If the Home Minister was an elected representative, he would have known that parliamentary privilege is not a new invention, Speaker KP Assembly


Peshawar(94 news) اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی بابر سلیم سواتی نے وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق کوئی نئی ایجاد نہیں۔
تفصیلات کے مطابق اسپیکر خیبرپختونخوا اسمبلی نے اپنے بیان میں کہا کہ وزیر داخلہ اگرمنتخب عوامی نمائندہ اور پارلیمانی نظام کاحصہ رہے ہوتے تو یہ جانتے کہ ارکان اسمبلی کو حاصل پارلیمانی استحقاق نئی ایجاد نہیں بلکہ طویل عرصے سے پارلیمانی روایات اور قومی و صوبائی قوانین کا حصہ ہیں۔
انہوں نے کہا کہ فوجداری الزام میں رکن صوبائی اسمبلی کی گرفتاری سے قبل سپیکر کی پیشگی اجازت بھی خیبرپختونخوا کی نئی ایجاد نہیں، یہ تحفظات مقننہ کی آزادی برقرار رکھنے اور پولیس کے ذریعے منتخب نمائندوں کو دباؤ میں لانے سے روکنے کے لیے ہیں۔ اسپیکر نے واضح کیا کہ پارلیمانی استحقاق کسی رکن اسمبلی کو قانون سے بالاتر نہیں بناتے، ہر رکن تفتیش، مقدمے اور عدالتی کارروائی کا سامنا کرے گا، سپیکر کا کردار صرف یہ یقینی بنانا ہے کہ گرفتاری سیاسی انتقام یا اسمبلی کارروائی میں رکاوٹ کیلئے نہ ہو۔
بابر سلیم سواتی نے کہا کہ آپ رات کی تاریکی میں استثنیٰ کا قانون منظور کریں تو وہ قانون ہے؟ آپ پارلیمنٹیرینز کو اغوا، رشوت اور فلور کراسنگ کے ذریعے قانون منظور کرائیں تو وہ قانون ہے؟ خیبرپختونخوا اسمبلی میں حکومت، اپوزیشن جماعتیں اتفاق رائےسے قانون منظور کریں تو کیا وہ قانون نہیں؟ اسپیکر کے پی اسمبلی نے کہا کہ وزیر داخلہ ذرا سوچیں کہ کس چیز کا کس سے موازنہ کررہے ہیں، کیا یہ جمہوریت ہےکہ نقاب پوش بغیروارنٹ منتخب ارکان، سیاسی قیادت کے گھروں پر چھاپے مار کر انہیں اٹھائیں؟ 24 نومبر، 9 May and 25 مئی کو گولیاں چلنا اور ہلاکتیں کیا جمہوریت ہیں؟ وزیر داخلہ انسانی حقوق کے اصول پامال کرکے اپنی حکومت کو طول دینا چاہتے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ جن مراعات اوراستحقاقات پر آپ تنقید کرتے ہیں، آپ اور آپ کے ساتھی بھی وہی حاصل کررہے ہیں، آپ اور آپ کے ساتھی اکثر ایسے برتاؤ کرتے ہیں جیسے آپ کے الفاظ ہی قانون ہوں مگر ایسا نہیں ہے۔
واضح رہے وفاقی وزیرداخلہ محسن نقوی نے خیبر پختونخوا میں اراکین اسمبلی کی گرفتاری سے پہلے سپیکر کی اجازت لینےکے مراسلے پر تنقیدکرتے ہوئےکہا تھا کہ اب خیبرپختونخوا میں کوئی ایم پی اے جرم کرے توپولیس گرفتاری سے پہلے سپیکر سے اجازت لینےکی پابند ہوگی۔ محسن نقوی نےکہا تھا کہ کیاکوئی رکن اسمبلی قتل کر دے تو اُس کی گرفتاری سے پہلے بھی پولیس سپیکرکی اجازت کا انتظار کرےگی؟ قانون کے سامنے برابری کی یہ عجیب وغریب شکل ہے،کیایہ ریاست مدینہ ہے؟



