قومی

وکیل جتھہ لیکر جانےکی بجائے ڈاکٹر سے اکیلا بدلہ لیتا تو غیرت کی علامت ہوتی, سلیم صافی

اسلام آباد (94 نیوز) معروف صحافی و تجزیہ کار سلیم صافی نے کہاہے کہ اگر کسی وکیل کو کسی ڈاکٹر سے کوئی پریشانی ہوئی تھی تو وہ جتھہ لیکر جانے کی بجائے خود جاکر ڈاکٹر سے بدلہ لیتا جس سے کسی دوسرے کو کوئی گزندنہ پہنچتا ، اگرچہ یہ ٹھیک نہیں لیکن یہ غیرت کی علامت ہوتی ۔

جیونیوز کے پروگرام ”رپورٹ کارڈ“میں گفتگو کرتے ہوئے سلیم صافی نے کہا ہے کہ جہاں تک انسانی روایات کاتعلق ہے تو کسی کی صحت سے متعلق ان کے خاندان والے جو بتادیتے ہیں ،ہم اس پر یقین کرلیتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جن لوگوں نے یقین کرنا تھا ،وہ نواز شریف کی خاندان والوں اورڈاکٹرز کے کہنے کے بعد مان رہے تھے کہ نواز شریف بیمار ہیں۔

سلیم صافی کاکہناتھا کہ وکلاءکا قانون ہاتھ میں لینا قابل مذمت ہے ، یہ بہادری کی نہیں بلکہ بزدلی کی نشانی ہے ، اس ملک میں ہر کوئی کسی نہ کسی کی آڑ لے لیتا ہے لیکن بہادری کی نشانی یہ ہوتی کہ اگر کسی وکیل کو کسی ڈاکٹر سے کوئی پریشانی ہوئی تھی تو وہ جتھہ لیکر نہ جاتا بلکہ خود جاکر ڈاکٹر سے بدلہ لیتا جس سے کسی دوسرے کو کوئی گزندنہ پہنچتا، اگرچہ یہ بھی ٹھیک نہیں لیکن یہ غیرت کی علامت ہوتی ۔ انہوں نے کہا کہ اگر ڈاکٹرز کی غلطی بھی تھی تو اس میں مریضوں کی کیاغلطی تھی؟یہ وکیل عدلیہ کو بھی ہڑتالوں میں بلیک میل کرتے ہیں،جو لوگ اس وقت واقعہ کے ذمہ دار وکلا کو آڑ دینے کی کوشش کررہے ہیں ،ان کاحکومت اورعوام کوسماجی بائیکاٹ کرنا چاہئے ۔

 

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close