مہنگائی کا عذاب، ریلیف کے وعدے اور سوالوں میں گھری حکومت


تحریر: میاں ندیم احمد
پاکستان کا عام شہری آج جس کرب سے گزر رہا ہے، شاید اس کی مکمل تصویر سرکاری اعداد و شمار میں نظر نہ آئے، مگر بازار، گلی، محلے، مزدور کی جھونپڑی، ملازم کا کرائے کا مکان اور سفید پوش طبقے کے خالی ہوتے دسترخوان اس حقیقت کی گواہی دے رہے ہیں کہ مہنگائی اب صرف ایک معاشی اصطلاح نہیں بلکہ کروڑوں پاکستانیوں کی روزمرہ زندگی کا سب سے بڑا المیہ بن چکی ہے۔ ہر سات دن بعد پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ردوبدل عوام کے اعصاب پر ایک نیا حملہ ثابت ہوتا ہے۔ حکومت جب قیمتوں میں اضافہ کرتی ہے تو اس کی وجوہات کی ایک طویل فہرست سامنے آ جاتی ہے، لیکن جب عالمی حالات نسبتاً بہتر ہوتے ہیں تو عوام یہ سوال پوچھنے میں حق بجانب ہیں کہ پھر وہ ریلیف کیوں نظر نہیں آتا جس کا وعدہ کیا گیا تھا؟ کچھ عرصہ قبل یہ مؤقف اختیار کیا گیا کہ بین الاقوامی جنگی صورتحال اور عالمی منڈی میں غیر یقینی حالات کے باعث پٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنا ناگزیر ہے۔ آج جب وہی کشیدگی کم ہو چکی ہے تو یہ سوال اب بھی جواب طلب ہے کہ جنگ سے پہلے والی قیمتوں کی طرف واپسی کیوں ممکن نہ ہو سکی؟ اگر اضافہ وقتی مجبوری تھا تو ریلیف بھی وقتی نہیں بلکہ عملی کیوں نہ بن سکا؟ حکومت یقیناً یہ مؤقف اختیار کر سکتی ہے کہ قیمتوں کا تعین عالمی منڈی، زرِ مبادلہ، ٹیکس پالیسی اور مالیاتی تقاضوں کے مطابق کیا جاتا ہے، لیکن عوام یہ محسوس کرتے ہیں کہ ہر معاشی فیصلے کا بوجھ صرف انہی کے کندھوں پر کیوں ڈالا جاتا ہے؟ آخر کیوں ہر بحران کی قیمت صرف تنخواہ دار، مزدور، کسان اور ریڑھی بان ادا کرے؟
تلخ حقیقت یہ ہے کہ پٹرول مہنگا ہوتا ہے تو صرف گاڑی کا ٹینک نہیں بھرتا بلکہ مہنگائی کا ایک نیا سیلاب پورے ملک میں دوڑ جاتا ہے۔ کرایے بڑھ جاتے ہیں، سبزی مہنگی ہو جاتی ہے، آٹا، چینی، دودھ، ادویات، سکول کی وین، آن لائن ڈیلیوری، حتیٰ کہ روزانہ کی روٹی بھی مزید دور ہوتی چلی جاتی ہے۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ہر اضافے کے بعد منافع خوروں کو کھلی چھوٹ مل جاتی ہے، مگر قیمتیں کم ہونے کی صورت میں بازار کبھی اسی رفتار سے نیچے نہیں آتے۔
سب سے زیادہ تشویش اس امر پر ہے کہ مہنگائی نے متوسط طبقے کو بھی غریبوں کی صف میں لاکھڑا کیا ہے۔ ایک سرکاری ملازم، ایک نجی کمپنی کا کارکن، ایک پنشنر یا ایک چھوٹا دکاندار، سب ایک ہی سوال پوچھ رہے ہیں کہ آخر گھر کا بجٹ کیسے بنایا جائے؟ تنخواہ وہی، مگر اخراجات کئی گنا۔ آمدنی محدود، مگر بل، فیسیں اور ٹیکس مسلسل بڑھتے جا رہے ہیں۔
تعلیم اب حق کم اور کاروبار زیادہ محسوس ہونے لگی ہے۔ معیاری نجی تعلیمی اداروں کی فیسیں عام شہری کی پہنچ سے باہر ہوتی جا رہی ہیں جبکہ سرکاری تعلیمی ادارے وسائل کی کمی اور پالیسیوں کے عدم تسلسل کا شکار ہیں۔ اگر ایک باپ اپنے بچوں کو معیاری تعلیم نہ دلا سکے تو یہ صرف اس خاندان کا نہیں بلکہ پوری ریاست کے مستقبل کا نقصان ہے۔
صحت کا شعبہ بھی عوام کی آزمائش بن چکا ہے۔ سرکاری ہسپتالوں میں مریضوں کا ہجوم، محدود سہولیات، ادویات کی قلت اور طویل انتظار ایک معمول بنتا جا رہا ہے۔ دوسری طرف نجی ہسپتالوں اور کلینکس کے اخراجات عام آدمی کی برداشت سے باہر ہیں۔ عوامی سطح پر یہ شکایات بھی بارہا سامنے آتی ہیں کہ بعض ڈاکٹر سرکاری ہسپتالوں میں محدود وقت دیتے ہیں جبکہ نجی کلینکس میں ہزاروں روپے مشاورتی فیس وصول کی جاتی ہے۔ اگر ایسی شکایات میں وزن ہے تو متعلقہ اداروں کی ذمہ داری بنتی ہے کہ شفاف تحقیقات کریں، مؤثر نگرانی قائم کریں اور اس تاثر کو ختم کریں کہ سرکاری نظامِ صحت صرف غریب کے صبر کا امتحان لینے کے لیے رہ گیا ہے۔
افسوس اس بات کا بھی ہے کہ ملک میں قربانیاں ہمیشہ ایک ہی طبقہ دیتا دکھائی دیتا ہے، جبکہ ریلیف اور مراعات کا رخ اکثر ایک محدود اور بااثر حلقے کی طرف محسوس ہوتا ہے۔ اگر یہ تاثر درست نہیں تو حکومت پر لازم ہے کہ اپنے عملی اقدامات سے اسے غلط ثابت کرے، کیونکہ اعتماد صرف بیانات سے نہیں بلکہ فیصلوں سے بحال ہوتا ہے۔
یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ جب ریاست کے وسائل کا بڑا حصہ غیر پیداواری اخراجات، انتظامی بوجھ اور مراعات پر صرف ہو اور عوام سے مزید قربانیوں کا مطالبہ کیا جائے تو سوال ضرور جنم لیتے ہیں۔ ایک فلاحی ریاست کا تقاضا یہ ہے کہ پہلے حکمرانی کے اخراجات کم کیے جائیں، فضول خرچی روکی جائے، ٹیکس نیٹ کو منصفانہ بنایا جائے، ذخیرہ اندوزوں اور ناجائز منافع خوروں کے خلاف بلاامتیاز کارروائی ہو، اور پھر عوام سے تعاون کی اپیل کی جائے۔
آج پاکستان کو صرف معاشی پیکیج نہیں بلکہ اعتماد کے پیکیج کی ضرورت ہے۔ ایسا اعتماد جو اس یقین سے پیدا ہو کہ حکومت کی ہر پالیسی کا مرکز عام آدمی ہے، نہ کہ صرف معاشی اشاریے یا طاقتور طبقات کے مفادات۔ عوام کو خیرات نہیں، انصاف چاہیے؛ اعلانات نہیں، عملی ریلیف چاہیے؛ وعدے نہیں، ایسے فیصلے چاہییں جن کا اثر ان کے باورچی خانے، بچوں کی تعلیم اور بیمار والدین کے علاج پر نظر آئے۔
آخر میں سوال وہی ہے جو ہر پاکستانی کے دل میں ہے: اگر مہنگائی کے طوفان میں بھی عام آدمی ہی پسے گا، اگر علاج بھی اس کی پہنچ سے باہر ہوگا، اگر تعلیم بھی اس کے بچوں کا خواب بن جائے گی، اور اگر ریلیف صرف اعلانات تک محدود رہے گا، تو پھر ریاستِ پاکستان کے اصل وارث، یعنی عوام، انصاف کے لیے کس دروازے پر دستک دیں؟
یہ سوال کسی ایک حکومت سے نہیں بلکہ ہر اُس نظام سے ہے جو عوام سے قربانی تو مانگتا ہے، مگر ان کی قربانی کا صلہ دینے میں ناکام دکھائی دیتا ہے۔
آئینِ پاکستان کا آرٹیکل 38 ریاست کو اس بات کا پابند بناتا ہے کہ وہ عوام کی سماجی و معاشی فلاح کو یقینی بنائے، معیارِ زندگی بلند کرے، دولت کے ارتکاز کو محدود کرے، آمدنی کے تفاوت میں کمی لائے، شہریوں کو روزگار، تعلیم اور طبی سہولیات کی فراہمی کے لیے اپنی دستیاب وسائل کے مطابق اقدامات کرے۔ یہ محض آئینی الفاظ نہیں بلکہ ریاست اور عوام کے درمیان ایک اخلاقی اور آئینی عہد ہیں۔
آج ضرورت اس امر کی ہے کہ حکومت صرف مہنگائی کے اعداد و شمار پیش کرنے کے بجائے عوام کو حقیقی ریلیف فراہم کرے۔ اگر عالمی منڈی میں قیمتیں کم ہوں تو اس کا فائدہ بھی عام شہری تک پہنچنا چاہیے۔ اگر معیشت میں بہتری کے دعوے کیے جاتے ہیں تو ان کے ثمرات بھی عوام کی دہلیز تک پہنچنے چاہییں۔ اگر قربانی صرف عوام نے ہی دینی ہے اور ریلیف ہمیشہ طاقتور اور مراعات یافتہ طبقات تک محدود رہے گا تو پھر سوالات جنم لینا فطری ہیں۔
ریاست کی طاقت محلات، دفاتر اور بلند و بالا عمارتوں سے نہیں بلکہ ایک مطمئن شہری سے پہچانی جاتی ہے۔ جب ایک مزدور اپنے بچوں کے لیے دودھ خریدنے سے پہلے قیمت پوچھ کر خاموش ہو جائے، جب ایک سفید پوش باپ سکول کی فیس جمع کرانے کے لیے قرض لینے پر مجبور ہو، جب ایک بیمار مریض علاج کے اخراجات سن کر سرکاری ہسپتالوں کی لمبی قطاروں میں اپنی باری کا منتظر رہے، تو یہ صرف انفرادی المیہ نہیں بلکہ اجتماعی ناکامی کی علامت ہے۔
حکمران بدلتے رہتے ہیں مگر عوام کے مسائل وہیں کے وہیں رہتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج عام پاکستانی یہ پوچھنے پر مجبور ہے کہ آخر کب وہ دن آئے گا جب بجٹ عوام کے لیے بنے گا، پٹرول کی قیمتوں کا تعین عوامی مفاد کو سامنے رکھ کر ہوگا، تعلیم ہر بچے کا حق بنے گی، علاج ہر مریض کو میسر ہوگا اور مہنگائی کے بوجھ تلے دبے شہری کو سانس لینے کا موقع ملے گا؟
وقت آ گیا ہے کہ ریاست آئین کے تقاضوں اور عوام کی توقعات کے درمیان موجود فاصلے کو کم کرے۔ کیونکہ اگر عوام کا چولہا ٹھنڈا پڑ جائے، ان کے بچوں کے مستقبل کے خواب بکھر جائیں اور علاج ان کی استطاعت سے باہر ہو جائے تو پھر معاشی ترقی کے تمام دعوے اپنی معنویت کھو دیتے ہیں۔
عوام کو خیرات نہیں، ان کا آئینی حق چاہیے۔ عوام کو وعدے نہیں، عملی ریلیف چاہیے۔ اور یہی وہ امتحان ہے جس میں ہر حکومت کو ایک نہ ایک دن عوام کی عدالت میں جواب دینا ہوتا ہے۔

