National

Small mobile funzssty, banks, income tax, 6% withholding tax regime on lower business transaction accounts at the Bank of Fowler, News duty on the import of print and bring the 5 billion of unsecured loans scheme

Islam Abad(94news) Federal Finance Minister Asad cheap cell was 20 percent less than the reduction in tax, income tax of 39 percent on banks phones, 6 percent withholding, business accounts at the bank transaction Fowler said while eliminating tax regime for non Fowler 1300 cc until the vehicles will be able to buy, but taxes are raised, are half a small tax on income on loans to medium enterprises, are bringing scheme goodly loan of Rs 5 billion, duty News importing printed in newspapers, raw materials the end of the tax on some imported and some are lower, taxes on small wedding halls 20 We were 5 thousand less, exclusive economic zone on investment, is being super tax in July, the SME sector to tax revenues 39 Less than one percent 20 Are percent, 0.3 percent faylrz banking tranzksnz Without being over holding tax, agricultural loans in 6 months 22 Percent increase, 1800 cc would be to increase tax rates on large vehicles.

تفصیلات کے مطابق قومی اسمبلی میں منی بجٹ پیش کرتے ہوئے وزیر خزانہ اسد عمر نے کہا کہ میں سپیکرقومی اسمبلی کا بہت بہت شکریہ ادا کرتا ہوں ، آج ہم یہاں بہت اہم کام کیلئے جمع ہوئے ہیں، پاکستان کے عوام نے ملکی مسائل کے حل کیلئے ارکان کو ووٹ دیکر یہاں بھیجا ہے ، ایوان عوام کے مسائل کا ادراک رکھتی ہے اور حل بھی کرنا چاہتی ہے ، یہ کوئی نیا بجٹ پیش نہیں کیا جارہا ، بلکہ یہ ایک اصلاحات کا پیکج ہے جو میں یہا ں پیش کررہا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ جب یہ حکومت بنی تو بہت سے مشکلات تھیں جن سے نمٹنا ضروری تھا ، ہم نے ان مشکلات سے نمٹنے کیلئے اصلاحات کیں اور کوشش کی کہ جب کوئی نئی حکومت آئے تواس کو ایک مستحکم معیشت ملے اور یہ نہ ہو کہ ان کو فون اٹھا کر آئی ایم ایف سے رابطہ کرنا پڑے ۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کے کمزور طبقات کو اٹھانا ، امیر اور غریب میں فرق کرنا آئینی ذمہ داری ہے جو بدقسمتی سے ماضی کی حکومتوں نے پور ی نہیں کی ۔ انہوں نے کہا کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اپوزیشن اپنی غلطیوں سے شائد ہماری اصلاح کیلئے کوئی تجاویز دے سکے، حکومت ملک میں سرمایہ کاری اور صنعتکاری کے فروغ کیلئے اقدامات کرنے جار ی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج سے دوسال پہلے معیشت دانوں نے کہا تھا کہ ہم ایک خطرے کی طرف بڑھ رہے ہیں جس پر حکومت نے بجائے اپنی اصلاح کرنے کے الیکشن پر توجہ دی اور الیکشن خریدنے کی کوشش کی گئی ، مسلم لیگ ن کی حکومت نے اپنے بنائے ہوئے بجٹ میں 6.6فیصد کا خسارہ بڑھا دیا ، بجلی کے نظام میں ایسی تباہی لائی گئی کہ جو ماضی میں کبھی نہیں ہوا تھا ، عوام پر مزید قرضے لاد دیئے ، گیس جس میں زرداری صاحب کے دور میں بھی خسارہ نہیں ہوا تھا ، اس میں بھی ڈیڑھ سو ارب روپے خسارے کردیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت جوکرکے چلی گئی تھی ، اس پر قابو پانے کیلئے ہم نے مشکل فیصلے کئے ، میں قوم کو داد دیتا ہوں کہ ان کو پتہ تھا کہ یہ مشکل فیصلے ناگزیر تھے ، میں خوشخبری دینا چاہتا ہوں کہ ان مشکل اقدامات کی وجہ سے پاکستان کا کرنٹ خسارہ کم ہوگیاہے ، در آمدات کم ہوگئی ہیں اور بر آمدات بڑھ گئی ہیں اور معیشت میں بہتری آرہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ تین چیزوں کے بغیر پاکستان کی معیشت ٹھیک نہیں ہو سکتی ، پہلی چیز اپنی چادر کو دیکھ کر پاﺅں پھیلانا ، دوسری چیز بر آمدات کے حوالے سے خطرنا ک صورتحال پیدا ہوگئی تھی ، بر آمدات میں اضافہ کرنے اور زراعت اور انڈسٹری کو پاﺅں پر کھڑا کرنا ہے ، تیسر ی چیز جب تک سرمایہ کاری نہیں ہوگی، معیشت پاﺅں پر کھڑی نہیں ہوسکتی ۔ انہوں نے کہا کہ یہ تین بڑے ہدف ہیں ، یہ ہم قوم کو بتائیں کہ ان میں کیسے بہتری لانی ہے ، جب اگلا الیکشن آئے گا تو پیمرا یہ بات ریکارڈ کررہاہے کہ تحریک انصاف کی حکومت کو الیکشن خریدنے کی ضرورت نہیں پڑے گی ۔ انہوں نے کہا کہ 2022میں ترقی کی نمو بہت زیادہ گی اور کرنٹ خسارہ بہت کم ہوگا ، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہم عوام کو پاکستان کا حکمران سمجھتے ہیں اور خود کو عوام کاخادم سمجھتے ہیں۔

وزیر خزانہ نے کہاہے کہ چھوٹے سے درمیانی سطح کے ادارے معیشت کی ریڑھ کی ہڈی ہوتے ہیں ، جب تک چھوٹے اور درمیانی سطح کے ادارے ترقی نہیں کریں گے ، نوکریاں پیدا نہیں ہوسکتیں۔ انہوں نے کہا چھوٹے اور درمیانی سطح کے اداروں پر ٹیکس آدھا کردیا جائیگا ، زراعت کو ترقی دینا چاہتے ہی، ملک کی دوتہائی آبادی اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اورکسان کو قرضوں کی ضرورت محسوس ہوتی ہے ، حکومت کے پہلے چھ ماہ میں زرعی قرضوں میں 22فیصد اضافہ ہوا ہے ، زرعی قرضو ں پر بھی ٹیکس39فیصد سے کم کرکے 20کررہے ہیں، تیسرا سیکٹر جس کو حکومت ترقی دینا چاہتی ہے وہ غریبوں کیلئے گھر بنانا ہے ، وزیر اعظم کا وعدہ ہے کہ پچاس لاکھ گھر بنانے کی کوشش کریں گے اور زیاد ہ غریبوں کے گھروں پر توجہ دی جائیگی ، اس کیلئے بھی گھروں کی تعمیر کیلئے دیئے جانے والے قرضے پر ٹیکس39فیصد سے کم کرکے 20فیصد کررہے ہیں، 5ارب کی قرض حسنہ کی سکیم لائی جارہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس فائلر کیلئے ود ہولڈنگ ٹیکس نا انصافی پر مبنی تھا جو تاجروں کے ساتھ نا انصافی تھی ، یہ ختم کررہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پراپرٹی کے اوپر ایک استثنیٰ حاصل تھا کہ نان فائلر پچاس لاکھ تک جائیداد خرید سکتے ہیں ،اب چھوٹی گاڑیاں نا ن فائلر بھی خرید سکتے ہیں لیکن ہم ان پر ٹیکس بڑھا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاروبار کرنا مشکل ہے ، اس کے لئے اقدامات کررہے ہیں، ود ہولڈنگ ٹیکس کی سٹیٹمنٹ کو سال میں بارہ مرتبہ پیش کرنے کی بجائے دو مرتبہ کیا جارہاہے ۔ انہوں نے کہا کہ پچھلی حکومتوں نے شادی ہالوں پر ٹیکس بڑھا دیا تھا، شادی ہال پر جو ٹیکس 20ہزار تھا وہ کم کرکے 5ہزار کیا جارہاہے ، تاجروں کیلئے بالکل آسان اورسادہ سکیم لیکر آرہے ہیں، یہ پہلے اسلام آباد میں لاگوکی جائیگی اور اس کی کامیابی کے بعد اس کو ملک بھر میں پھیلایا جائیگا ، مجھے امید ہے کہ اس کے نتیجے میں ٹیکس بھی ہم کو زیادہ ملے گا ۔ انہوں نے کہا کہ نیوز پرنٹ کی انڈسٹر ی کیلئے ، حکومت اس بات پر یقین رکھتی ہے کہ ایک آزاد صحافت چاہئے ، اس لئے ہم نیوز پرنٹ پر جوڈیوٹی لگی ہوئی ہے ، اس کومکمل طور پر ختم کررہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ صنعتی شعبہ کا برا حال ہے ، پچھلے دس سالوں میں معیشت میں صنعت کاحصہ پہلے سے بھی کم ہو گیاہے ، ان کا کہنا تھا کہ حکومت کا کام برابر ی کا میدان دینا ہے ، حکومت صنعت کی ترقی دینے کیلئے متعدد اقدامات کررہی ہے ، آٹو انڈسٹری کاخصوصی خیال رکھا گیاہے جب ہماری صنعت میں ترقی ہوگی تو کرنٹ اکاﺅنٹ خسارہ کم ہوگا ، سپیشل اقتصادی زونز بنائے گئے ہیں ۔انہوں نے کہا کہ وہ چیزیں جو فیکٹر ی مکمل ہونے کیلئے ضروری ہیں ، وہ اس میں شامل کررہے ہیں، ہم سپیشل اکنامک زونز میں سرمایہ کاری کوفروغ دیناچاہتے ہیں، اس لئے ان میں لگنے والی مشینری پر مکمل کسٹم ڈیوٹی ، سیلز ٹیکس اور انکم ٹیکس کی 5سال کیلئے چھوٹ ہوگی ، ہم چاہتے ہیں کہ سولر پینل اور ونڈ ٹربائن پاکستان میں بنیں ، ہم اعلان کرتے ہیں کہ ایسی صنعتوں میں سرمایہ کار ی کیلئے 5سال تک کسٹم ڈیوٹی ، سیلز ٹیکس سے مکمل استثنیٰ ہوگا ، ہم چاہتے ہیں کہ سپورٹس ترقی کرے ، سپورٹس کی فرنچائز پر ٹیکس مکمل ختم کیا جارہاہے جب اس پر انکم ہوگی تو پھر ان سے ٹیکس لیا جائیگا ۔ انہوں نے کہا کہ یکم جولائی سے جتنی بھی کمپنیا ں ہیں ، ان کا سپر ٹیکس ختم کیا جارہاہے ، ان کا کہنا تھا کہ مسلم لیگ ن کی حکومت نے ایک عجیب و غریب ٹیکس لگایا تھا ، سیونگ کی حوصلہ افزائی تو دور کی بات بلکہ اس پر ٹیکس لگایا گیا جو یکم جولائی سے ختم ہوجائیگا۔

More

Related news

Leave a Reply

Close