Pakistan's leaders were due to mismanagement PTI rally?


Karachi(94news) PTI 23 ویں یوم تاسیس کا جلسہ شدید بد نظمی کا شکار ہوگیااور دھڑے آپس میں لڑ پڑے، پنڈال کے میدان جنگ بنتے ہی اہم رہنما جلسہ چھوڑ کر بھاگ نکلے، پی ٹی آئی سندھ کے قائم مقام صدر حلیم عادل شیخ کے خطاب پرکارکنان میں جھگڑا شروع ہوا ۔ذرائع کے مطابق تحریک انصاف کے جلسے میں بدنظمی دو رہنماؤں میں اختلاف کی وجہ سے ہوئی اور دونوں رہنماؤں کیخلاف پارٹی کی طرف سے کارروائی کیے جانے کا امکان ہے ۔
تفصیلات کے مطابق نہ مرکزی قیادت نے خطاب کیا اور نہ کیک کاٹنے کی تقریب ہوئی، بدنظمی کے بعد فوری جلسہ ختم کر دیا گیا، اتوارکو تحریک انصاف کی جانب سے پارٹی کے 23 Th was continued speeches from various leaders at the rally was held to mark the anniversary prglsn Iqbal Khan on Tuesday as the market comes to addressing the acting president of the party in Sindh Haleem Adil Sheikh workers 2 Workers were divided into sections and have been fighting each other and ghtm solidity.
رپورٹس کے مطابق اسد عمر اور دیگر رہنماؤں کی ابھی آمد متوقع تھی، جلسے سے کسی بھی اہم رہنما کی جانب سے خطا ب نہیں کیا گیا اور جلسے کے اختتام کا اعلان کر دیا گیا، جلسے کے ختم ہونے کے اعلان کے بعد بھی کارکنان آپس میں لڑتے رہے، واپس جاتے ہوئے جلسے گاہ کے باہر بھی مختلف مقامات پر تحریک انصاف کے دونوں گروپوں کے کارکنان ایک دوسرے سے ڈنڈوں، لاتوں اور گھونسوں سے ایک دوسرے کی پٹائی کرتے رہے اور متعدد کارکنان زخمی بھی ہوئے جبکہ مختلف مقامات پر لوگوں کی جانب سے بیچ بچاؤ کرایا جاتا رہا اور دونوں گروپوں کے درمیان یہ سلسلہ کافی دیر تک جاری رہا، جلسے میں کیک بھی نہیں کاٹا گیا اور ایسے ہی آتش بازی کر دی گئی، مرکزی قیادت کے خطاب کے بغیر ہی جلسہ ختم کر دیا گیا، قبل ازیں جلسے سے خطاب میں حلیم عادل شیخ نے کہا کہ ہمارے خلاف بہت باتیں ہوئی ہیں لیکن ابھی جلد حالات تبدیل ہونے والے ہیں۔



