کالم

پاکستانی معاشرہ، پاک ملک وقوم ابنِ خلدون کی علامات، زوال پزیری نشانیوں کی زد میں

94 نیوز۔ کڑوا کھرا سچ
کالم نگار: طارق محمود جہانگیری کامریڈ

مسلمان حکمرانوں کے دور ملوکیت ، شہنشاہیت کے عہد زمانے میں ایک نامور مشہور ؤ معروف عربی تاریخ دان ، مورخ ، مفکر، دانشور گزرے ہیں ۔ اگرچہ وہ سقراط، افلاطون اور ارسطو کے پائے تو دانشور نہیں تھے۔ لیکن مسلمان علماء کی نظروں میں انکا بڑا رتبہ و مرتبہ ھے ۔ معروف سیاست دان، فلسفی اورممتاز فقیہ و عالم 23 مئی 1322ء بمطابق 732ھ کو تیونس میں پیدا ہوئے۔ اس سیاسی مفکر کا نام امام عبدالرحمن ابن خلدونؒ ھے ۔ مسلمانوں میں تاریخ اور عمرانیات کے بانی مانے جاتے ہیں۔ان کی مشہور و معروف کتاب ’’مقدمہ ابن خلدونؒ ‘‘ تاریخ، عمرانیات، اقتصادیات سیاسی موضوع پر ایک عظیم اور رہنما کتاب سمجھی جاتی ہے۔ ابن خلدونؒ کا پورا نام ابوزید ولی الدین عبدالرحمٰن بن محمد خلدونؒ الحضرمی تھا، ان کے آباء و اجداد میں سے خالد نامی شخص فتح اسپین کے بعد وہاں آکر آباد ہو گیا تھا، ہسپانوی زبان میں خالد کو خلدونؒ لکھا اور پڑھا جاتا ہے۔ کہا جاتا ہے کہ سیاست میں ملوث ہونے کے باعث مراکش میں ان کے کئی دشمن پیدا ہو گئے تھے۔جس سے دلبر داشتہ ہو کر ابن خلدونؒ اسپین چلے گئے تھے ۔اس وقت غرناطہ میں مسلمانوں کی حکمرانی تھی۔ باقی سارا اسپین عیسائیوں کے قبضہ میں چلا گیا تھا۔ لیکن ابن خلدونؒ کی کاوشوں کے نتیجہ میں ابو عبداﷲپنجم کو اس کی کھوئی ہوئی حکومت پھر مل گئی تھی۔ غرناطہ کے حکمران سے بھی ان کے خوشگوار تعلقات قائم نہ رہ سکے۔ چنانچہ غرناطہ چھوڑ کر پھر مراکش چلے گئے لیکن سلطان عبدالعزیز کی وفات کے بعد مراکش کی سیاسی صورتحال میں تبدیلی آگئی اور ابن خلدونؒ کو دوبارہ اسپین فرار ہونا پڑا۔ بعد میں ابن خلدونؒ نے سیاست سے کنارہ کشی اختیار کر لی اور پھر اپنی شہرہ آفاق تصنیف کتاب العبر تاریخ ابن خلدونؒ لکھنی شروع کی۔ جس نے انکا نام امر کر دیا۔انہوں نے سات جلدوں پر مشتمل اس عظیم الشان کتاب کا جو معرکہ آرا مقدمہ تحریر کیا ہے اپنی علمیت و اہمیت کے سبب اس نے خود ایک مکمل کتاب کا درجہ حاصل کرلیا۔ ابن خلدونؒ نے 19 مارچ 1406 کو قاہرہ میں 74 برس کی عمر میں وفات پائی ، انہیں قاہرہ کے قبرستان میں دفنایا گیا۔ آج ان کی قبر کا نام و نشان تک موجود نہیں ھے ۔ ان کے نام سے آج کے بہت کم مسلمان واقف ہیں ۔ ان کا ذکر صرف دینی مدارس کی نصابی کتب میں ملتا ہے۔ علامہ ابن خلدونؒ اس لحاظ سے خوش قسمت ہیں کہ اہل یورپ نے ان کی شایان شان قدر کی اور ان کی مرتب کردہ تاریخ بالخصوص مقدمہ (ابن خلدونؒ ) کو ہاتھوں ہاتھ لیا۔ سچائی کی بات تو یہ ھے کہ ابن خلدونؒ کا نام یورپ والوں کی قدر افزائی ہی کے بل بوتے پر آج تک زندہ ہے۔ ابن خلدونؒ اپنی خوبیوں اپنی صلاحیتوں کو کسی بلند سیاسی منصب کے حصول کے لئے استعمال نہ کرسکے ورنہ ممکن تھا کہ ، عمرانیات و تاریخ نگاری کا یہ امام کسی عظیم سلطنت کا بانی ھوتا۔ مقدمہ ابن خلدونؒ ایک عظیم المرتبت کتاب، تاریخ، سیاست ، عمرانیات، اقتصادیات اور ادبیات کا عظیم شاہکار سمجھی جاتی ہے ۔ ابنِ خلدون نے آج سے سات سو سال قبل ایک تحریر لکھی تھی وہ کل بھی بڑی اھمیت کی حامل تھی اور آج بھی بعض سنجیدہ حلقوں میں اس کو قدرے قدر و قیمت کی نگاہ سے دیکھا جاتا ھے ۔ ابن خلدون ایک جگہ پر اپنے سیاسی افکار ، اپنے مشاہدات کا ذکر کرتے ہوئے لکھتے ہیں کہ محکوم معاشرہ اخلاقی اقدار سے دستبردار ہو جاتا ہے۔ ظلمت کا دورانیہ جتنا طویل ہوتا ہے، ذہنی و جسمانی طور پر محکوم سماج کا انسان اتنا ہی جانوروں سے بھی بدتر ہوجاتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ محکوم صرف روٹی کے لقمے اور جنسی جبلت کے لیے زندہ رہتا ہے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ جب ریاستیں ناکام اور قومیں زوال پذیر ہوتی ہیں تو ان میں نجومی، بھکاری، منافق، ڈھونگ رچانے والے، چغل خور، درہم و دینار کے عوض فتویٰ فروش فقہیہ، جھوٹے راوی، خود ساختہ حق سچ کے دعویدار، خوشامدی، موقع پرست سیاست دانوں اور افواہیں پھیلانے والوں کی بہتات ہوجاتی ہے ۔ ایسے معاشرے میں ہر روز جھوٹے روپ کے نقاب آشکار ہوتے ہیں۔ مگر یقین کوئی نہیں کرتا ھے ، جس میں جو وصف، سرے سے ھی موجود نہیں ہوتی ہے وہ اس فن کا ماہر مانا جاتا ہے۔ اہل ہنر اپنی قدر کھو دیتے ہیں۔ نظم و نسق ناقص ہو جاتا ہے۔گفتار سے معنویت کا عنصر غائب ہوجاتا ہے ۔ ایمانداری کو جھوٹ کے ساتھ اور جہاد کو دہشت گردی کے ساتھ ملا دیا جاتا ہے۔ ان کے سیاسی مشاھدات کے مطابق جب ریاستیں برباد ہوتی ہیں تو ہر سو دہشت پھیلتی ہے۔ عجائبات ظاہر ہوتے ہیں اور افواہیں پھیلتی ہیں۔ بانجھ بحثیں طول پکڑتی ہیں۔ باطل کی آواز بلند ہوتی ہے اور حق کی آواز دب جاتی ہے۔ عقلمند کی بیگانگی بڑھ جاتی ہے۔ لوگوں کی ذاتی شناخت ختم ہوجاتی ہے اور جماعت، گروہ یا فرقہ ان کی پہچان بن جاتے ہیں۔ مبلغین کے شور شرابے میں دانشوروں کی آواز گم ہو جاتی ہے۔ قوم پرستی، حب الوطنی، عقیدہ اور مذہب کی بنیادی باتیں ختم ہو جاتی ہیں۔ اور ایک ہی خاندان کے لوگ خونی رشتہ داروں پر غداری کے الزامات لگاتے ہیں۔
بالآخرحالات اس نہج پر پہنچ جاتے ہیں کہ لوگوں کے پاس نجات کا ایک ہی منصوبہ رہ جاتا ہے اور ھر کوئی "ہجرت” اختیار کرنے کی باتیں کرتا ہے۔ تارکین وطن کی تعداد میں اضافہ ہونے لگتا ہے۔ وطن ایک سرائے میں بدل جاتا ہے۔ چراگاہیں ویران ہونے لگتی ہیں، وطن یادوں میں، اور یادیں کہانیوں میں بدل جاتی ہیں۔ اگرچہ مسلم ممالک نے ظاھری مادی ترقی تو بہت کی ہے۔ اجاٹ بدوؤں نے بڑی بڑی عالی شان محل و عمارتی بنالی ھیں ۔ لیکن ان سوچ ، ان کے افکار ابھی تک نہیں بدل سکے ھیں ۔ ذھنی و فکری طور پر ابھی تک وہ بدو و وحشی ھیں ۔ آج کے مسلمانوں کا طرز عمل بالکل پہلے جیسا ھی ھے ۔ اس وقت سب سے بری حالت پاکستان اور پاکستانی معاشرے کی ھے ۔ جہالت ، اخلاقی انحطاط، اخلاقی زوال پزیری کی تمام علامات پاکستانی معاشرے میں پائی جا رھی ھیں ۔ ھجوم کے ھر فرد، ھر خاندان ، ھر قریہ ، ھر بستی ، ھر گاؤں شہر میں اخلاقی اقدار کا فقدان پایا جاتا ھے ۔ ھمارے ھاں مادی ترقی کو اخلاقی ترقی سمجھا جا رہا ہے ۔ دھن دولت ، مال و متاع ، گاڑی بنگلہ ، جائیداد ، بینک اکاؤنٹس ، اولاد کی اعلیٰ ملازمتوں ، دنیاوی آسائشوں ، سہولیات کو اللہ کی رحمت ، فضل وکرم قرار دیا جا رہا ہے ۔ یہاں کے اھل ایمان نے اپنی خواہشات کو اپنا رب بنا لیا ھے ۔ عبادت گاہیں ، مساجد ، بارہ گاہیں ، تبلیغی مراکز نفس پرستی کے صنم کدے بن گئے ھیں ۔ جہاں پر رب العالمین کی عبادت ، بندگی کی بجائے نفس امارہ کی پرستش کی جانے لگی ھے ۔ ان تمام خامیوں کو قوم کا زوال نہیں تو اور کیا کہا جا سکتا ہے۔ کیونکہ زوال اس ملک وقوم پر آتا ھے جس نے عروج دیکھا ھو ۔ پاکستان نے تو اپنے 76 سالہ زندگی میں کبھی عروج دیکھا ھی نہیں تو پھر زوال کیسا ۔ الزام تراشیوں ، بہتان و تہمت، جھوٹ، دروغ گوئی کی وجہ سے سیاسی ماحول انتہائی خراب آلودہ و گندہ ھوچکا ھے۔ سیاسی دیوانگی ، شدت پسندی ، انہتا پسندیش شور شرابہ ، ھنگامہ خیزی کے علاؤہ سیاسی عمل میں اور کچھ بھی نہیں رھے گیا ہے ۔ اصولی نظریاتی سیاست کا جنازہ نکل گیا ھے ۔ان حالات میں معاشی استحکام کیسے آسکتا ہے ۔ کیونکہ معاشی استحکام سیاسی استحکام سے پیدا ھوتا ھے ۔ سیاست مکمل طور پر بازار حسن میں تبدیل ھوچکی ھے ۔ الیکٹرانکس میڈیا ، نیوز چینلز کی بھرمار کے بعد صحافت کا شعبہ بھی بازار حسن بن گیا ۔ رات ھوتے ھی اس بازار کی نیوز چینلز بھی بازار حسن کی طرح سجنے سنورنے لگتے ہیں ۔ پوری ریاست ایک شخص کی سیاست کے گرد گھوم رھی ھے۔ پورا معاشرہ اندھی تقلید، اندھے اعتقاد یقین اعتماد اور شخصیت پرستی میں مبتلا ہو چکا ہے ۔ اداروں کی مظبوطی کے بجائے فرد واحد کی شخصی حکومت کو ترجیح دی جارھی ھے ۔ پوری قوم فضول قسم کی بحث ومباحثہ میں الجھی ہوئی ھے ۔ ملک کے کونے کونے میں آئینی و قانونی مسائل پر تکرار و بحث ھورھی ھے ۔ سیاسی جنونیت ، اندھی تقلید نے پاکستانی قوم کو بدلتی ہوئی دنیا کے بدلتے ھونے سیاسی ، معاشی و اقتصادی حالات سے بالکل بےخبر ، لاعلم اور غافل کردیا ہے ۔ شعور زرعی و صنعتی انقلاب سے پیدا ھوتا ھے ۔ مداری پن سے شعور کبھی بھی بیدار نہیں ھوسکتا ھے ۔ غلامی کی زنجیریں توڑنے اور حقیقی آزادی کے تو یہاں پر بلند و بانگ دعوے کئے جارہے ہیں ۔ لیکن ساری قوم سارا معاشرہ شخصی آمریت ، شخصیت پرستی کی ذھنی و فکری غلامی میں جھکڑا جا چکا ھے ۔ مداری ، مسخرے قوم کے سیاسی راہنما ، مسیحا بن گئے ھیں ۔ شعبدہ باز ، بازی گر مسند اقتدار پر قابض ہوگئے ہیں ناعاقبت اندیش ، نااھل اغیار کے وفادار ملکی معاشی و اقتصادی حکمت عملی تیار کررہے ہیں ۔ منصوبہ بندی بنا رہے ہیں ۔ سارا تانا بانا ، اوا کا آوا ھی بگڑ گیا ہے ۔ ابن خلدون نے اخلاقی و روحانی ، سیاسی زوال پزیری کی جو علامات بتلائی تھیں۔ پاکستانی معاشرہ ان خرابیوں کی جیتی جاگتی تصویر بن چکا ھے ۔ ساری نشانیاں پوری ہوگئی ھیں ۔ ملک کے معمار ملکی حالات سے تنگ آکر بیرون ملک ھجرت کرنے پر مجبور ھوگیے ھیں ۔ گزشتہ سال کے دوران 34 لاکھ بےروزگار تعلیم یافتہ نوجوان ملک کو الوداع کہہ چکے ہیں ۔ شخ چلی ملک کو معاشی و اقتصادی بحران سے نکالنے کے دعوے کر رھے ھیں ۔ پوری قوم بھیڑ بکریوں کی طرح ٹرک کی بتی پیچھے لگی ھوئی ھے ۔ ھر برائی کو اچھائی سمجھا جارہا ہے ۔ ھر برے کام ، ھر برے عمل کو اچھا عمل قرار دیا جا رہا ہے ۔ دنیا چند سالوں میں کہاں سے کہاں پہنچ گئی ھے ۔ بدقسمتی سے پاکستانی قوم، پاکستانی معاشرہ ابھی تک پھتر کے تاریک دور میں جی رھا ھے ۔ وھی فرسودہ نظریات اور خیالات پا جاتے ہیں ۔عقل کے اندھوں کا کہنا ہے کہ پاکستانی قوم بیدار ھوچکی ھے ۔ خاک بیدار ھوئی ھے ۔ کیا تبدیلی آئی ہے ۔ کونسا شعور پیدا ھوا ھے ۔ جس قوم کو خود اپنی بدلنے کا خیال نہ ھو خدا بھی اس کی قوم کی حالت زار کو نہیں بدلتا ہے ۔ بددیانت ، خائن ، جھوٹے جس قوم کے حکمران بن جائیں خدا بھی اس قوم کو تباہی و بربادی ، ذلت و رسوائی سے نہیں بچا سکتا ہے ۔ کیونکہ ذلت و پستی، جہالت، فاسق معاشرے اور مردہ قوم کا مقدر بن جاتی ھے ۔ ایسی قوم کی تقدیر خدا بھی نہیں بدل سکتا ھے ۔

۔۔”بے خبر سوتے رہے رات کی تاریکی میں
لوٹ گیا شہر تو شہر کے باسی جاگے
کتنے طوفان آئے پھر جاگا نہ کوئی
اب کوئی حشر برپا ھو تو یہ بستی جاگے ..”

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button