

Shenzhen (94 news) شہبازشریف نے کہا ہے کہ پاکستان جدید ٹیکنالوجی سے ملکی زرعی شعبے کی پیداوار اور زرعی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے، چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت و دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ کا خواہاں ہیں۔
وزیراعظم شہباز شریف نے چین کی کمیونسٹ پارٹی کے شینزن کے سربراہ اور صوبہ گوانگ ڈونگ کے نائب سربراہ مینگ فینلی سے شینزن میں ملاقات کی، ملاقات میں مینگ فین لی نے وزیراعظم کا شینزن آنے پر خیرمقدم کیا اور انہیں شینزن کے حوالے سے تفصیلی طور پر آگاہ کیا۔
محمد شہبازشریف نے کہا کہ کئی برس بعد شینزن آکر دلی خوشی ہوئی، شینزن کی حکومت اور اس کے عوام کی مہمان نوازی پر مشکور ہوں، پاکستان اور چین کی دوستی ہمالیہ سے اونچی، سمندر کی گہرائی جتنی گہری اور شہد سے میٹھی ہے، پاکستانی قیادت اور عوام ہر مشکل وقت میں چین کے تعاون پر چینی قیادت اور اس کے عوام کی مشکور ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان چین کی ون چائنہ پالیسی کی بھرپور حمایت کرتا ہے، شینزن لاہور کا سسٹر شہر اور گوانگ ڈونگ پنجاب کا سسٹر صوبہ ہے، پاکستان چین کی ترقی سے بہت متاثر ہے اور چین کی ترقی سے سیکھنا چاہتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ہماری حکومت سی پیک کے دوسرے مرحلے میں پاکستانی اور چینی کمپنیوں کے اشتراک اور سرمایہ کاری سے ملکی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے، اپنے دورے کے شینزن سے آغاز کا مقصد شینزن کی ترقی بالخصوص انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کی ترقی سے سیکھنا ہے۔
محمد شہبازشریف کا مزید کہنا تھا کہ کہ پاکستانی حکومت جدید ٹیکنالوجی سے ملکی زرعی شعبے کی پیداوار اور زرعی برآمدات میں اضافے کیلئے کوشاں ہے، پاکستان چین کے ساتھ انفارمیشن ٹیکنالوجی، مصنوعی ذہانت، جدید زراعت و دیگر شعبوں میں اشتراک کے فروغ کا خواہاں ہے۔



