کالم

فیصل آباد سے رخصت ہوتا ایک عوامی پولیس افسر

تحریر: میاں ندیم احمد

افسر بہت آتے ہیں، بہت جاتے ہیں، عہدے بدلتے ہیں، تعیناتیاں ہوتی ہیں اور تبادلے بھی معمول کا حصہ ہیں، مگر کچھ لوگ اپنے عہدے سے آگے بڑھ کر لوگوں کے دلوں میں جگہ بنا لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی رخصتی محض ایک سرکاری تبادلہ نہیں ہوتی بلکہ ایک تعلق کے اختتام جیسا احساس دیتی ہے۔ فیصل آباد سے بطور ریجنل پولیس آفیسر (RPO) ایک سالہ خدمات کے بعد سہیل اختر سکھیرا کی سرگودھا بطور آر پی او روانگی بھی کچھ ایسی ہی کیفیت لیے ہوئے ہے۔ سہیل اختر سکھیرا کے فیصل آباد میں قیام کا ایک نمایاں پہلو یہ رہا کہ انہوں نے پولیس کے ایک انتہائی اہم منصب کو عوام سے رابطے کا ذریعہ بنایا۔ ان کے دفتر کے دروازے عام شہریوں کے لیے کھلے رہے۔ وہ لوگ جو عام حالات میں پولیس کے دفتر کا رخ کرتے ہوئے بھی ہچکچاتے ہیں، انہیں یہ احساس ہوا کہ ان کی بات سننے والا کوئی موجود ہے۔ مظلوم شہری اپنی شکایات لے کر ان کے دفتر پہنچے اور متعدد معاملات میں ان کی دادرسی کی گئی۔ پولیس اور عوام کے درمیان فاصلے کی شکایت ہمارے معاشرے میں نئی نہیں۔ تھانے کا ماحول عام آدمی کے لیے اکثر خوف اور بے بسی کی علامت بن جاتا ہے۔ ایسے میں تھانوں کے کلچر میں بہتری لانے کی کوشش یقیناً ایک مشکل کام ہے۔ سہیل اختر سکھیرا کے دور میں اس سمت میں بھی اقدامات دیکھنے کو ملے۔ کام کرنے والے پولیس افسران اور اہلکاروں کی حوصلہ افزائی کی گئی جبکہ مبینہ طور پر بدعنوانی یا اختیارات کے غلط استعمال میں ملوث اہلکاروں کے خلاف محکمانہ کارروائیاں بھی ہوئیں۔ احتساب کا عمل جاری رکھنے کی کوشش کی گئی تاکہ فورس میں یہ پیغام جائے کہ اختیار کے ساتھ جواب دہی بھی ضروری ہے۔ جرائم پیشہ عناصر کے خلاف کارروائیاں، منشیات فروشوں کے خلاف کریک ڈاؤن اور منجا کلچر کے خاتمے کے لیے اقدامات بھی ان کے دور کا حصہ رہے۔ پولیسنگ کا بنیادی مقصد ہی شہریوں کو تحفظ فراہم کرنا اور جرائم کے خلاف ریاست کی رٹ قائم کرنا ہے، اس لیے کسی بھی افسر کی کارکردگی کو جانچنے میں ایسے اقدامات اپنی اہمیت رکھتے ہیں۔ تاہم سہیل اختر سکھیرا کی شخصیت کا ایک پہلو ایسا بھی رہا جس پر بعض حلقوں نے انہیں "ٹک ٹاکر افسر” تک کہا۔ مگر اس حوالے سے ایک حقیقت اپنی جگہ موجود ہے کہ وہ لوگوں سے ملتے تھے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جنہوں نے شاید پہلی مرتبہ محسوس کیا کہ ایک اعلیٰ پولیس افسر ان کی بات سننے کے لیے دستیاب ہے۔ وہ ہر طبقے کے لوگوں سے ملتے، تصاویر بنواتے اور شہریوں کو رسائی دیتے تھے۔

یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے: کیا کسی عوامی عہدے پر فائز شخص کا عوام سے ملنا، ان کی بات سننا اور ان کے ساتھ گھلنا ملنا محض نمائش قرار دے دینا چاہیے؟ شاید اس کا جواب اتنا سادہ نہیں۔ سوشل میڈیا کے دور میں ہر سرکاری افسر کی سرگرمی عوام کے سامنے آتی ہے، لیکن اصل اہمیت اس بات کی ہے کہ اس تشہیر کے ساتھ عملی کارکردگی بھی موجود ہے یا نہیں۔ سہیل اختر سکھیرا کے معاملے میں ان کے حامیوں کی بڑی تعداد یہ دلیل دیتی دکھائی دیتی ہے کہ ان کی عوامی رسائی کے ساتھ عملی اقدامات بھی موجود تھے۔

بلاشبہ کسی بھی افسر کی کارکردگی سو فیصد بے عیب نہیں ہوتی۔ فیصلے کرنے والے سے غلطیاں بھی ہوتی ہیں، کیونکہ غلطی کا امکان اسی شخص کے لیے پیدا ہوتا ہے جو کام کر رہا ہو۔ جو شخص کوئی فیصلہ ہی نہ کرے، قدم ہی نہ اٹھائے اور ذمہ داری ہی نہ لے، اس سے غلطی کا سوال بھی کم ہی پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے کسی بھی افسر کے بارے میں رائے قائم کرتے وقت کامیابیوں کے ساتھ خامیوں اور غلطیوں کو بھی سامنے رکھنا چاہیے۔

سہیل اختر سکھیرا کے بارے میں ایک تاثر یہ بھی سامنے آتا رہا کہ وہ لوگوں کو جلد سمجھ لیتے تھے۔ پولیسنگ میں یہ صلاحیت غیر معمولی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ پولیس افسر کو روزانہ مختلف مزاج، مفادات اور مقاصد رکھنے والے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ ہر شخص جو افسر کے قریب آنے کی کوشش کرتا ہے، ضروری نہیں کہ اس کا مقصد بھی نیک ہو۔ جرائم پیشہ عناصر بھی کبھی کبھی اثرورسوخ رکھنے والے لوگوں سے تعلقات بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ کسی تصویر یا ملاقات کو تعلق یا سرپرستی کا ثبوت سمجھ لینا بھی درست نہیں۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ بعض لوگ کسی بااثر شخصیت کے ساتھ تصویر کو اپنے ذاتی مفاد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔ تصویر بنوانا، پھر اسے مختلف لوگوں کو دکھانا اور اپنے اثرورسوخ کا تاثر پیدا کرنا ہمارے معاشرے میں کوئی نئی بات نہیں۔ اگر کسی نے کسی افسر کے نام یا تصویر سے ذاتی فائدہ اٹھانے کی کوشش کی تو ہر ایسی حرکت کا ذمہ دار افسر کو قرار دینا بھی مناسب نہیں۔ عوامی زندگی میں موجود شخص سے ملنے والوں میں ہر طرح کے لوگ شامل ہوتے ہیں۔

سہیل اختر سکھیرا کے فیصل آباد سے تبادلے کے موقع پر جس انداز میں مختلف حلقوں کی جانب سے انہیں الوداع کہا جا رہا ہے، وہ بہرحال قابلِ ذکر ہے۔ تاجروں، صحافی برادری، چیمبر آف کامرس اور دیگر تنظیموں کی جانب سے الوداعی تقریبات کا انعقاد، گلدستے پیش کرنا، تصاویر بنوانا اور اپنے جذبات کا اظہار اس بات کی علامت ہے کہ ان کے ساتھ ایک عوامی تعلق قائم ہوا۔

عام طور پر پولیس افسر کے تبادلے پر شہریوں کی ایک بڑی تعداد خوشی سے زیادہ بے نیازی کا اظہار کرتی ہے۔ لوگ سمجھتے ہیں کہ ایک افسر گیا تو دوسرا آ جائے گا۔ مگر جب کسی افسر کی رخصتی پر لوگ خود اسے روکنے، ملنے، تصویر بنوانے اور الوداع کہنے کے لیے جمع ہوں تو یہ اس کے عوامی رابطے کی ایک مختلف تصویر ضرور پیش کرتی ہے۔

یہ محبت شاید کسی حکم، سرکاری نوٹیفکیشن یا عہدے سے نہیں ملتی۔ یہ وہ چیز ہے جو انسان اپنے رویے سے کماتا ہے۔ اگر ایک عام شہری یہ محسوس کرے کہ اس کی بات کسی اعلیٰ افسر تک پہنچ سکتی ہے، اس کی عزت کے ساتھ بات سنی جا سکتی ہے اور اس کی شکایت کو نظرانداز نہیں کیا جائے گا تو اس کے دل میں ادارے کے بارے میں بھی ایک مختلف تاثر پیدا ہوتا ہے۔

اب سہیل اختر سکھیرا فیصل آباد سے سرگودھا جا رہے ہیں۔ عہدہ وہی ہے، ذمہ داریاں بھی وہی ہیں، مگر شہر بدل گیا ہے۔ فیصل آباد میں ان کے ایک سالہ دور کو لوگ اپنی اپنی نظر سے یاد رکھیں گے۔ کسی کے لیے وہ ایک قابل رسائی پولیس افسر ہوں گے، کسی کے لیے سخت احتساب کرنے والے افسر، کسی کے لیے سوشل میڈیا پر نمایاں نظر آنے والی شخصیت، جبکہ کسی کے لیے وہ محض ایک ایسے افسر ہوں گے جس نے اس کی بات سن لی۔

وقت ہی بتائے گا کہ سرگودھا میں ان کی کارکردگی کس سمت جاتی ہے، لیکن فیصل آباد سے رخصتی کے مناظر نے ایک بات ضرور واضح کر دی ہے: سرکاری عہدہ ختم ہو جاتا ہے، مگر عوام کے ساتھ بنایا گیا تعلق عہدے کے ساتھ ختم نہیں ہوتا۔

سہیل اختر سکھیرا کو ملنے والی یہ محبت دراصل اسی تعلق کی واپسی ہے جو انہوں نے اپنے فیصل آباد قیام کے دوران لوگوں کے ساتھ قائم کیا۔ پھول، گلدستے، تصویریں اور الوداعی تقریبات شاید وقتی مناظر ہوں، مگر کسی افسر کے لیے اس سے بڑا اعزاز کیا ہوگا کہ اس کے جانے پر لوگ کہیں کہ آپ نے ہماری بات سنی تھی۔

فیصل آباد انہیں الوداع کہہ رہا ہے، اور وہ سرگودھا کی نئی ذمہ داریوں کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ امید یہی ہے کہ جہاں بھی جائیں، عوام تک رسائی، انصاف کی فراہمی، پولیسنگ میں بہتری اور احتساب کا وہ تصور ساتھ لے کر جائیں گے جس کی آج کے شہری کو سب سے زیادہ ضرورت ہے۔

کیونکہ آخرکار ایک افسر کی اصل پہچان اس کا عہدہ نہیں، بلکہ یہ ہوتی ہے کہ اس کے عہدے سے کتنے لوگوں کو انصاف، تحفظ اور عزت کا احساس ملا۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button