قومی

لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے کورٹ مارشل کے سلسلے میں 3 ریٹائرڈ افسران کو بھی تحویل میں لیا گیا

راولپنڈی (94 نیوز) لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) فیض حمید کے کورٹ مارشل کے سلسلے میں 3 ریٹائرڈ افسران بھی فوجی تحویل میں لے لئے گئے ہیں۔ پاک فوج کے شعبۂ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق تینوں ریٹائرڈ افسران کو فوجی نظم و ضبط کی خلاف پر تحویل میں لیا گیا ہے۔ آئی ایس پی آر کا کہنا ہے کہ ریٹائرڈ افسران اور ان کے ساتھیوں سے مزید تفتیش جاری ہے اور کچھ ریٹائرڈ فوجی افسران اور ان کے ساتھیوں کے خلاف تحقیقات کی جا رہی ہیں۔

آئی ایس پی آر کا یہ بھی کہنا ہے کہ بعض افسران کے خلاف ملک کو عدم استحکام کا شکار کرنے کے لیے سیاسی گٹھ جوڑ کی تحقیقات جاری ہیں۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ فوجی تحویل میں لیے گئے تینوں گرفتار افسران میں 2 ریٹائرڈ بریگیڈیئراور 1 ریٹائرڈ کرنل شامل ہیں۔ جن میں بریگیڈیئر (ریٹائرڈ)غفار، بریگیڈیئر ریٹائرڈ نعیم اور کرنل (ریٹائرڈ) عاصم شامل ہیں، تینوں افسران پیغام رسانی کا کام کرتے تھے۔

ذرائع نے بتایا ہے کہ معاملے پر اب تک ریٹائرڈ فوجی افسران سمیت 8 افراد حراست میں لیے گئے ہیں۔ واضح رہے کہ چند روز قبل لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کو فوجی تحویل میں لے لیا گیا تھا۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف فیلڈ جنرل کورٹ مارشل کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔

لیفٹیننٹ جنرل ریٹائرڈ فیض حمید کے خلاف پاکستان آرمی ایکٹ کی دفعات کے تحت مناسب انضباطی کارروائی کا آغاز کیا گیا ہے۔

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے حکم پر ٹاپ سٹی کی کورٹ آف انکوائری شروع کی گئی ہے، فیض حمید کے خلاف ریٹائرمنٹ کے بعد پاکستان آرمی ایکٹ کی کئی خلاف ورزیاں ثابت ہو چکی ہیں۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کا یہ بھی کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے احکامات کی تعمیل کرتے ہوئے تفصیلی کورٹ آف انکوائری کی گئی، انکوائری پاک فوج نے فیض حمید کے خلاف ٹاپ سٹی کیس میں شکایات کی درستگی کا پتا لگانے کے لیے کی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button