فیصل آباد: قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی اور تقریباََ 50 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات شہزاد انٹرنیشنل فیکٹری میں پھینکنے کا سنگین واقعہ

پولیس کارروائی کرنے کے بجائے ان کی درخواست وصول نہیں کررہی،مقدمہ درج کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے، پریس کانفرنس میں انکشاف
تمام شواہد بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، قرآن پاک اور زیورات ایس ایچ او ملت ٹاؤن مظہر عرفان اور ڈی ایس پی رانا ندیم اقبال کے حوالے کیے مگر پولیس مقدمہ درج کرنے سے انکار کر رہی ہے، اعجاز رضا مالک فیکٹری

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹ) بھائی والا روڈ پر واقع شہزاد انٹرنیشنل فیکٹری میں قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی اور تقریباََ 50 لاکھ روپے مالیت کے طلائی زیورات پھینکنے کا سنگین واقعہ سامنے آیا ہے۔ فیکٹری کے مالک اعجاز رضا نے فیصل آباد پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے ملت ٹاؤن پولیس پر سنگین الزامات عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ انہوں نے تمام شواہد بشمول سی سی ٹی وی فوٹیج، قرآن پاک اور زیورات ایس ایچ او ملت ٹاؤن مظہر عرفان اور ڈی ایس پی رانا ندیم اقبال کے حوالے کیے مگر پولیس نہ صرف مقدمہ درج کرنے سے انکار کر رہی ہے بلکہ مبینہ طور پر زیورات خرد برد کرنے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ اعجاز رضا کے مطابق وہ شہزاد انٹرنیشنل کے نام سے پولی بیگ اور زِپ کی خرید و فروخت اور مینوفیکچرنگ کا کاروبار کرتے ہیں اور ان کی فیکٹری گھونہ روڈ چک نمبر 202 رب بھائی والا پر قائم ہے۔ مورخہ 27 جولائی 2025 کو تقریبا 4:30 بجے شام وہ اپنے جنرل منیجر اعجاز احمد ورک، اکاؤنٹنٹ سمیع اللہ اور دیگر عملے کے ہمراہ دفتر میں موجود تھے کہ گیٹ کے قریب ایک مشکوک چیز ان کی نظر میں آئی۔ قریب جا کر معائنے پر سبز غلاف میں لپٹا قرآن پاک اور ایک تھیلی میں 132 گرام طلائی زیورات برآمد ہوئے، جن کی مالیت تقریبا 50 لاکھ روپے بنتی ہے۔انہوں نے بتایا کہ انہوں نے فوری طور پر فیکٹری کی سی سی ٹی وی فوٹیج دیکھی جس میں ایک نامعلوم خاتون اور مرد کو قرآن پاک اور زیورات گیٹ کے اوپر سے اندر پھینکتے دیکھا جا سکتا ہے۔ انہوں نے یہ فوٹیج اور تمام شواہد پولیس کے حوالے کیے مگر ان کا کہنا ہے کہ پولیس نے کارروائی کرنے کے بجائے ان کی درخواست وصول نہیں کی اور مقدمہ درج کرنے سے گریز کیا جا رہا ہے۔ اعجاز رضا نے الزام لگایا کہ پولیس جان بوجھ کر ایف آئی آر درج نہیں کر رہی کیونکہ پولیس مبینہ طور پر 50 لاکھ روپے مالیت کے زیورات خرد برد کرنا چاہتی ہے۔ ان کے مطابق پولیس حکام کا موقف ہے کہ قرآن پاک کو اوپر سے پھینکنا توہینِ قرآن کے زمرے میں نہیں آتا، صرف قرآن کو پھاڑنے یا نقصان پہنچانے کی صورت میں ہی مقدمہ درج ہو سکتا ہے۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ انہیں شبہ ہے کہ ان کے سابقہ ملازمین جن میں عثمان سلیم، محسن نعیم، نعمان، محمد عادل مصطفی، شاہ زیب شمار، شفیق نیاز اور جمیل شامل ہیں، مخالفین کے ساتھ مل کر اس سازش میں ملوث ہیں۔ ان کے مطابق مذکورہ افراد کے خلاف پہلے ہی امانت میں خیانت اور جعلسازی کے مقدمات عدالت میں زیر سماعت ہیں اور یہ کارروائی انہیں بدنام کرنے اور مالی نقصان پہنچانے کی منصوبہ بندی کا حصہ ہے۔اعجاز رضا نے واضح کیا کہ اگر مقدمہ درج کر کے اس سنگین بے حرمتی کے مرتکب افراد کے خلاف فوری قانونی کارروائی نہ کی گئی تو وہ شہر کی مذہبی اور سیاسی قیادت سے رابطہ کریں گے اور احتجاج کا حق محفوظ رکھتے ہیں۔ انہوں نے وزیر اعلی پنجاب، آئی جی پنجاب اور سی پی او فیصل آباد سے مطالبہ کیا کہ قرآن پاک کی مبینہ بے حرمتی اور 50 لاکھ روپے مالیت کے زیورات کی خرد برد کے معاملے پر فوری مقدمہ درج کر کے شفاف تحقیقات کرائی جائیں۔



