National

Shahbaz Gul publicly opposed the expulsion of students from the university for engaging in immoral activities

Lahore(94 news) وزیراعظم عمران خان کے معاون خصوصی شہباز گل نے یونیورسٹی میں سرعام غیر اخلاقی حرکات کرنے والے لڑکے اور لڑکی کو یونیورسٹی سے نکالنے کی مخالفت کر دی۔

تفصیلات کے مطابق گذشتہ دنوں سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک لڑکا ایک لڑکی کو یونیورسٹی میں ایک دوسرے کو گلے ملتے اور پھول دیتےدیکھا جا سکتا ہے،

اس موقع پر طالب علموں کی بڑی تعداد موجود ہوتی ہے جنہوں نے اپنے موبائل فون میں ان مناظر کو قید کیا۔دونوں طلباء لاہور کی نجی یونیورسٹی میں پڑھتے ہیں۔ ویڈیو سوشل میڈیا پر آنے کی دیر تھی کہ لوگوں کی جانب سے سخت تنقید دیکھنے میں آئی۔

یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے ایکشن لیا گیا۔یونیورسٹی انتظامیہ نے سرعام ایک دوسرے سے محبت کا اظہار کرنے پر دونوں کو یونیورسٹی سے نکال دیا اور یونیورسٹی کی حدود میں دوبارہ داخل ہونے پر پابندی لگا دی گئی۔
یونیورسٹی انتظامیہ نے موقف اپنایا کہ دونوں طلباء کو ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کرنے پر یونیورسٹی سے نکالا گیا۔سوشل میڈیا پر کچھ روشن خیال لوگوں کی جانب سے طلباء کو یونیورسٹی سے نکالنے کی مخالفت کی جا رہی ہے۔

اسی حوالے سے معاون خصوصی شہباز گل نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ یہ چھوٹے بچے ہیں اور زندگی کی بہت ساری گھمبیرتوں سے ناواقف ہیں۔ یہ درست ہے کہ انہیں اپنے کلچر تہذیب کو مد نظر رکھتے ہوئے یوں سماجی بغل گیری سے اجتناب کرنا چاہئیے تھا۔لیکن انہیں یونیورسٹی سے بے دخل کر دینا اس کا حل نہیں۔شہباز گل نے مزید کہا کہ کوئی چھوٹی سزا دے دیں۔تعلیم حاصل کرنا تو ان کا بنیادی حق ہے۔

ادھر شہباز گل کے اس بیان پر لوگوں کی ایک کثیر تعداد بھی بول پڑٰ ہے جن کا کہنا ہے کہ یونیورسٹیوں میں والدین اپنی بچیوں کی اسی لئے نہیں بھیجتے جہاں وزراء ایسے لوگوں کی پشت پناہی کریں وہاں اخلاقیات دفن ہو کر ہ جاتی ہیں۔

۔

More

Related news

Leave a Reply

Close