کالم

اسلام آباد مذکرات، پاکستان کی سفارتی کوششیں، ثالثی کردار، مخصوص طبقہ کی نکتہ چینی بلاجواز تنقید

اسلام آباد مذکرات ، پاکستان کی سفارتی کوششیں ، ٹالتی کردار ، مخصوص طبقہ کی نکتہ چینی بلاجواز تنقید
94 نیوز کالم نگار: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
پاکستان کی میزبانی میں ہونے والے امریکہ ایران امن مذاکرات خوش آئند ہیں. جس سے پاکستانی قوم کے وقار میں اضافہ ہوا ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ پاکستان امن کا داعی بن کر ابھرا ہے۔ دنیا میں یہ ثابت ہو گیا ہے کہ پاکستان ایک پر امن ملک ہے۔ اور دنیا میں امن و امان کے قیام کے لیے اپنا بھر پور کردار ادا کرتا ہے۔ آج دشمن بھی پاکستان کے مثبت کردار کو سراہنے پر مجبور ہو گئے ہیں۔ امریکہ ایران کا مذاکرات کے لیے اسلام آباد آبا ایک بڑی کامیابی ہے۔ جس سے سے دنیا بھر میں رہنے والے پاکستانیوں کا سر فخر سے بلند ہو گیا ہے ۔ ایرانی وفود اور صدر کے طیارے کو جس حفاظتی حصار میں تہران سے اسلام آباد ایئر پورٹ پر لایا گیا ھے ۔ اس فقید المثال استقبال کی تاریخ میں مثال نہیں ملتی ہے ۔ پاکستان نے دنیا کو باور کرایا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران پاکستان کا ایک بردار ھمسایہ مسلم ملک ہے ۔ ایران تنہا نہیں پاکستان اس کے ساتھ کھڑا ہے ۔ پاک فضائیہ کے اس عظیم الشان حصار سے سب سے زیادہ تکلیف اسرائیل کو ھوئی ۔ اسرائیل ان نامساعد تشویشناک حالات سے فایدہ اٹھاتے ہوئے ایرانی وفود کے طیارے کو نقصان پہنچا سکتا تھا ۔ اسلام آباد میں شرارت کرسکتا تھا ۔ افواج پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے اسرائیلی شرارت سے نمٹنے کے لیے اپنی طرف سے پوری تیاری کر رکھی تھی ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی اسلام آباد عالمی نوعیت کے مذکرات سے بڑی جلن محسوس کررھے تھے ۔ دکھ کی بات یہ پاکستان میں ایک ایسا طبقہ پیدا ھوچکا ھے ۔ جو پاکستان کے وقار کی بجائے اسرائیل بھارت کے موقف کی تائید کرتا رھتا ھے ۔ حقیقی تبدیلی حقیقی آزادی کے علمبردار طبقہ کے سوشل میڈیا اور شعبدہ باز ویلاگرز نے پاکستان کے خلاف یوٹیوب پر خوب جھوٹا زھریلا پروپیگنڈہ کیا ۔ ان سوامی پنڈت ویلاگرز نے وھی بکواس کرتے رہے جو مودی سرکار کا میڈیا اسلام آباد مذکرات کے خلاف بکتا رہا ۔ تاریخ ساز مذکرات کے انعقاد سے یہ امید پیدا ھوئی کہ وہ وقت گزر چکا جب ہمارے 70 فیصد دفاعی اخراجات امریکا کو جاتے تھے۔ اسلام آباد مذاکرات سے پاکستان یہ کریڈٹ ملکی معیشت سنوارنے کے لیئے بروئے کار لا سکتا ھے ۔ آمریکی نائب صدر جے ڈی وینس اسلام آباد میں ایرانی وفد کے ساتھ 21 گھنٹے تک مذاکرات کے بعد بنا کسی معاہدے کے نور خان ایئر بیس سے واپس روانہ ہوئے تو اپنے پیچھے کئی سوالات چھوڑ گئے۔ کیا مذاکرات ختم ہو گئے یا ابھی بات چیت جاری رہے گی؟ جنگ بندی کا مستقبل کیا ہو گا؟ امریکہ کا اگلا لائحہ عمل کیا ہو گا؟ جے ڈی وینس نے روانگی سے قبل ایک تین منٹ کے مختصر پریس کانفرنس کی۔ جس کا مرکزی نکتہ یہ تھا کہ ایران سے کوئی حتمی معاہدہ نہیں ہو سکا۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ روانگی سے چند لمحے قبل امریکی نائب صدر کو اسرائیلی وزیر اعظم کی ایک فون کال آئی تھی ۔ وینس کا کہنا تھا کہ ہم ایسی جگہ نہیں پہنچ پائے جہاں ایران ہماری شرائط تسلیم کرتا۔ایران کو جوہری ہتھیار حاصل کرنے سے روکنا صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا فوری اور دیرپا مرکزی مقصد ہے۔ خیال رہے کہ اسلام آباد میں مذاکرات کے دوران تقریباً ایک درجن سے زیادہ مواقع پر جے ڈی وینس کی صدر ٹرمپ سے فون پر بات ہوئی۔ جاتے جاتے جے ڈی وینس کا یہ کہنا تھا کہ ہم ایک بہت سادہ تجویز چھوڑ کر جا رہے ہیں۔ جو ہماری حتمی اور بہترین آفر ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ آیا ایران اسے مانتا ہے۔ اس جملے سے یہ تاثر ملتا ہے کہ امریکہ کی جانب سے ایران کو جو پیشکش کی گئی ہے۔ ایران اس کا جواب کیا دیتا ہے ۔ امریکا کو یقیناً ایران کے جواب کا انتظار رہے گا۔ اسلام آباد مذکرات کی سب سے نمایاں اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ جے ڈی وینس نے پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف فیلڈ مارشل عاصم منیر کا شکریہ بھی ادا کیا ۔ انکا مزید کہنا تھا کہ مذاکرات میں جو بھی کمی رہی وہ پاکستانیوں کی وجہ سے نہیں تھی۔ پاکستان کے آرمی چیف جنرل عاصم منیر نے بہترین کام کیا۔ انہوں نے انہوں نے اپنی جانب سے ایران اور ہمارے درمیان موجود خلا کو دور کرنے کی بھرپور کوشش کی تاکہ دونوں ممالک امریکہ ایران کسی معاہدے تک پہنچنے میں کامیاب ہو سکیں ۔ پاکستان میں موجود طبقہ جو گزشتہ چار سالوں سے آرمی چیف جنرل عاصم منیر کے پیچھے پڑا ہوا ۔ اس طبقہ کو اس کی وضاحت بھی کرنی چاہیے کہ بھارت نے جب مقبوضہ کشمیر کو بھارت میں ضم کیا ۔ جب سری نگر میں پہلے کرفیو نافذ کیا اور اس کے بعد بدترین لاک ڈاؤن لگا دیا ۔ اس وقت جنرل باجوہ اور اسکے منظورِ نظر وزیراعظم نے کونسے جوابی اقدامات اٹھائے ؟ بھارتی فضائیہ کے نندن کو پندرہ منٹ کی دھمکی کے غزت و تکریم کے ساتھ بھارت کیوں اور کس لیے پہنچایا گیا ۔ کس کی پینٹ اور کس کی شلوار قمیض گیلی ہوگئی تھی ۔ آفتاب اقبال گوتم ، پجاری صابر شاکر اور سوامی ریاض عمران کو اس کے متعلق بھی اپنے بھارتی ویلاگز میں قوم کو ضرور بتانا چاہتے ۔ پوری امتِ مسلمہ ان سوالات کے جوابات سننا چاھتی ھے ۔ امریکی نائب صدر کی جانب سے مذاکرات بے نتیجہ قرار دیے جانے کے بعد ایران کا مؤقف بھی سامنے آیا۔ ایرانی پارلیمان کے سپیکر باقر قالیباف کا اپنے ایک بیان میں کہنا تھا کہ مخالف فریق مذاکرات میں ایرانی وفد کا اعتماد جیتنے میں ناکام رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ چالیس دن کی جنگ کے دوران ایرانی قوم کے دفاع میں حاصل ہونے والی کامیابیوں سے ایک لمحے کے لیے بھی پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ انھوں نے مذاکراتی عمل میں سہولت کاری کے لیے اہم کردار ادا کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا۔ انکا مزید کہنا تھا کہ ہم دوست نہیں بھائی بھائی ہیں۔ ایرانی عوام نے اپنے بھائی پاکستان سے بڑی امیدیں وابستہ کر رکھی ہیں ۔ مگر امریکہ پر ایرانی قوم کو اعتماد نہیں ۔ پاکستانی وزیر خارجہ نے امریکہ اور ایران کا شکریہ ادا کیا۔ جنھوں نے پاکستان کی جانب سے خطے میں فوری جنگ بندی کی اپیل پر مثبت رد عمل دیا۔ اسلام آباد امن مذاکرات کے انعقاد کے لیے وزیر اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کی دعوت قبول کی۔ وزیر خارجہ نے دونوں فریقوں کا شکریہ ادا کیا کہ انھوں نے جنگ بندی کے حصول میں پاکستان کی کوششوں اور اس کے ثالثی کردار کو سراہا۔ امن مذاکرات کی کامیابی پر طرح طرح کے سوالات اٹھانے اور خدشات ظاہر کرنے کے ساتھ پاکستانی تبدیلی حقیقی آزادی طبقہ کو یہ کھلی حقیقت بھی تسلیم کرنی پڑے گی کہ اسلام آباد مذاکرات نے اپنا ابتدائی مقصد حاصل کر لیا ہے۔ ’دونوں فریق 42 سالوں کے ایک دوسرے کے آمنے سامنے بیٹھے ہیں ۔ اپنی اپنی پوزیشن واضح کی۔ امریکہ اور ایران کو ایک سفارتی مقام پر اکھٹا کرنا ایک کامیابی ہے۔ پاکستانی یوٹیوب کے سوامی پنڈت ویلاگرز سے پاکستانی ذی شعور باضمیر محب الوطن پاکستانی شہریوں کا ایک سوال کرنا حق بنتا ہے کہ سابق آرمی چیف جنرل قمر باجوہ نے کونسا ایسا کارنامہ سر انجام دیا تھا جس کے عوض ان کی ملازمت مدت میں توسیع کی گئی ۔ انکو کس صلہ میں تاحیات تعیناتی کی پیشکش کی گئی ۔ اس وقت پاکستان نے اسرائیل فلسطین میں ٹالتی کردار ادا کیوں نہ کرسکا ۔ سری نگر تنازعہ پر پاک بھارت میں اسلام آباد مذکرات کا انعقاد ممکن کیوں نہیں ہوسکا ۔ اس دور حکومت میں پاکستان کی سفارتی تعلقات کو بروئے کار کیوں نہ لایا جاسکا ۔ سفارتی کوششیں کیوں نہیں کی گئیں ؟

ہمسایہ ملک ایران جو ایک مہینہ پانچ دن سے عالم کفار سے جنگ لڑ رہا ہے اس کے اندرونی حالات کچھ یوں ہیں:
1- اس وقت تک 35 روزہ جنگ میں کسی ملک سے مالی مدد نہیں لی
2- کھانے پینے کی اشیاء کے لیے اپیل نہیں کی
3- ادویات کی اپیل نہیں کی
4- ملک کے اندر جنگ شروع ہوتے ہی روٹی ؛ پٹرول اور ڈیزل مفت کر دیا گیا ہے
5- ایک مہینے جنگ اور مسلسل پوری عالم کفر کی شب و روز بمباری کے باوجود ایک بھی ایرانی نے ملک سے ہجرت نہیں کی بلکہ دوسرے ملکوں میں مقیم ایرانی وطن کے دفاع کے لیے واپس آ رہے ہیں۔
6- لاک ڈاؤن کی اصطلاح کسی ایرانی کو شاید معلوم ہی نہ ہو۔
7- بڑے بڑے تاجروں نے لکھ کر لگا دیا ہے کہ مال لے جاؤ اور جنگ کے بعد پیسے دے دینا۔
8- جنگ اور بمباری میں وزراء عوام کے درمیان روڈوں پر امریکی مخالف مظاہروں میں برابر شریک ہیں۔
9- ایرانی صدر خود شاپنگ مالز پر جا کر ریٹ اور سہولیات چیک کر رہا ہے۔
یہ سب کیسے ممکن ہوا کہ 47 سالہ پابندیوں اور جنگوں میں جکڑے ملک کی عوام پر سکون ہے۔
کیونکہ:
1- نئے سپریم لیڈر نے ذاتی گھر تک نہیں خریدا نہ خرید سکے
2- وزراء اور جرنیلوں کے بچوں پر بیرون ملک تعلیم حاصل کرنے پابندی ہے۔
3- حکومتی اراکین اور انتظامیہ بیرون ملک اکاؤنٹ نہیں رکھ سکتے
4- کسی بھی وزیر یا جرنیل کا ملک سے باہر کوئی دوسرا گھر نہیں ہے۔
5- سپریم لیڈر محتاط اندازے کے مطابق روزانہ 18 گھنٹے کام کرتا ہے
6- کو ایجوکیشن کے نام پر بے غیرتی کے اڈے نہیں ہیں
7- امریکن یا یورپین سکول کالجز نہیں ہیں
8- تعلیم مفت ہے جس کی وجہ سے ہر دوسرا جوان انجینئر ؛ پی ایچ ڈی اور کم از کم ایم اے پاس ملے گا۔
9- رات کی تاریکی میں شب خون مار کر ریٹ نہیں بڑھائے جاتے بلکہ حکومت پہلے پارلیمنٹ میں بل پیش کرتی ہے پھر سپریم لیڈر نے فیصلہ کرنا ہوتا ہے اس لیے سال میں ایک آدھی مرتبہ دو تین پرسنٹ ریٹ بڑھ سکتا ہے وہ بھی ریٹ کے ساتھ سپریم لیڈر کے بجٹ سے عوام کو ریلیف دے دیا جاتا ہے
10- گھر میں روٹی پکانا منع ہے جس سے خواتین پڑھ لکھ سکتی ہیں یا اجتماعی پروگراموں میں آسانی سے شرکت کر سکتی ہیں۔
11- ڈیلیوری کیسز فری ہیں بلکہ بچے کی پیدائش پر کم از کم 20000 روپیہ والدہ کے اکاؤنٹ میں گفٹ بھی ٹرانسفر کیا جاتا ہے
12- علاج میں 70 فیصد حکومت ادا کرتی ہے 30 فیصد مریض
13- چوری ڈکیتی نہیں ہے
14- شاہی کلچر نام کی چیز ہے نہ پروٹوکول
15- بھکاری نہیں ملے گا
16- بے نمازی ہونا عیب سمجھا جاتا ہے
17- سورج غروب ہونے سے طلوع ہونے تک پولیس قاتل کے گھر میں بھی داخل نہیں ہو سکتی کیونکہ وہ وقت اس کی بیوی بچوں کا ہے
18- جیلیں خالی ہیں اور اگر کسی سے جرم ہو بھی گیا تو اسے جیل میں کام دیا جاتا ہے جس کی سیلری اس کے گھر بھیجی جاتی ہے تاکہ اس کی فیملی بجٹ ڈسٹرب ہونے کی وجہ سے غیر اخلاقی جرائم میں مبتلا نہ ہو۔
19- امام جمعہ کا مقام گورنر سے بالاتر ہوتا ہے تاکہ انتظامیہ من مانی نہ کر سکے ۔جمعہ کے خطبہ میں انتظامیہ کو وارننگ دے دی جاتی ہے۔
20- وزراء اور صوبائی و ضلعی انتظامیہ کے افسران نماز جمعہ کی پہلی صف میں سب سے پہلے موجود ہوتے ہیں۔
21- چھوٹے بڑے خاندان کا تصور نہیں ہے سادات اور غیر سادات میں پوری قوم تقسیم ہوتی ہے
22- معلم سر کا تاج ہوتا ہے اسے تھانے یا کچہری میں نہیں بلوایا جا سکتا کیونکہ معلم اور استاد ایسا کام ہی نہیں کرتا۔
23- نوکر رکھنے کا رواج نہیں ہے
24- ذہنی طور پر ہر شخص مطمئن اور ہشاش بشاش دکھائی دیتا ہے

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button