پنجاب بلدیاتی انتخابات 14 دسمبر کو کرانے کی تجویز


رپورٹ ۔ طارق محمود جہانگیری کامریڈ لاھور
پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے مجوزہ شیڈول سامنے آگیا، الیکشن کمیشن نے پنجاب حکومت کو ڈرافٹ پروگرام ارسال کرتے ہوئے صوبائی حکومت سے مجوزہ ٹائم لائن پر رائے طلب کرلی گئی ھے ۔ ذرائع کے مطابق بلدیاتی انتخابات کے لیے کاغذات نامزدگی 27 سے 30 اکتوبر تک جمع ہوں گے۔ جبکہ کاغذات نامزدگی کی جانچ پڑتال 2 سے 5 نومبر تک ہوگی کاغذات نامزدگی پر اپیلیں 7 سے 11 نومبر تک دائر کی جاسکیں گی۔ جبکہ اپیلوں پر فیصلوں کی آخری تاریخ 16 نومبر مقرر کی گئی ہے۔ صوبائی حکومتی ذرائع کا کہنا تھا کہ اُمیدواروں کے کاغذات واپس لینے کی آخری تاریخ 18 نومبر ہوگی۔ جبکہ اُمیدواروں کی حتمی فہرست اور انتخابی نشانات کے ساتھ اُمیدواروں کی فہرست 20 نومبر 2026 کو جاری کرنے کی تجویز ہے۔ مجوزہ پروگرام کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے لیے 14 دسمبر 2026 کو پولنگ ڈے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔ جبکہ ریٹرننگ افسران کی جانب سے نتائج کا اعلان 17 دسمبر کو متوقع ہے۔ بتایا گیا ہے کہ الیکشن کمیشن کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کا حتمی شیڈول منظوری کے بعد جاری کیا جائے گا۔ صوبہ پنجاب میں گزشتہ 4 سالوں سے ن لیگی حکومت قائم دائم ہے ۔ لیکن معتدد بار اعلان کرنے کے باوجود ن لیگی حکومت پنجاب کے کسی اضلاع میں بلدیاتی انتخابات منعقد نہ کراسکی ۔ آخری بار بلدیاتی انتخابات اکتوبر 2015 میں منعقد ھوئے تھے۔ لیکن تین سالوں کے دوران اختیارات نچلی سطح پر منتقل نہ ھوسکے ۔ چیف جسٹس آف سپریم کورٹ کے احکامات پر صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات منعقد کئے گئے تھے۔ صوبائی حکومت ملتے ہی تحریک انصاف نے ماہ ستمبر 2018 میں مفلوج بلدیاتی نظام کو رول بیک کردیا تھا۔ تمام بلدیاتی اداروں کو ملیا میٹ کردیا گیا۔ بلدیاتی انتخابات تو بہت دور کی بات ہے حقیقی تبدیلی کی دعوے دار تحریک انصاف چار سالوں میں پنجاب لوکل ایکٹ مسودے کا ایک پیراگراف بھی مرتب و تیار نہ کرسکی ۔ پیپلز پارٹی کے پارٹی منشور میں بلدیاتی نظام کو کبھی بھی جگہ نہیں دی گئی ۔ ن لیگی صوبائی حکومتی نے ایک مرتبہ پھر صوبہ بھر میں بلدیاتی انتخابات انتخابات منعقد کرنے کا فیصلہ کیا ھے۔ اب بھی اس فیصلہ کے مؤخر ھونے کے امکانات اور خدشات بدستور موجود ہیں۔ صاف شفاف، غیر جانبدارانہ بلدیاتی انتخابات ن لیگی صوبائی حکومت کے لیے سب سے بڑا چیلنج اور کڑا امتحان ھونگے ۔ یہ مسلمہ حقیقت ھے کہ سو فیصدی نشتیں حاصل کرنے کے باوجود تحریک انصاف بلدیاتی نتائج تسلیم نہیں کرے گی۔ ن لیگی صوبائی حکومت نے ان انتخابات میں جھرلو پھرنے یا کسی قسم کی انجینرنگ کرنے کی کوشش کی تو صوبہ پنجاب میں سیاسی افراتفری، سیاسی بے یقینی کی فضا پیدا ھوسکتی ھے۔ یاد رہے کہ ن لیگی حکومت نومبر 2013 میں بلدیاتی انتخابات شیڈول کے مطابق منعقد نہ کراسکی۔ پنجاب الیکشن کمیشن نے لاھور کی 274 یونین کونسلوں کے امیدواران سے بلدیاتی فیس کی مد میں لگ بھگ 1 کروڑ 80 لاکھ 84 ہزار روپے (18.084 ملین روپے ( یعنی کہ 18 ملین 84 ہزار روپے) بٹور لئے تھے ۔حکومت پنجاب اور الیکشن کمیشن پنجاب نے کیا ایک مرتبہ پھر باھمی گٹھ جوڑ سے بلدیاتی امیدوران سے کڑروں روپے ھضم کرنے کا منصوبہ بنایا ھے۔ یا اب کہ واقعی ھی بلدیاتی انتخابات کے انعقاد میں سنجیدہ ھے ۔ سال رواں کے آخری مہینے دسمبر میں سب کچھ کھل کر سامنے آ جائے گا۔ اب تک کے حالات و واقعات کو دیکھتے ہوئے اکتوبر 2027 سے قبل صوبہ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات منعقد ہوتے نظر نہیں آرھے ھیں.



