Column

عقیدت کے چراغ سے اصلاحِ کردار تک

Tremolo: عمران بٹ 94 news

اسلامی تاریخ کے آسمان پر کچھ شخصیات ایسی گزری ہیں جن کا ذکر صدیوں بعد بھی دلوں میں عقیدت، محبت اور احترام کے جذبات پیدا کرتا ہے۔ ان برگزیدہ ہستیوں میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا نام نمایاں ہے۔ برصغیر کے مسلمان محبت سے انہیں پیرانِ پیر، غوثِ اعظم، دستگیر اور محی الدین جیسے القابات سے یاد کرتے ہیں۔ آپ کی نسبت سے منعقد ہونے والی گیارہویں شریف بالخصوص برصغیر کے مذہبی اور روحانی ماحول کا ایک معروف حصہ بن چکی ہے۔
گیارہویں شریف محض ایک تقریب یا رسم کا نام نہیں ہونا چاہیے؛ اس کا اصل حسن اس وقت سامنے آتا ہے جب یہ انسان کو قرآن، سنت، ذکرِ الٰہی، صدق، تقویٰ، خدمتِ خلق اور اصلاحِ نفس کی طرف لے جائے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی زندگی کا مطالعہ بھی یہی سبق دیتا ہے کہ بزرگانِ دین کی محبت کا حقیقی تقاضا ان کی تعلیمات اور کردار کو اپنی زندگی میں جگہ دینا ہے حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ جیلان سے بغداد پہنچے اور وہاں دینی علوم حاصل کیے۔ تاریخی و ادبی مآخذ میں آپ کے علم، زہد، تقویٰ اور وعظ و اصلاح کا خصوصی ذکر ملتا ہے۔ آپ فقہ، حدیث، تفسیر اور دیگر دینی علوم سے وابستہ رہے اور بغداد میں آپ کی خانقاہ اصلاح و تربیت کا اہم مرکز بنی۔ آپ کی شخصیت کا سب سے اہم پہلو یہ ہے کہ آپ نے روحانیت کو شریعت سے جدا نہیں سمجھا۔ آپ کی منسوب تعلیمات میں عبادت، اخلاص، توکل، ذکر، تزکیۂ نفس اور اخلاقی اصلاح کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہی وجہ ہے کہ آپ کی شخصیت صوفیانہ روایت میں صرف کرامات کے حوالے سے نہیں بلکہ علم، عمل اور اصلاح کے حوالے سے بھی اہم سمجھی جاتی ہے۔برصغیر میں 11 ربیع الثانی کو حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی نسبت سے گیارہویں شریف منانے کی روایت معروف ہے۔ ایک معروف دینی ماخذ کے مطابق حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کا وصال 11 ربیع الثانی سے منسوب کیا جاتا ہے اور اسی نسبت سے اس دن ایصالِ ثواب کی مجالس اور گیارہویں شریف کا رواج پیدا ہوا۔
اس موقع پر مسلمان قرآن خوانی، ذکر و اذکار، نعت و منقبت، دعا اور صدقہ و خیرات کا اہتمام کرتے ہیں اور ثواب کا ایصال کرتے ہیں۔ اس عمل کی جزئیات اور شرعی حیثیت کے بارے میں علماء کے درمیان مختلف آرا موجود ہیں، اس لیے ضروری ہے کہ عقیدت کے ساتھ علم اور اعتدال کو بھی پیشِ نظر رکھا جائے بزرگانِ دین کے ایصالِ ثواب کی محفل کی اصل روح صرف کھانا تقسیم کرنا یا مجلس منعقد کرنا نہیں بلکہ دل کی اصلاح ہے۔ اگر گیارہویں شریف ہمیں نماز کی پابندی سکھائے، اگر یہ ہمیں جھوٹ سے بچائے، اگر یہ ہمارے دل سے تکبر نکالے، اگر یہ ہمیں والدین کی خدمت کی طرف متوجہ کرے، اگر یہ ہمیں غریب اور محتاج کی مدد کا جذبہ دے،اگر یہ ہمیں حقوق العباد کی ادائیگی یاد دلائے،تو یقیناً ایسی محفل ہمارے لیے اصلاح کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
حضرت عبدالقادر جیلانیؒ کی نسبت سے سب سے بڑا سبق یہی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کا بندہ بنے، اپنے نفس کا محاسبہ کرے اور مخلوقِ خدا کے لیے آسانی پیدا کرے۔
کرامت سے زیادہ کردار
اولیائے کرام کے تذکروں میں کرامات کا ذکر ایک معروف روایت ہے، لیکن خود حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی شخصیت کو صرف کرامات تک محدود کر دینا ان کی علمی اور اصلاحی خدمات کو محدود کرنا ہوگا۔ ایک دینی ماخذ بھی اس بات پر زور دیتا ہے کہ حضرت غوثِ اعظمؒ کی شخصیت کو صرف کرامات کے زاویے سے نہیں بلکہ ان کے علمی، فکری، روحانی اور معاشرتی کردار کے تناظر میں بھی دیکھا جانا چاہیے۔یہی بات آج کے دور میں خاص طور پر قابلِ غور ہے۔ ہم بزرگوں کے واقعات تو بڑے شوق سے سنتے ہیں، لیکن ان کی تعلیمات پر عمل کے معاملے میں اکثر کمزور پڑ جاتے ہیں۔ ہم ان کے نام کی محفل سجاتے ہیں مگر اپنے کاروبار میں دیانت، گھریلو زندگی میں حسنِ اخلاق، معاشرے میں انصاف اور معاملات میں سچائی کو بھول جاتے ہیں۔یہ وہ مقام ہے جہاں ہمیں رک کر اپنے دل سے سوال کرنا چاہیے۔آج ہمارا معاشرہ بے شمار مسائل کا شکار ہے۔ معاشی پریشانی، بے روزگاری، مہنگائی، گھریلو تنازعات، عدم برداشت، جھوٹ، ملاوٹ، بددیانتی اور سوشل میڈیا پر اخلاقی حدود کی پامالی جیسے مسائل ہماری اجتماعی زندگی کو متاثر کر رہے ہیں۔ایسے ماحول میں حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیمات کا پیغام انتہائی سادہ مگر گہرا ہے: انسان پہلے اپنے نفس کو درست کرے۔اگر دل میں تقویٰ پیدا ہو جائے تو زبان جھوٹ سے بچتی ہے۔ اگر دل میں خوفِ خدا ہو تو ہاتھ خیانت سے رک جاتا ہے۔ اگر دل میں محبت ہو تو انسان دوسروں کے لیے آسانی پیدا کرتا ہے۔
اگر دل میں اخلاص ہو تو عبادت دکھاوے کے بجائے اللہ کے لیے ہوتی ہے۔
اسی لیے گیارہویں شریف کا سب سے خوبصورت پیغام یہ ہو سکتا ہے کہ ہم ایک دن کے لیے نہیں بلکہ پورے سال کے لیے اپنی زندگی میں اصلاح کا عہد کریں۔اس موقع پر غریبوں، مسکینوں، یتیموں اور ضرورت مندوں کو کھانا کھلانا اور ان کی مدد کرنا ایک ایسی سماجی نیکی ہے جس سے معاشرے میں محبت اور بھائی چارہ پیدا ہو سکتا ہے۔اگر ایک گیارہویں شریف کے موقع پر ایک خاندان اپنے اردگرد چند ضرورت مند خاندانوں کی مدد کا مستقل سلسلہ شروع کر دے تو یہ صرف ایک مجلس نہیں رہے گی بلکہ ایک مسلسل خیر کا ذریعہ بن سکتی ہے۔
بزرگانِ دین کی محبت کا ایک خوبصورت اظہار یہی ہے کہ ان کے ذکر کے ساتھ انسان مخلوقِ خدا کے کام بھی آئے۔دینی معاملات میں محبت اور عقیدت اپنی جگہ، لیکن ہر روایت کو تاریخی حقیقت کے طور پر بیان کرنا ضروری نہیں۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ سے متعلق بعض حکایات اور کرامات صدیوں کے دوران مختلف کتابوں اور روایات میں نقل ہوئی ہیں، اور محققین نے بعض منسوب روایات کی صحت اور اسناد پر بھی گفتگو کی ہے۔لہٰذا بہتر طریقہ یہ ہے کہ مستند تاریخی معلومات کو الگ رکھا جائے اور روایتی حکایات کو حکایت یا منقول روایت کے طور پر بیان کیا جائے۔ اس سے نہ عقیدت کم ہوتی ہے اور نہ بزرگوں کی عظمت؛ بلکہ دینی گفتگو میں علمی دیانت پیدا ہوتی ہے۔بڑی گیارہویں شریف کے موقع پر اگر ہم حضرت غوثِ اعظمؒ کے نام پر صرف محفل سجائیں، کھانا پکائیں اور چراغاں کریں، لیکن نماز میں سستی، معاملات میں بددیانتی، زبان میں سختی اور دل میں کینہ برقرار رہے تو ہمیں اپنے عمل کا محاسبہ کرنا چاہیے۔ اور اگر اسی محفل کے بعد ایک شخص نماز کا پابند ہو جائے، ایک شخص اپنے والدین سے حسنِ سلوک شروع کر دے،ایک تاجر ملاوٹ چھوڑ دے،ایک نوجوان بری صحبت سے نکل آئے، ایک صاحبِ حیثیت انسان کسی غریب کی مستقل کفالت شروع کر دے،اور ایک ناراض خاندان دوبارہ محبت سے جڑ جائے، تو یہ محفل اپنے اندر ایک حقیقی اصلاحی اثر پیدا کر سکتی ہے۔آج ضرورت کس چیز کی ہے؟آج ہمیں بزرگوں کے تذکرے کے ساتھ ان کے پیغام کی ضرورت ہے۔
ہمیں ایسی گیارہویں چاہیے جو ذکر بھی دے اور فکر بھی۔ایسی گیارہویں جو محبت بھی دے اور عمل بھی۔ ایسی گیارہویں جو دل کو نرم اور کردار کو مضبوط کرے۔ ایسی گیارہویں جو ہمیں یہ یاد دلائے کہ اللہ تعالیٰ کی بندگی صرف مسجد اور خانقاہ تک محدود نہیں بلکہ بازار، دفتر، گھر، عدالت، مدرسہ، درس گاہ اور معاشرتی معاملات—ہر جگہ انسان کے کردار سے ظاہر ہوتی ہے۔ حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی تعلیمات میں شریعت اور طریقت کے باہمی تعلق، تزکیۂ نفس، اخلاص اور روحانی تربیت کو نمایاں اہمیت دی جاتی ہے۔ بڑی گیارہویں شریف ہمیں ماضی کی ایک عظیم روحانی شخصیت کی یاد دلاتی ہے، مگر اس یاد کا مقصد صرف ماضی میں کھو جانا نہیں ہونا چاہیے۔ اصل مقصد یہ ہے کہ ہم اپنے حال کو بہتر بنائیں اور اپنے مستقبل کو نیکی، تقویٰ اور خدمت سے روشن کریں۔
پیرانِ پیر حضرت شیخ عبدالقادر جیلانیؒ کی محبت ہمارے دلوں میں زندہ رہے، مگر اس محبت کا سب سے خوبصورت ثبوت ہمارا کردار ہو۔
ہم ذکر کریں تو عمل بھی کریں۔ہم نعت پڑھیں تو اخلاق بھی سنواریں۔ ہم ایصالِ ثواب کریں تو مخلوقِ خدا کا حق بھی ادا کریں۔ ہم غوثِ اعظمؒ کو یاد کریں تو ان کی اصلاحی تعلیمات کو بھی یاد رکھیں۔ یہی گیارہویں شریف کا وہ پیغام ہے جو ایک دن کی محفل سے نکل کر پورے معاشرے کی اصلاح کا ذریعہ بن سکتا ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اولیائے کرام سے سچی محبت، قرآن و سنت پر عمل، اخلاص، تقویٰ، حسنِ اخلاق اور خدمتِ خلق کی توفیق عطا فرمائے۔ آمین۔

Show More

Related Articles

Leave a Reply

Back to top button