وزارتِ قدرتی وسائل کے مطابق یہ 1949 میں عوامی جمہوریہ چین کے قیام کے بعد دریافت ہونے والا سب سے بڑا واحد سونے کا ذخیرہ ہے۔
اسی طرح نومبر میں سنکیانگ کے مغربی سرحدی علاقے کے قریب کُن لُن پہاڑی سلسلے میں بھی ایک سونے کا ذخیرہ دریافت کیا گیا، جس کے اندازاً ذخائر 1,000 ٹن سے زائد ہیں۔
November 2023 میں صوبہ شینڈونگ نے دعویٰ کیا تھا کہ چین کے تقریباً ایک چوتھائی سونے کے ذخائر اسی صوبے میں موجود ہیں، جن میں جیاوڈونگ پیننسولا کے 3,500 ٹن سے زائد ذخائر شامل ہیں۔ یہ علاقہ دنیا کی تیسری سب سے بڑی گولڈ مائننگ بیلٹ سمجھا جاتا ہے، اور لائیژو بھی اسی خطے میں واقع ہے۔
چین اس وقت دنیا میں سونے کی کان کنی کا سب سے بڑا ملک ہے۔ چائنا گولڈ ایسوسی ایشن کے مطابق گزشتہ سال چین میں سونے کی پیداوار 377 ٹن رہی۔ تاہم ثابت شدہ ذخائر کے معاملے میں چین اب بھی جنوبی افریقہ، آسٹریلیا اور روس جیسے ممالک سے پیچھے ہے۔
چین نے گزشتہ سال 115.99 ارب یوآن (About 16.47 ارب امریکی ڈالر) صرف جیولوجیکل ایکسپلوریشن پر خرچ کیے۔ وزارتِ قدرتی وسائل کے مطابق 2021 میں شروع ہونے والے موجودہ پانچ سالہ منصوبے کے آغاز سے اب تک معدنیات کی تلاش پر مجموعی اخراجات 450 ارب یوآن کے قریب پہنچ چکے ہیں، جن کے نتیجے میں 150 معدنی ذخائر دریافت کیے گئے۔
یہ تمام دریافتیں ایسے وقت میں سامنے آ رہی ہیں جب عالمی منڈی میں سونے کی قیمتیں مسلسل بلند ہو رہی ہیں۔ کرنسیوں میں عدم استحکام، جغرافیائی کشیدگی اور خاص طور پر ابھرتی معیشتوں کے مرکزی بینکوں کی جانب سے سونے کی جارحانہ خریداری نے قیمتوں کو اوپر دھکیل دیا ہے۔ جمعے کو دوپہر کے وقت عالمی منڈی میں سونے کی قیمت 4,338.3 ڈالر فی اونس تک پہنچ گئی۔



