تقریبات/سیمینارز

زرعی تحقیقی اداروں کی لیبارٹریوں کی اپ گریڈیشن، 11 اداروں کے لیے تحقیقی آلات اور جدید مشینری مختص

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) بین الاقوامی ادارے انٹرنیشنل میز اینڈ وہیٹ امپروومنٹ سینٹر (CIMMYT) اور حکومتِ پاکستان کے اشتراک سے گندم کی تحقیق، بہتر اقسام کی تیاری اور غذائی تحفظ کے فروغ کے لیے جدید سہولیات فراہم کی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ (AARI) فیصل آباد کے ادارہ برائے گندم تحقیق میں جدید لیبارٹری اور ورکنگ ایریا کا افتتاح کیا گیا۔یہ اقدام پاکستان اور CIMMYT کے درمیان چھ دہائیوں پر محیط زرعی تعاون کے موقع پر کیا گیا۔ منصوبے کے تحت پانچ تحقیقی اداروں کی لیبارٹریوں کو جدید آلات فراہم کیے جا رہے ہیں، جبکہ 11 اداروں کے لیے تجرباتی گہائی کے آلات اور دیگر تحقیقی سہولیات مختص کی گئی ہیں۔ اس کے علاوہ تین سیڈ کلینر کم گریڈر اور 10 زیرو ٹِلج سیڈ کم فرٹیلائزر ڈرلز بھی فراہم کی گئی ہیں۔ادارہ برائے گندم تحقیق، AARI فیصل آباد کے چیف سائنٹسٹ و ڈائریکٹر ڈاکٹر جاوید احمد نے کہا کہ جدید سہولیات سے قومی تحقیقی اداروں کی استعداد کار بڑھے گی اور گندم کے کاشتکاروں کو درپیش مسائل کے حل میں مدد ملے گی۔
CIMMYT کے گلوبل وہیٹ پروگرام کے ڈائریکٹر ڈاکٹر فلاویو بریسیگھیلو کے مطابق جدید تحقیقی آلات سے گندم کی بہتر اور موسمیاتی تبدیلیوں کے خلاف مزاحمت رکھنے والی اقسام کی تیاری اور غذائی تحفظ کے اہداف کے حصول میں مدد ملے گی۔
CIMMYT پاکستان کے کنٹری نمائندے ڈاکٹر ساجد علی نے کہا کہ ادارے کا مقصد قومی شراکت داروں کی تحقیق کو کاشتکاروں کے لیے عملی حل میں تبدیل کرنا ہے۔ زیرو ٹِلج ٹیکنالوجی سے زمین کی نمی محفوظ رکھنے، ایندھن اور محنت کے اخراجات کم کرنے اور دھان کی باقیات جلانے کی ضرورت محدود کرنے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
CIMMYT پاکستان میں 29 قومی شراکت دار اداروں کے ساتھ کام کر رہا ہے، جبکہ اس کی سرگرمیاں 88 اضلاع تک پھیلی ہوئی ہیں۔ سال 2026ء کے پروگرام میں چاروں صوبوں کے 20 اضلاع میں 21 کمیونٹی سیڈ بینکس کا قیام اور پاکستانی زرعی سائنس دانوں کی تربیت بھی شامل ہے۔ یہ تعاون گندم کی پیداوار، غذائیت اور پاکستان میں پائیدار زرعی ترقی کے فروغ کے لیے اہمیت رکھتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button