تقریبات/سیمینارز

اچھی حکمرانی کیلئے میرٹ، شفافیت اور احتساب ناگزیر ہیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی

سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام ممکن نہیں، تعلیم، صحت اور امن و امان قومی ترجیحات ہونی چاہئیں، ملک محمد احمد خان

فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) اسپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے کہا ہے کہ اچھی حکمرانی کا بنیادی تقاضا میرٹ، شفافیت، انصاف، قانون کی بالادستی اور مؤثر احتساب ہے۔ سرکاری تقرریوں اور انتظامی فیصلوں میں کسی کی پسند و ناپسند کے بجائے واضح اور منصفانہ معیار اپنایا جانا چاہیے تاکہ ہر اہل شخص کو آگے بڑھنے کا یکساں موقع مل سکے۔ سیاسی استحکام کے بغیر معاشی استحکام کا حصول مشکل ہے، جبکہ تعلیم، صحت اور امن و امان کے شعبوں میں بہتری کے لیے قومی ترجیحات کا درست تعین اور ادارہ جاتی اصلاحات ضروری ہیں۔ وہ یونیورسٹی آف فیصل آباد میں ’’اچھی حکمرانی: شمولیت، تنوع اور ادارہ جاتی مؤثریت‘‘ کے موضوع پر منعقدہ انٹرایکٹو سیشن سے خطاب کر رہے تھے۔ اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان کو دہشت گردی، سیاسی عدم استحکام، تعلیمی مسائل اور معیاری طبی سہولتوں کی فراہمی سمیت متعدد چیلنجز کا سامنا ہے۔ ان مسائل سے نمٹنے کے لیے تمام متعلقہ اداروں کو اپنی آئینی ذمہ داریاں پوری کرنا ہوں گی اور قومی ترقی کے لیے اجتماعی ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ اچھی حکمرانی محض حکومتی اقدامات کا نام نہیں بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس میں شہریوں کے حقوق محفوظ ہوں، انہیں معیاری تعلیم اور صحت کی سہولتیں میسر آئیں اور ریاستی ادارے عوام کے سامنے جواب دہ ہوں۔ میرٹ کا نظام کسی فرد کی صوابدید پر نہیں بلکہ شفاف، منصفانہ اور قابلِ پیش گوئی اصولوں پر مبنی ہونا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ فیصلوں میں انصاف اور غیر جانب داری کو یقینی بنانا اور اختیارات کے استعمال کا مؤثر احتساب اچھی حکمرانی کے بنیادی تقاضے ہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے کہا کہ پاکستان میں تعلیم کے شعبے کو خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ بچوں کا اسکولوں سے باہر رہنا اور تعلیمی مراحل کے دوران طلبہ کا تعلیم ترک کرنا مستقبل کے لیے بڑا چیلنج ہے۔ اسی طرح معیاری طبی سہولتوں تک رسائی، بالخصوص دیہی علاقوں میں صحت کی خدمات کی بہتری، ناگزیر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گردی نے ملک کے مختلف طبقات کو متاثر کیا ہے، اس لیے شہریوں کے تحفظ اور قانون کی عمل داری کو یقینی بنانا ریاست کی اہم ذمہ داری ہے۔

انہوں نے کہا کہ جمہوری نظام میں عوامی مینڈیٹ اور پارلیمان کو مرکزی حیثیت حاصل ہے۔ منتخب نمائندے عوام کے سامنے جواب دہ ہوتے ہیں، جبکہ پارلیمانی نگرانی حکومتی کارکردگی کا جائزہ لینے کا مؤثر ذریعہ ہے۔ پنجاب اسمبلی میں سوالات، قائمہ کمیٹیوں اور دیگر پارلیمانی فورمز کے ذریعے حکومتی اقدامات اور محکموں کی کارکردگی کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ بجٹ، سرکاری اخراجات اور آڈٹ رپورٹس کی جانچ پڑتال بھی احتساب کے نظام کو مضبوط بنانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

ملک محمد احمد خان نے کہا کہ قانون سازی کا مقصد صرف قوانین منظور کرنا نہیں بلکہ ان پر مؤثر عمل درآمد اور ان کے عملی نتائج کا جائزہ لینا بھی ہے۔ پارلیمانی کمیٹیوں کے ذریعے قوانین اور پالیسیوں کی افادیت کا جائزہ لے کر اداروں کی کارکردگی بہتر بنائی جا سکتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین، مذہبی اقلیتوں، معذور افراد اور محروم طبقات کی فیصلہ سازی میں مؤثر شمولیت کے بغیر جامع ترقی ممکن نہیں۔ مقامی حکومتوں کا مضبوط نظام بھی اچھی حکمرانی کے لیے اہم ہے۔ آئین کا آرٹیکل 140-A مقامی حکومتوں اور منتخب نمائندوں کو اختیارات کی منتقلی سے متعلق بنیادی اصول فراہم کرتا ہے، جبکہ مؤثر بلدیاتی ادارے عوام کے مقامی مسائل حل کرنے میں اہم کردار ادا کر سکتے ہیں۔

اسپیکر پنجاب اسمبلی نے جامعات میں اچھی حکمرانی کے موضوع پر مکالمے اور طلبہ کی دلچسپی کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ نوجوانوں کو قومی معاملات پر مستند معلومات اور تحقیق کی بنیاد پر رائے قائم کرنی چاہیے۔ اختلافِ رائے کو ذمہ دارانہ مکالمے کے ذریعے آگے بڑھانا اور تعلیمی تحقیق کو قانون سازی اور عوامی پالیسیوں کی بہتری کے لیے بروئے کار لانا وقت کی ضرورت ہے۔

انہوں نے یونیورسٹی آف فیصل آباد کے پروگرام ’’انوویٹو پاکستان 4.0‘‘ کو بھی سراہا اور کہا کہ نوجوانوں کی تخلیقی صلاحیتوں، تحقیق اور جدت کو قومی ترقی سے منسلک کرنا ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ مضبوط جمہوری ادارے، شفاف فیصلے، مؤثر پارلیمانی نگرانی اور عوام کے سامنے جواب دہی ہی اچھی حکمرانی کی بنیاد ہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button