Star Valley deprived of basic facilities, developers meet with FDA officers and pass the map, press conference of victims

پندرہ سال گزرنے کے باوجود مسجد، قبرستان اور سیوریج سسٹم کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، رجسٹریاں کرانے کے لیے مشترکہ کھاتے سے بغیر تتیمہ کے بھاری رقوم طلب کی جا رہی ہیں۔

Faisal Aba d (94 News City Reporter ) ستارہ ویلی بنیادی سہولیات سے محروم ڈویلپرز نے ایف ڈی اے افسران سے ملی بھگت کر کے نقشہ پاس کروالیا ایف ڈی اے حکم سیل کرنے کی بجائے ہمیں دھمکیاں دے رہے ہیں کہ آپ پر مقدمے کر وائے جائیں گے ۔ادارے اپنا کام نہیں کر رہے ہمیں ہماری رہائشی کالونی میں بنیادی سہولیات فراہم کی جائے ان خیالات کا اظہار متاثرین ستارہ ویلی نے پریس کلب میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے کیا ان کا مزید کہنا تھا کہ وہ ڈویلپر ز کو اپنے پلاٹس کی مکمل ادائیگی کر چکے ہیں۔ تین سے چار سو گھر تعمیر ہو چکے ہیں لیکن آج تک کالونی میں بجلی، گیس، سیوریج، پارک، مسجد اور قبرستان جیسی بنیادی سہولیات فراہم نہیں کی گئیں۔ متاثرین نے کہا کہ سینکڑوں خاندان روزمرہ کی مشکلات کا شکار ہیں لیکن متعلقہ ادارے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔ ڈپٹی کمشنر فیصل آباد کو دی گئی درخواستیں بھی ردی کی ٹوکری کی نذر ہو گئی ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ ڈویلپرز نے ایف ڈی اے افسران کو بھاری رشوت دے کر کالونی کا نقشہ منظور کرایا۔ رجسٹریاں کرانے کے لیے مشترکہ کھاتے سے بغیر تتیمہ کے بھاری رقوم طلب کی جا رہی ہیں۔ رہائشیوں نے الزام لگایا کہ ایف ڈی اے افسران ڈویلپرز کی پشت پناہی کر رہے ہیں اور ان کی ملی بھگت کے باعث عوام کی شکایات مسلسل نظر انداز کی جا رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ڈویلپرز ہمارے پیسوں سے نئی کالونیاں بنا کر وہاں سہولیات فراہم کر رہے ہیں، جبکہ ستارہ ویلی کے مکین اندھیروں میں زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔متاثرین نے مزید بتایا کہ کالونی کے پارک کے لیے مختص 42 کنال رقبہ ہائی وولٹیج تاروں کے نیچے الاٹ کر دیا گیا ہے جہاں واپڈا نے خطرناک بورڈ لگا رکھے ہیں۔ کمیونٹی سینٹر بھی انہی تاروں اور کھمبوں کے قریب بنا دیا گیا ہے، جس سے رہائشیوں کی جانوں کو شدید خطرات لاحق ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پندرہ سال گزرنے کے باوجود مسجد، قبرستان اور سیوریج سسٹم کا کوئی انتظام نہیں کیا گیا، جس کی وجہ سے بارش کے دنوں میں گلیاں تالاب کا منظر پیش کرتی ہیں۔رہائشیوں نے انکشاف کیا کہ بجلی کے بلوں کی مد میں غیر قانونی طور پر بھتہ وصول کیا جاتا ہے اور جب چاہے اضافی رقوم ڈال دی جاتی ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ایف ڈی اے حکام نہ صرف ہماری بات سننے کو تیار نہیں بلکہ ہمیں دھمکیاں دیتے ہیں کہ اگر مزید احتجاج کیا تو مقدمات درج کر دیے جائیں گے۔ متاثرین نے کہا کہ یہ سب کچھ ایف ڈی اے اور ڈویلپرز کی ملی بھگت کے بغیر ممکن ہی نہیں۔متاثرین نے وزیر اعلی پنجاب اور سیکرٹری ہاسنگ سے مطالبہ کیا کہ ایف ڈی اے اور ڈویلپرز کے گٹھ جوڑ کی شفاف انکوائری کرائی جائے۔ انہوں نے زور دیا کہ ستارہ ویلی میں فوری طور پر ترقیاتی کام شروع کیے جائیں اور مسجد، قبرستان، بجلی، گیس اور سیوریج سمیت تمام بنیادی سہولیات فراہم کی جائیں تاکہ سینکڑوں خاندانوں کو انصاف مل سکے۔



