کالم

7 ستمبر یوم تحفظ ختم نبوت، قومی اسمبلی کا تاریخ ساز دن


94 نیوز کالم نگار ۔ طارق محمود جہانگیری کامریڈ لاھور
7 ستمبر کا دن پاکستان اور دنیا بھر کے مسلمانوں کے لیے تحریک ختم نبوت 1974 کے تناظر میں یومِ تحفظ ختم نبوت کے طور پر منایا جاتا ہے۔ لیکن یہ دن اب رسمی طور صرف مزاھب اسلامیہ کے چند مخصوص فرقوں، مسالک میں بڑی عقیدت و احترام کے ساتھ تقریبات کی صورت میں منایا جاتا ہے ۔ یاد رہے کہ 7 ستمبر 1974 یومِ ختمِ نبوت تاریخ کا وہ دن ہے۔ جب قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر قادیانیوں کو آئینِ پاکستان میں غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا ۔ یہ فیصلہ طویل بحث اور 23 دنوں کی مسلسل مفصل کارروائی کے بعد کیا گیا۔ جس میں تمام مکاتبِ فکر کے جلیل القدر علماء اور اراکینِ اسمبلی نے متفقہ کردار ادا کیا تھا ۔آئینِ پاکستان کی دفعہ 106 اور 260 میں اس فیصلے کا باقاعدہ اندراج کیا گیا۔ علماء کرام یہ دن عقیدہ ختم نبوت کی پاسداری اور تجدیدِ عہدِ وفا کے طور پر مناتے ہیں ۔ اس دن مختلف مساجد، دینی مدارس میں خصوصی تقریبات، سیمینارز اور کانفرنسز کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ جن میں ختم نبوت کی اہمیت کو اجاگر کیا جاتا ہے۔ واضح رہے کہ 1974 میں وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو کے دور میں احمدیوں جن کو عام زبان میں قادیانی بھی کہا جاتا ہے۔ مرزا غلام احمد قادیانی کے پیروکاروں کو غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا گیا۔ پاکستان کی قومی اسمبلی نے مشترکہ طور پر قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دیا۔ بہت سی دینی جماعتیں اسے یوم تحفظ ختم نبوت اور یومِ تجدید عہد قرار دیتے ہیں۔7 ستمبر ایسا دن ہے جسے یومِ دفاع ختم نبوت کے نام سے جانا جاتا ہے۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی نے لاہوری و قادیانی مرزائیوں کے خلاف مسلمانوں کی جہدوجہد کو تسلیم کرتے ہوئے ایک قرار دادِ اقلیت کے ذریعے غیر مسلم اقلیت قرار دیا تھا۔ اِس سے پہلے پاکستان میں مرزا غلام احمد قادیانی اور اس کے ماننے والوں کو کافر کہنا جرم تھا لیکن 7 ستمبر 1974 کے بعد مرزا قادیانی اور اُس کے ماننے والوں کو مسلمان کہنا جرم قرار دیا گیا۔ اور اس آئینی قرار دادِ اقلیت پر ان ارکان قومی اسمبلی نے بھی دستخط کئے تھے ۔ جنہوں نے 1973 کے آئین کی تشکیل کے وقت اختلاف کرتے ہوئے اس پر نہیں کئے تھے۔ اس اعتبار سے یہ قرار دادِ اقلیت 1973 کے آئین سے بھی زیادہ متفق علیہ تسلیم کی جاتی ہے ۔ تمام مکاتب فکر دستوری خاکے 22 نکات میں ترمیم کرکے 23 واں نکتہ منظور کر چکے تھے۔ اس نکتہ کے مطابق لاہوری و قادیانی مرزائیوں کو ملک کی ساتویں اقلیت قرار دیا۔ واضح رہے کہ 1953 میں تمام دینی جماعتیں تین مطالبات پیش کر چکی تھیں کہ ظفر اللہ خاں سے وزارت خارجہ کا قلمدان واپس لیا جائے۔ مرزائیوں کو سول و فوج کے کلیدی عہدوں سے ہٹایا جائے۔یہ تین مطالبات کل جماعتی مجلس عمل تحفظ ختمِ نبوت کے مشترکہ اتحاد سے اہل اقتدار کو پیش کئے گئے ۔ لیکن مطالبات تسلیم کرنے کی بجائے مسترد کردئیے گئے۔ مطالبات کی منظوری کے لئے پُرامن تحریک چلی۔ تحریک مقدس تحفظ ختمِ نبوت کو ریاستی طاقت سے کچل دیا گیا۔ بالخصوص پنجاب بھر کے مختلف اضلاع اور شہروں میں دس ہزار فرزندانِ اسلام کے سینے گو لیوں سے چھلنی کر دئیے گئے۔ لیکن تحریک ختمِ نبوت اپنے مدارج طے کرتی رہی۔ 29 مئی 1974کو نشتر میڈیکل کالج کے طلباء اپنے سیاحتی سفر سے بذریعہ ٹرین واپس آرہے تھے. کہ ربوہ (چناب نگر ) ریلوے اسٹیشن پر قادیانی غنڈوں نے ان پر حملہ کردیا. طلباء اسٹیشن پر ختمِ نبوت زندہ باد کے نعرے لگائے تھے۔ مجلس تحفظ ختمِ نبوت کی میزبانی میں 1953 کی طرح تمام مکاتب فکر اور بعض سیاسی زُعما ایک ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے اس تحریک ختم نبوت نے پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔ تحریک دن بدن زور پکڑتی گئی۔ بالآخر 22 اراکین قومی اسمبلی نے مرزائیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دئیے جانے کے حوالے سے قرار داد پیش کی۔ ان سب کی نمائندگی مولانا شاہ احمد نورانی کی تھی ۔ دونوں فریقین کے مؤقف کو پوری طرح سنا گیا۔ قومی اسمبلی میں ایک ترمیمی بل پیش کیا گیا۔ اس بل کا متن یہ تھا کہ آئین کی دفعہ 260 میں شق نمبر 2 کے بعد نئی شق نمبر 3 درج کی جائے ۔ اس نئی شق کے مطابق جو شخص محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے خاتم النبین ہونے پر قطعی اور غیر مشروط طور پر ایمان نہیں رکھتا۔ نبی ہونے کا دعویٰ کرتا ہے یا کسی ایسے مدعی کو نبی تسلیم کرتا ہے۔ وہ آئین یا قانون کے اغراض کے لئے مسلمان نہیں ہے ۔ اس بل کا مقصد یہ تھا کہ ایسے شخص کو غیر مسلم قرار دیا جائے۔ اِس تاریخی قرار داد کی متفقہ طور پر منظوری کے بعد وزیر اعظم پاکستان ذوالفقار علی بھٹو نے ایوان میں اِس قرار داد کے حوالے سے تاریخی خطاب کیا ۔ انہوں نے کہاکہ یہ فیصلہ پاکستان کے مسلمانوں کے ارادے ،خواہشات اور ان کے جذبات کی عکاسی کرتا ہے ۔ بھٹو شہید جب اپنی زندگی کے آخری ایام اسیری اڈیالہ جیل میں گزار رہے تھے تو انہوں نے ڈیوٹی آفیسر کرنل رفیع الدین سے کہا تھا کہ یہ لوگ چاہتے ہیں کہ ہم ان کو پاکستان میں وہ مرتبہ دیں۔ جو یہو دیوں کو امریکہ میں حاصل ہے ۔ جبکہ احمدیوں کا یہ کہنا تھا کہ ان کے خلیفہ کی بد دعا کا نتیجہ ہے کہ ذوالفقار علی بھٹو کال کوٹھری میں پڑا ھے۔ بھٹو کا یہ بھی کہنا تھا کہ اگر وہ مجھے اپنے آپ کو غیر مسلم قرار دینے کا ذمہ دار ٹھہرا تے ہیں تو کوئی بات نہیں ۔ میں تو بڑا گناہ گار ہوں۔ کیا معلوم کہ میرا یہ عمل ہی میرے گناہوں کی تلافی کر جائے۔ اور اللہ تعالیٰ میرے تمام گناہ اس نیک عمل کی بدولت معاف کردے۔ یہ تمام باتیں کرنل رفیع الدین کی تاریخ کتاب بھٹو کے آخری 323 دن میں جلی حروف میں درج ہیں ۔ 1984 میں صدر جنرل محمد ضیاء الحق نے قادیانیوں کو روکنے کے لئے امتناع قادیانیت ایکٹ جاری کیا جو بعد میں تعزیرات پاکستان کا حصہ بنا۔ یہ ایک کھلی حقیقت ہے جس کو کسی طرح سے جھٹلایا نہیں جا سکتا ھے کہ سابق وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کے دور حکومت میں آئینی ترمیم کے تحت قادیانی اقلیت قرار پائے اور فتنہء قادیانیت کا مستقل بنیادوں پر سدّباب ہوا۔ متفقہ آئینی ترمیم کے ذریعے قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانا بلاشبہ ذوالفقار علی بھٹو کا بہت بڑا کارنامہ ھے ۔ یاد رہے کہ قومی اسمبلی میں مرزا ناصر نے اپنے ایک بیان میں قادیانیوں کے سوا کسی کو بھی مسلمان تسلیم کرنے سے انکار کیا تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو سمیت قومی اسمبلی کے تمام مسلم ارکان اور وفاقی وزیر قانون عبدالحفیظ پیر زادہ کی پیش کردہ آئینی ترمیم کی متفقہ طور پر منظوری دے دی ۔ جس کے بعد سینٹ نے بھی اس آئینی ترمیم کی متفقہ منظوری دی۔ 7 ستمبر 1974 کے بعد ملک میں فتنہ قادیانیت کو فروغ دینے یا اسکے پملفٹ اور کتب تقسیم کرنے کی قانوناً ممانعت ہے۔ آج کوئی قادیانی خود کو مسلمان نہیں کہہ سکتا۔ اور نہ ہی انکی کسی عبادت گاہ کو مسجد کا درجہ دیا جا سکتا ہے۔ 7 ستمبر 1974 کے دن کو تحفظ ختم نبوت ؐکے حوالے سے بے پناہ اہمیت حاصل ہے۔ چند سال قبل بھی قومی اسمبلی نے متفقہ طور پر ایک قانون کی منظوری دی۔ جس کے تحت رحمتہ للعالمین صلی اللہ علیہ وسلم کانام جہاں بھی لکھا اور ادا کیا جائیگا۔ اسکے ساتھ خاتم النبین لکھنا اور کہنا لازم قرار دیا گیا ہے۔ جو ہر مسلمان کی دلی تمنا تھی۔ پنجاب اسمبلی کی نئی بلڈنگ میں سپیکر ڈائس کے اوپر جلی طور پر قرآن کریم کی وہ آیت کندہ ھے ۔ جس میں رب العالمین نے اپنی آخری الہامی کتاب قرآن مجید میں اپنے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے آخری نبی ہونے کی گواہی دی ہے۔ صوبائی اسپیکر چودھری پرویز الٰہی نے پنجاب اسمبلی میں باقاعدہ قانون سازی کے ذریعے نکاح فارم پر دلہا دلہن کیلئے یہ اقرار نامہ بھی درج کرایا کہ وہ عقیدہ ء ختم نبوّت پر کامل یقین رکھتے ہیں۔ قیام پاکستان کے بعد فتنہ قادیانیت کی سرکوبی کیلئے مولانا عبدالستار خان نیازی، مولانا مودودی، علامہ ابو الحسنات اور عطاء اللہ شاہ بخاری کی زیر قیادت تحفظ ختم نبوت کی عظیم تحریک کا آغاز کیا گیا۔ اس تحریک میں دس ہزار مسلمانوں نے تحفظ ختم نبوت کی خاطر اپنی جانیں نچھاور کیں۔ اور شہادت کا بلند مقام پایا۔ جبکہ مولانا مودودی، مولانا عبدالستار خان نیازی اور مولانا خلیل احمد قادری کو اس تحریک کی پاداش میں سزائے موت سنائی گئی۔ بعد ازاں تحریک تحفظ ختم نبوت کے جذبے نے ہی تینوں جید علماء کرام کی سزائے موت کے خاتمے کی راہ ہموار کی۔ 29 مئی کو ربوہ چناب نگر کے ریلوے سٹیشن پر سینکڑوں افراد نے جن میں قادیانیوں کے قصر خلافت کے معتمدین، تعلیم الاسلام کالج کے طلبہ، اساتذہ اور قادیانی دکاندار بھی شامل تھے۔ لاٹھیوں کلہاڑیوں اور برچھیوں سے مسلح ہوکر ٹرین میں سوار نشتر میڈیکل کالج کے طلبہ پر حملہ کر دیا تھا ۔ اس واقعہ کا ملک بھر میں سخت ردعمل ہوا۔ دینی جماعتوں کی اپیل پر پاکستان بھر کے مختلف شہروں میں ہڑتالوں اور مظاہروں کا سلسلہ شروع ہو گیا۔ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا مطالبہ زور پکڑ گیا۔ اس وقت قومی اسمبلی میں نوابزادہ نصراللہ خان ، مولانا شاہ احمد نورانی، مفتی محمود، پروفیسر غفور احمد بطور رکن موجود تھے۔ جنہوں نے سیاسی اور مذہبی جماعتوں کے قائدین کا ایک ہنگامی اجلاس بلایا۔ جس میں تحریک تحفظ ختم نبوت کیلئے مجلس عمل تشکیل پائی۔ قومی اسمبلی کے 44 ارکان کے دستخطوں کے ساتھ قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دلانے کا بل اسمبلی میں پیش کیا گیا۔ 30 جون کو متفقہ طور پر ایک قرارداد قومی اسمبلی میں پیش کی گئی ۔ پوری قومی اسمبلی کو خصوصی کمیٹی کا درجہ دیکر بل پر بحث شروع کردی گئی۔ اسمبلی کی کارروائی کے دوران مرزا ناصر احمد اور مرزا صدر الدین کو بھی بلوایا گیا۔ جن پر اٹارنی جنرل یحییٰ بختیار نے جرح کی ۔ بھٹو حکومت نے وزیر قانون عبدالحفیظ پیرزادہ کے ذریعے ایک آئینی ترمیم اسمبلی میں پیش کر دی۔ جس میں قادیانیوں کو غیر مسلم اقلیت قرار دینے کا تقاضا کیا گیا۔ یہ آئینی ترمیم 7 ستمبر 1974 کو متفقہ طور پر منظور کرلی گئی۔ اس ساری کارروائی میں قومی اسمبلی نے اڑھائی ماہ کے عرصہ میں 28 اجلاس بلائے۔ اور 96 گھنٹوں پر مشتمل مجموعی نشستیں ہوئیں۔ تمام سیاسی قیادتوں نے قادیانیوں کو آئین پاکستان کے تحت غیر مسلم اقلیت قرار دلانے میں نمایاں کردار ادا کیا۔ 7 ستمبر 1974 کو قومی اسمبلی میں 130 ووٹوں کے ساتھ اتفاق رائے سے منظور کی گئی۔ آئینی دفعہ 106 کی ترمیم کے تحت قادیانی اور لاہوری گروپ کو اقلیتوں کی فہرست میں شامل کیا گیا۔ آئین کی دفعہ 260 میں ایک نئی شق کا اضافہ کیا گیا۔ اس آئینی ترمیم کی منظوری پر وزیراعظم ذوالفقار علی بھٹو کو اپوزیشن کی جانب سے زبردست خراج تحسین پیش کیا گیا۔ 7 ستمبر 1974 کی رات آٹھ بجے ریڈیو پاکستان نے یہ خبر نشر کی کہ مرزائیوں کو قومی اسمبلی اور سینٹ نے متفقہ طور پر غیر مسلم اقلیت قرار دے دیا ہے۔ قادیانی آج بھی خود کو مسلمان کہلوانے پر بضد ہیں۔ دو تین سال قبل سپریم کورٹ کے ایک فیصلہ میں قادیانیوں کے انسانی حقوق کی بات کی گئی۔ جس پر ملک بھر میں پوری قوم کی طرف سے سخت ردعمل کا اظہار سامنے آیا چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس قاضی فائر عیسیٰ نے اپنے فیصلہ میں سرزد ہونے والی غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے اس فیصلہ کے دو متعلقہ پیرا گراف حذف کرا دیئے ۔ خاتم النبین ص کی حرمت کے تقدس کے لیے پیر سید جماعت علی شاہ کی گراں قدر خدمات کو فراموش نہیں کیا جاسکتا ہے ۔ آج یومِ تحفظِ ختمِ نبوّت زیادہ جوش وجذبے سے منانے کی ضرورت ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button