National

Pakistan waste water is taking the loss of billions of dollars annually, World Bank

Islam Abad(94news) پاکستان اپنے آبی وسائل سے معاشی فائدہ نہیں اٹھارہا اور ملک میںپانی کا بہتر طریقے سے استعمال بھی نہیں کیا جاتا. عالمی بینک کی جانب سے شائع رپورٹ میں بتایا گیا کہ پاکستان میں جی ڈی پی کا 4 % Or almost 12 ارب روپے سالانہ پانی، نکاسی، سیلاب اور خشک سالی پر خرچ ہورہے ہیں.انڈس ڈیلٹا کے انحطاط سے معیشت کو ہونے والا نقصان تقریباً 2 ارب ڈالر سالانہ ہے جبکہ آلودگی اور دیگر ماحولیاتی انحطاط کا جائزہ نہیں لیا جاسکا. معاشی فوائد اور لاگت کے یہ اندازے ثابت کرتے ہیں کہ ملک کے پانی کے وسائل سے معاشی طور پر فائدہ نہیں ہورہا.

رپورٹ میں کہا گیا کہ ملک میں پانی کے استعمال کا طریقہ کار صحیح نہیں، زراعت کے شعبے میں سب سے زیادہ پانی کا استعمال کیا جاتا ہے جو ملک کی جی ڈی پی کا پانچواں حصہ ہے تاہم اس کا صرف آدھا حصہ سیراب فصلوں سے ہے.

The irrigation department that annual gross domestic product of the country 22 ارب ڈالر تک حصہ ڈالتا ہے جبکہ اہم ترین 4 Crops, wheat, rice, cotton and times 80 فیصدپانی کا استعمال کرتی ہیں، ان سے جی ڈی پی کا 5 Part of that is created 14 ارب ڈالر سالانہ ہے. عالمی بینک کی رپورٹ میں کہا گیا کہ پانی سے معیشت کے دیگر شراکت داروں کا صحیح اندازہ لگانا نہایت مشکل ہے تاہم ہائیڈروپاور جنریشن اس میں نمایاں ہے جس کی موجودہ مارکیٹ کی قیمت 1 Billion 2 اربڈالر تک ہے.رپورٹ میں کہا گیا کہ پانی اور پانی پر منحصر نظام کو ماحولیاتی اثرات پر بہت کم توجہ دی جاتی ہے، دریا، جھیل، نم زمین اور انڈس ڈیلٹا تنزلی کا شکار ہیں اور اس تنزلی سے حیاتیاتی نقصان، صاف پانی اور مچھلیوں کے ذخائر میں کمی سمیت دیگر ماحولیاتی نقصانات ہورہے ہیں اور ان میں ساحلی مینگروو جنگلات کی جانب سےطوفان سے تحفظ بھی شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ پانی کا بے جا اخراج اور آبادی کا بڑھنا بھی اس کی تنزلی کی اہم وجہ ہے.مذکورہ رپورٹ کے مطابق خراب پانی کے ذخائر کے انتظامات اور پانی فراہم کرنے کے نظام میں خرابی کی وجہ سے پانی کے تحفظ کو بھی نقصان پہنچ رہا ہے جس میں آبپاشی اور نکاسی، مقامی پانی کی فراہمی اور صفائی بھی شامل ہے، اس کے ساتھ ساتھ چند بڑھتے ہوئے، پانی سے متعلق طویل المدتی خدشات پر بھی کام نہیں کیا جارہا ہے. رپورٹ میں اس بات کی بھی نشاندہی کی گئی کہ آبی ذخائر کے انتظامات پانی کے ڈیٹا اور معلومات کی کمی، آبی ذخائر کی منصوبہ بندی کا کمزور ہونا، ماحولیاتی طور پر غیر مستحکم پانی کا اخراج، آلودگی اور زراعت میں پانی سے پیداوار میں کمی پر سمجھوتہ کیا جارہا ہے.عالمی بینک کی رپورٹ میں بتایا گیا کہ صوبوں میں شعبوں کے درمیان پانی کے کم یا زیادہ ہوتے مطالبات یا شدید خشک سالی سے نمٹنے کے لیے میکانزم موجود نہیں ہے جبکہ ماحولیاتی تبدیلی اور پانی کی مانگ میں اضافے سے یہ خامیاں بدتر ہونے کی خدشہ ہے. مجموعی طور پر اس شعبے میں فنڈز، تجویز کردہ سطح سے بھی نیچے ہے اور یہی صورتحال انفراسٹرکچر، اصلاحات اور اداروں کی بہتری، شہری سہولیات، سیلاب کی معلومات اور ماحولیاتی انتظامات کی بھی ہے.

More

Related news

Leave a Reply

Close