National

In the name of Green Pakistan plan and corporate farming, lands are being taken away from farmers, press conference of Farooq Tariq, Baba Latif Ansari and Mehr Ghulam Abbas.

زمین خالی نہیں کریں گے، ہم لڑنے کیلئے تیار ہیں، کارپوریٹ فارمنگ کو رد کرتے ہیں، مزارعین

Lahore (94 News City Reporter) پاکستان کسان رابطہ کمیٹی، انجمن مزارعین پنجاب اور پاکستان لیبر قومی موومنٹ کے فاروق طارق, بابا لطیف انصاری اور مہر غلام عباس نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا ہے کہ پورے پاکستان میں زرعی اصلاحات کی جائیں، زمین مزارعین، بے زمین کسانوں، زرعی مزدوروں اور چھوٹے کسانوں کو دی جائے یہ ان کا قانونی حق ہے ان کو حق دیا جائے، ورنہ ہم اپنا حق لینا جانتے ہیں۔ ہم لاہور ہائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں ان ناانصافیوں کے خلاف قانونی جنگ بھی لڑ رہے ہیں۔ ہم سندھ اور پورے پاکستان کے مزارعین، ھاریوں اور کسانوں کے ساتھ ہیں۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان بھر میں گرین پاکستان منصوبہ (Green Pakistan Initiative) اور کارپوریٹ فارمنگ کے نام پر وہ تمام سرکاری زمینیں جن پر مزارعین سو سال سے زائد عرصہ سے آباد ہیں انکو پرائیویٹ کمپنیوں کے نام کیا جارہا ہے۔ ابھی تک 4.8 ملین ایکڑ اراضی کی نشاندہی کی گئی ہے۔

تفصیلات کے مطابق اب تک 0.9 Million (About 10 لاکھ ایکڑ) ایکڑ اراضی الاٹ کی جا چکی ہے جس میں پنجاب میں 811,619 ایکڑ، سندھ میں 52,713 ایکڑ، بلوچستان میں 47,606 اور خیبرپختونخوا میں 74,140 ایکڑ اراضی شامل ہے۔ چولستان میں کارپوریٹ فارمنگ شروع ہو چکی ہے اور اب تک دو لاکھ ایکڑ اراضی کا معاہدہ ہو چکا ہے۔ اور اس سب میں مزارعین، ھاریوں اور چھوٹے کسانوں کی زمینوں کو چھینا جا رہا ہے۔

پنجاب میں اوکاڑہ کے علاوہ عارف والا میں محمد نگر سیڈ فارم کی 27 ہزار ایکٹر زمین اس وقت پرائیویٹ کمپنیوں کے نام کر دی گئی ہے۔ اور یہ سلسلہ باقی فارمز میں بھی شروع کیا جارہا ہے۔ ڈپٹی کمشنرز اور ریاستی اداروں کی جانب سے مختلف فارمز کی زمینوں کو خالی کرنے کے احکامات بھی جاری کئے گئے ہیں۔ مزارعین کو دھمکیاں دی جارہی ہیں کہ جلد سے جلد زمینیں خالی کرو ورنہ پولیس کاروائیاں اور آپریشن کریگی۔ لیکن اس کے خلاف مزاحمت کا سلسلہ بھی شروع ہو گیا ہے۔ ایسا ہی ایک واقعہ دو ہفتے پہلے عارف والا کے قریب محمد نگر سیڈ فارم پر ہوا۔ جب اس زمین کا قبضہ لینے پولیس کی بھاری نفری وہاں پہنچی اور 700 سے زائد مزارعین نے پولیس کا راستہ روک دیا اور انہیں شدید مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا۔ بلا آخر پولیس قبضہ لئے بغیر واپس جانے پر مجبور ہوئی مگرمزارعین پیچھےنہیں ہٹے۔

پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کے جنرل سیکرٹری فاروق طارق نے کہا کہحکومت زمینی اصلاحات متعارف کرانے کے بجائے کارپوریٹ فارمنگ کے ذریعے جاگیردارانہ نظام کو مضبوط کرنے کی کوشش کر رہی ہے اور یہ اس پالیسی کو چھوٹے کسانوں اور مزارعین اور بے زمین کسانوں کے خلاف قرار دیا۔پاکستان کسان رابطہ کمیٹی کا کہنا ہے کہ یہ وہی کارپوریٹ فارمنگ اقدام ہے جسے حکومت جنرل پرویز مشرف کے دور سے متعارف کرانے کی کوشش کر رہی ہے لیکن نئی اصطلاحات کے ساتھ جیسے غیر ملکی سرمایہ کاری کو راغب کرنا اور لاکھوں ملازمتیں پیدا کرنا، جو کہ سب دکھاوا ہے۔ پاکستان لیبر قومی موومنٹ کے چیئرمین بابا لطیف انصاری نے کہا کہ ایوب دور کے سبز انقلاب نے کیمیاوی کھاد اور کیڑے مار ادویات متعارف کروا کر طویل مدت تک زمینوں اور ان کی پیداواری صلاحیت کو نقصان پہنچایاہے اور اب اس کارپوریٹ فارمنگ کو دوسرا سبز انقلاب بنا کر پیش کیا جا رہا ہے۔ پاکستان کسان رابطہ حکومت سے مطالبہ کرتی ہے کہ قومی غذائی تحفظ کو بہتر بنانے کے لیے یہ زمینیں بے زمین کسانوں کو دی جائیں، یہ ان کا حق ہے۔

انجمن مزارعین پنجاب کے صدر مہر غلام عباس نے کہا کہ صرف سرمایہ دار طبقہ کو خوش کرنے کے لیے ناجائز طور پر ہم سے ہمارا حق چھیننے کی کوشش کی جارہی ہے۔ 100 سال سے زائد عرصہ سے ہمارے بزرگ یہاں پر آباد ہیں اور تب یہ زمینیں بنجر، غیر آباد اور ویران تھیں،جن کو ہمارے بزرگوں نے خون پسینہ ایک کر کے جانوروں پہ ہل جوت کر کاشت کے قابل بنایا اور آج بنی ہوئی زمینوں پر ظالمانہ طریقے سے قبضہ کرنے کے لیے ہر طرح کے اوچھے ہتھکنڈے استعمال کیے جارہے ہیں۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button