بین الاقوامی

بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کیا جائے گا، نریندرمودی

نئی دہلی (94نیوز) بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) نے اپنا انتخابی منشور پیش کر تے ہوا کہا ہے کہ بابری مسجد کی جگہ رام مندر تعمیر کیا جائے گا۔

تفصیلات کے مطابق بھارت کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی ( بی جے پی) نے عام انتخابات کے لیے اپنا منشور پیش کردیا ہے ۔ اس منشور میں بھی بی جے پی نے اپنی روایتی انتہا پسندی کی پالیسی کو برقرار رکھا اور نفرت کو ہوا دینے کی بھرپور کوشش کی ہے۔ بھارتی میڈیا کے مطابق بی جے پی کی جانب سے پیش کردہ منشور کو بے جے پی کی ویب سائٹ پر بھی اپ لوڈ کردیا گیا ہے۔ اس منشور میں 75 نکات پیش کئے گئے ہیں جنہیں 2022ء تک مکمل کیا جائے گا۔ بھارتی وزیر داخلہ راج ناتھ سنگھ نے بتایا کہ یہ منشور ایک سو تیس کروڑ بھارتیوں کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے بنایا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ دہشت گردی کے خلاف زیرو ٹالرنس کی پالیسی برقرار رہے گی اور ملک کی حفاظت پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جائے گا۔

بی جے پی کے منشور کے مطابق بابری مسجد کی جگہ رام مندر کی تعمیر کی جائے گی اور مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق بھارتیآئین کے آرٹیکل 370 اور 35A کو ختم کرنے کی کوشش کریں گے، جبکہ پاکستان سے آئے پناہ گزینوں کی مالی مدد کریں گے۔

واضح رہے کہ بھارت کی حکمران جماعت  بی جے پی کے رہنماؤں بالخصوص بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی کو پاکستان کے خلاف زہر اُگلتے ہوئے ہی دیکھا گیا ہے۔اس حوالے سے امریکی ماہرین نے بھی خدشہ ظاہر کیا ہے کہ پاک بھارت سرحدوں پر تاحال کشیدگی برقرار ہے ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی نے الیکشن کو اپنی سیاسی بقا قرار دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان کو دوٹوک جواب دینے کے لئے ضروری ہے کہ بھارت میں ایک مضبوط حکومت ہو ۔ اس حوالے سے امریکی ماہرین کا خیال ہے کہ پاکستان اور بھارت کے مابین جنگ کے بادل ابھی پوری طرح چھٹے نہیں ۔بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی الیکشن کے آخری وقت تک کوئی بھی ایکشن لے سکتے ہیں۔

واضح رہے کہ اپنی انتخابی مہم کے دوران بھارتی وزیراعظم نریندرا مودی نے پاکستان پر سرجیکل اسٹرائیک کرنے اور پاکستان کا ایف سولہ طیارہ تباہ کرنے کا دعویٰ کیا تھا جو عالمی رپورٹس میں بھی جھوٹا قرار دے دیا گیا جس سےبھارت کو پوری دنیا کے سامنے سخت شرمندگی کا سامنا کرنا پڑا۔مودی سرکار کا جنگی جنون دیکھتے ہوئے یہ خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے کہ اپنی ناکامی کو چھُپانے کے لیے مودی سرکار کسی بھی وقت کوئی کارروائی کر سکتی ہے، ہو سکتا ہے کہ یہ کارروائی بھارت میں ہی کی جائے جس کا الزام ہمیشہ کی طرح پاکستان پر عائد کیا جائے یا ہو سکتا ہے کہ بھارت پھر سے پاکستان میں ہی کوئی دراندازی کی کوشش کرے۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close