Background of Islamabad talks and diplomats


94 news تحریر ارشد فاروق
۔۔۔۔ قالین باف اور قالین فروش ۔۔۔
اس میں خبر کوئی بڑی نہیں ہے مگر یہ آپ کو ایک زاویہ یا لینز ضرور مہیا کرے گی. اپنا بطور طالب علم، ڈپلومیسی کی دنیا اور تھنک ٹینکس سے گہرا رابطہ ہے. 14 برس قبل لندن میں خود تھنک ٹینک اسٹیبلش کیا تھا جس کے بعد سے چیتھم ہاؤس، روسی، بروکنگز، رینڈ وغیرہ بہت آنا جانا رہا ہے. یہ مضمون مختلف ممالک سے تعلق رکھنے والے 9 سفارتکاروں اور تھنک ٹینکس کے دماغوں سے اسلام آباد مذاکرات کے حوالے سے ڈونگھی بات چیت کے بعد لکھ رہا ہوں. کوشش ہے کہ زیادہ بوجھل نہ ہو. ایک برطانوی ماہر نے بہت دلچسپ بات کی. ایرانی وزیر خارجہ عراقچی قالین بیچنے والے کا پوتا ہے۔ سپیکر قالیباف دکاندار کا بیٹا ہے. امریکی نائب صدر وینس اوہائیو کے مزدور طبقے کا بیٹا ہے. اسلام آباد میں جب یہ دونوں آمنے سامنے بیٹھے تو دراصل دو تہذیبیں بیٹھی تھیں جن کے مذاکرات کے اصول ایک دوسرے سے بالکل مختلف ہیں۔وال سٹریٹ جرنل نے عراقچی کا پروفائل شائع کیا تھا جس میں بتایا کہ وہ اپنی سفارتکاری کو ایرانی بازار کی سودے بازی سے تشبیہ دیتے ہیں: “مسلسل بحث کرو، متعدد دلائل دو، نتیجہ آئے گا۔” اسپینی سفارت کار اینریکے مورا جو ایٹمی معاہدے کے مذاکرات میں شامل تھے، نے بتایا کہ عراقچی کا اصل مقصد ہمیشہ پابندیاں ہٹوانا اور معیشت مستحکم کرنا رہا ہے مگر وہ اندرونی سیاسی یا سماجی اصلاحات کی کوئی علامت نہیں دکھاتے۔ سابق امریکی عہدیداروں نے عراقچی کو “پیشہ ور اور عملی” بتایا مگر ساتھ یہ بھی کہا کہ وہ وقت پڑنے پر “تصادمی حکمت عملی” بھی اختیار کرتے ہیں۔ یعنی ٹکر دے مارو. انٹرنیشنل انسٹی ٹیوٹ فار سٹریٹیجک سٹڈیز کی محقق دینا اسفندیاری نے لکھا تھا: “ایرانی مذاکرات اس طرح کرتے ہیں جیسے وہ بازار میں ہوں۔ مغربی لوگ مذاکرات اس طرح کرتے ہیں جیسے وال مارٹ ڈیپارٹمنٹ سٹور میں خریداری کر رہے ہوں۔ یہ دونوں طریقے اس قدر مختلف ہیں کہ اصل نتیجے تک پہنچنا مشکل ہے۔فرق سمجھیں۔ وال مارٹ میں قیمت لکھی ہوتی ہے۔ آپ دیکھتے ہیں، لیتے ہیں یا چھوڑ دیتے ہیں۔ سودے بازی نہیں ہوتی۔ بازار میں قیمت نہیں لکھی ہوتی۔ دکاندار زیادہ بولتا ہے، خریدار کم بولتا ہے، پھر بات چیت سے درمیان کا نقطہ نکلتا ہے۔ پہلی قیمت بتانے کا مقصد فوری نتیجہ نہیں، اگلی بحث کا دائرہ متعین کرنا ہے ایرانی مذاکراتی طرز کی بنیاد اسی بازاری اصول پر ہے۔ سوئس فیڈرل انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی نے ایرانی مذاکراتی رویے پر ایک تحقیقی مقالہ شائع کیا تھا جس کا عنوان تھا “ایرانی مذاکراتی رویے کے سرچشمے”۔ اس مقالے میں ایک بنیادی اصول بیان کیا گیا: “ایرانی سیاست میں مذاکرات صرف دشمن کو شکست دینے کے بعد کیے جاتے ہیں۔ ان مذاکرات میں فاتح مغلوب کو بتاتا ہے کہ آگے چیزیں کیسے چلیں گی۔ فتح سے پہلے بات کرنے کی خواہش ظاہر کرنا ایرانی نگاہ میں کمزوری ہے یہی وہ اصول ہے جو اسلام آباد مذاکرات میں کام کر رہا تھا۔ ایران آبنائے ہرمز بند کر کے بیٹھا تھا۔ دنیا کے بیس فیصد تیل کی ترسیل رکی ہوئی تھی۔ دنیا کی گردن ہاتھوں میں ہے. ایران کی نگاہ میں یہ فتح ہے۔ لہذا وہ فاتح کی حیثیت سے شرائط بتا رہا ہے۔ چار “ناقابل مذاکرات” مطالبات: آبنائے پر مکمل خودمختاری، جنگی تاوان، منجمد اثاثوں کی واپسی، اور پورے مغربی ایشیا میں جنگ بندی۔ مغربی تجزیہ کار اسے “حقیقت سے دوری” کہتے ہیں۔ ایرانی اسے “فاتح کی شرائط” کہتے ہیں۔ اسی تحقیقی مقالے میں ایک بہت ضروری نفسیاتی نکتہ ہے جو اسلام آباد مذاکرات پر براہ راست لاگو ہوتا ہے: “When 1979 میں ایرانی دہشت گردوں نے امریکی سفارت خانے کے عملے کو یرغمال بنایا تو اصل منصوبہ صرف چند دن رکھنے کا تھا۔ صدر کارٹر نے فوری طور پر بحران ختم کرنے کے لیے مذاکرات کی پیش کش کی۔ ایرانیوں نے امریکی ردعمل کو خوف سمجھا۔ کوئی فتح سے پہلے مذاکرات نہیں مانگتا۔ یرغمالیوں نے دیکھا کہ ان کے پاس اچھی چیز ہے تے فیر تن کے رکھو اور بحران 444 دن تک چلا۔” آبنائے ہرمز مارچ 2026 سے یرغمال ہے۔ ایران جانتا ہے کہ جب تک آبنائے ہرمز بند ہے، اس کے پاس ڈیل کرنے کے لیے “اچھی چیز” ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے لکھا: “ایرانی حکومت خفیہ اور بالواسطہ مذاکرات ترجیح دیتی ہے تاکہ معلومات کے بہاؤ پر کنٹرول رہے، وقت خریدا جائے اور مخالف فریق تھک جائے۔” یہی وہ “فارسی صبر” ہے جو سفارتکاروں نے بھی نوٹ کیا: “ایرانی مذاکرات کار طویل مذاکرات کو فائدہ مند سمجھتے ہیں اور شیعہ عقیدے کی بنیاد پر صبر کی فضیلت پر یقین رکھتے ہیں۔” فارسی کہاوت ہے: “پانی گدلا کرو، مچھلی پکڑ سکو گے۔” اب امریکی طرز مذاکرات دیکھیں۔ ٹرمپ کا طرز سودے بازی نہیں، الٹی میٹم ہے۔ “بغیر شرط ہتھیار ڈال دو” سے شروع ہوا۔ “پوری تہذیب آج رات ختم ہو جائے گی” تک پہنچا۔ “آخری اور بہترین پیش کش” پر رکا۔ یہ بازار نہیں، نیلامی ہے جہاں ایک فریق قیمت بتاتا ہے اور دوسرے کو “ہاں یا نہیں” کہنا ہوتا ہے۔ مگر ایرانی “ہاں یا نہیں” نہیں کہتے۔ وہ “شاید” کہتے ہیں، “دیکھتے ہیں” کہتے ہیں، “وقت لگے گا” کہتے ہیں۔ اور جب تک “شاید” ہے، بازار کھلا ہے۔واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ سے میرے دوست نے کہا کہ ایران “مبہم اور تاخیری حکمت عملی” استعمال کرتا ہے اور مذاکرات کو “وقت خریدنے اور مخالف فریق کے عزم کو جانچنے” کے لیے استعمال کرتا ہے۔ الحبتور ریسرچ سنٹر نے اسلام آباد مذاکرات سے پہلے ایک تفصیلی تجزیہ شائع کیا تھا جس میں “بازار ڈپلومیسی” کو ایک مکمل نظریے کے طور پر بیان کیا: “یہ سطحی تجارتی سودے بازی سے بہت آگے ہے اور ایک ریاستی حکمت عملی کے طور پر کام کرتی ہے جو طاقت کی عدم توازن کو نیویگیٹ کرنے اور فوجی اور اقتصادی برتری رکھنے والے حریفوں کا مقابلہ کرنے کے لیے تیار کی گئی ہے۔” چیتھم ہاؤس والے دوست نے بڑی گہری بات کی”اگر یہ طویل اور دائرے میں چلنے والے مذاکرات، چاہے رکے ہوئے ہوں، امریکی یا اسرائیلی پہلے سے حملوں کو روکنے میں کامیاب ہوں تو انھوں نے اپنا بنیادی سلامتی مقصد پورا کر لیا۔ اسی طرح اگر سفارتی عمل پاسداران انقلاب کو اسٹریٹیجک میزائل ذخائر دوبارہ بنانے کے لیے مہینے فراہم کرے، سیاسی قیادت کو اقتصادی جھٹکا جذب کرنے کا وقت دے، اور بین الاقوامی فوجی مداخلت کو روکے، تو ایرانی حکمت عملی اپنے عملی اور وجودی اہداف مکمل طور پر حاصل کر لے گی۔” یعنی ایران کے لیے مذاکرات کا مقصد مذاکرات ہی ہیں۔ نتیجہ نکلے یا نہ نکلے، جب تک بات ہو رہی ہے بم نہیں گر رہے۔ اور جب تک بم نہیں گر رہے، وقت مل رہا ہے۔ اور وقت ایران کا سب سے بڑا ہتھیار ہے۔
اب اس فریم ورک سے اسلام آباد مذاکرات دیکھیں۔
وینس نے 21 گھنٹے بیٹھ کر “آخری اور بہترین پیش کش” دی اور واپس چلا گیا۔ یہ امریکی طرز ہے: الٹی میٹم دو اور چلے جاؤ۔ “ہاں یا نہیں” کہو۔ وقت ضائع نہ کرو۔ غالیباف نے جواب دیا: “امریکہ ہمارا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔ فیصلہ ان کا ہے۔” ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا: “ایک نشست میں معاہدے کی توقع فطری نہیں تھی۔” ایران نے کہا: “سفارتکاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔” یہ ایرانی طرز ہے: دروازہ بند نہ کرو، وقت لو، “شاید” کہو، اگلے دور کا انتظار کرو۔ عراقچی نے بی بی سی کو بتایا کہ وہ برلن، پیرس اور لندن سے بات کرنا چاہتے ہیں۔ یہ بھی ایرانی حکمت عملی ہے۔ واشنگٹن انسٹی ٹیوٹ نے لکھا: “ایران نے تاریخی طور پر انفرادی ممالک پر دباؤ ڈال کر یا ترغیبات دے کر اتحادیوں میں تقسیم ڈالنے کی کوشش کی ہے۔” یورپ کو شامل کرنے کا مقصد امریکی اتحاد میں دراڑ ڈالنا ہے۔ اگر فرانس اور جرمنی علیحدہ بات کریں تو ٹرمپ کی “آخری اور بہترین پیش کش” مزید آخری نہیں رہتی۔ مگر امریکی طرز کی بھی اپنی کمزوری ہے۔ ایم ایس ناؤ نے لکھا کہ وینس کو “ٹرمپ کے مسلسل بدلتے اہداف” کا مقابلہ کرنا پڑا۔ ایک دن مقصد ایٹمی ہتھیار روکنا تھا، ایک دن نظام بدلنا تھا، ایک دن آبنائے ہرمز کھولنا تھا، ایک دن “مجھے فرق نہیں پڑتا” تھا۔ ایرانی اسے بخوبی سمجھتے ہیں۔ اسی تحقیقی مقالے میں لکھا: “ایرانی بہت وقت اس بات پر لگاتے ہیں کہ کس فریق کے پاس واقعی طاقت ہے۔” جب صدر کہے “فرق نہیں پڑتا” اور نائب صدر کہے “ہم لچکدار تھے” تو ایرانی سمجھتے ہیں کہ امریکی اندرونی طور پر منقسم ہیں۔ اور جب فریق منقسم ہو تو بازار کا اصول لاگو ہوتا ہے: مزید صبر کرو، قیمت نیچے آئے گی۔
ایک اور فرق ہے جو بنیادی ہے۔ یہ ہم پاکستانیوں کو زیادہ جلدی سمجھ میں آئے گا. ایران میں زرنگی (چالاکی) کی بہت قدر کی جاتی ہے۔ ایرانی مذاکرات کار بیانیے میں ہیرا پھیری، دھمکی، بلف اور غلط معلومات کو جائز حکمت عملی سمجھتے ہیں، مخالف کو مات دینا فخر اور سماجی سرمائے کا ذریعہ ہے۔” امریکی طرز اس کے برعکس ہے: واضح مطالبات، واضح ڈیڈ لائن، واضح نتائج۔ مگر واضح ہونے کا مطلب یہ بھی ہے کہ آپ کا ہاتھ دکھائی دے رہا ہے۔ ایرانی ہاتھ نہیں دکھاتے۔ وہ بازار کے دکاندار کی طرح چہرے کے تاثرات بدلتے ہیں، کبھی ناراضگی دکھاتے ہیں، کبھی بے رخی، اور جب خریدار جانے لگتا ہے تو پیچھے سے آواز دیتے ہیں: “آؤ بھائی، کچھ اور بات کرتے ہیں۔”وہ افغانی قالین بیچنے والے تو آپ کو یاد ہوں گے ناں؟؟ اور ایران قالین بیچنے والوں کا باپ ہے. غالیباف نے بالکل یہی کیا ہے۔ وینس جا رہا ہے۔ غالیباف پیچھے سے بول رہا ہے: “سفارتکاری کبھی ختم نہیں ہوتی۔ پاکستان اور دوست پڑوسی ممالک سے مشاورت جاری رہے گی۔” یہ بازار کا دکاندار ہے جو جانتا ہے کہ خریدار واپس آئے گا کیونکہ اس کے پاس وہ مال ہے جو کہیں اور نہیں ملتا: آبنائے ہرمز۔ تو اسلام آباد میں کیا ہوا؟
ایک طرف بازار تھا جو مانتا ہے کہ پہلی قیمت مسترد ہوتی ہے اور اصل بات بعد میں ہوتی ہے۔ دوسری طرف نیلامی تھی جو مانتی ہے کہ “آخری اور بہترین” کے بعد کچھ نہیں ہوتا۔ درمیان میں ثالث تھا جو مانتا ہے کہ نہ پہلی قیمت آخری ہے نہ نیلامی کا ہتھوڑا گرا ہے۔ نتیجہ وہی نکلا جو نکلنا تھا: بازار والے نے کہا “پھر آؤ”، نیلامی والے نے کہا “ہم جا رہے ہیں”، اور ثالث نے کہا “دروازہ کھلا ہے۔”فارسی کہاوت ہے: “پانی گدلا کرو، مچھلی پکڑ سکو گے۔” امریکی کہاوت ہے: “میز پر پیسے رکھو یا اٹھ جاؤ۔” پاکستانی کہاوت ہے: “صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔”اسلام آباد کا پھل ابھی کچا ہے۔ پکنے میں وقت لگے گا۔ مگر درخت ابھی کھڑا ہے۔ اور درخت کھڑا ہے تو پھل آئے گا۔
Note: The organization does not have to agree with the columnist.


