کالم

فیصل آباد تعلیمی بورڈ کو تعلیم کا سپاہی مل گیا

تحریر: میاں ندیم احمد 94 نیوز

فیصل آباد سمیت پورے ڈویژن کے تعلیمی حلقوں میں اس وقت ایک خوش آئند خبر موضوعِ گفتگو ہے کہ ایک طویل عرصے بعد بورڈ آف انٹرمیڈیٹ اینڈ سیکنڈری ایجوکیشن فیصل آباد کی سربراہی کسی انتظامی افسر کے بجائے شعبۂ تعلیم سے تعلق رکھنے والی شخصیت کے سپرد کی گئی ہے۔ حکومت پنجاب کی جانب سے پروفیسر رانا بنیامین کو چیئرمین تعلیمی بورڈ نامزد کرنا محض ایک تقرری نہیں بلکہ تعلیمی نظام پر اعتماد کے اظہار اور امتحانی اصلاحات کی جانب ایک مثبت قدم ہے۔ گزشتہ کئی برسوں سے بورڈ کے چیئرمین کا اضافی چارج ڈویژنل کمشنر کے پاس ہوتا تھا۔ بلاشبہ کمشنرز اپنی انتظامی صلاحیتوں اور اختیارات کے حوالے سے اہم کردار رکھتے ہیں، لیکن حقیقت یہ بھی ہے کہ ان کے ذمے درجنوں انتظامی، ترقیاتی، امن و امان اور حکومتی معاملات ہوتے ہیں۔ ایسے میں تعلیمی بورڈ ان کی ترجیحات میں شاید وہ مقام حاصل نہیں کر پاتا تھا جس کا وہ مستحق تھا۔ یہی وجہ تھی کہ اکثر بورڈ کے معمولات صرف فائلوں تک محدود رہتے، جبکہ بورڈ کے دفاتر، امتحانی نظام، طلبہ، اساتذہ اور تعلیمی اداروں کے عملی مسائل پر وہ توجہ نہ مل سکی جس کی ضرورت تھی۔

تعلیم ایک ایسا شعبہ ہے جس کی نبض صرف وہی شخص بہتر انداز میں محسوس کر سکتا ہے جس نے برسوں کلاس روم، طلبہ، امتحانات، نصاب اور تعلیمی اداروں کے ساتھ عملی وابستگی رکھی ہو۔ امتحانی نظام کی پیچیدگیاں، نتائج کی تیاری، پیپر مارکنگ، ری چیکنگ، الحاق کے معاملات، تعلیمی اداروں کے مسائل اور طلبہ کی مشکلات صرف انتظامی احکامات سے نہیں بلکہ تعلیمی فہم اور تجربے سے حل ہوتی ہیں۔ اسی تناظر میں پروفیسر رانا بنیامین کی بطور چیئرمین تعیناتی ایک امید افزا آغاز محسوس ہوتی ہے۔ ان کی تعلیمی خدمات، تدریسی تجربہ اور شعبۂ تعلیم سے وابستگی اس بات کی ضمانت دیتی ہے کہ فیصل آباد تعلیمی بورڈ اب محض امتحانات لینے والا ادارہ نہیں بلکہ جدید، فعال اور طلبہ دوست ادارہ بننے کی سمت گامزن ہوگا۔

حالیہ دنوں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس کی جانب سے ان کے اعزاز میں منعقدہ عشائیہ بھی اس اعتماد کا مظہر تھا جو تعلیمی برادری ان کی قیادت پر کر رہی ہے۔ تقریب کے دوران چیئرمین تعلیمی بورڈ نے جس خلوص اور وژن کے ساتھ اپنے آئندہ کے منصوبوں کا اظہار کیا، وہ واقعی حوصلہ افزا تھا۔ انہوں نے واضح کیا کہ بورڈ کے امتحانی نظام کو مزید شفاف، جدید اور ڈیجیٹلائزیشن کی طرف منتقل کیا جائے گا تاکہ طلبہ و طالبات کو غیر ضروری مشکلات کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار بھی کیا کہ تعلیمی اداروں کے انتظامی مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا، جبکہ پیپر چیکنگ اور ری چیکنگ کے نظام میں جدید اصلاحات متعارف کروا کر شفافیت اور اعتماد کو مزید مضبوط بنایا جائے گا۔ یہ محض رسمی اعلانات محسوس نہیں ہوئے بلکہ ایک ایسے معلم کے دل کی آواز تھی جو برسوں سے تعلیمی میدان میں خدمات انجام دیتا آیا ہے اور جانتا ہے کہ ایک طالب علم کے لیے ایک نمبر بھی کتنی اہمیت رکھتا ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوئے معروف ماہرِ تعلیم ویلفئیر آفیسر ڈاکٹر عبدالرحیم بابر ڈوگر نے بھی اس تقرری کو خوش آئند قرار دیتے ہوئے کہا کہ چیئرمین کی تعیناتی کے بعد بورڈ کے دیرینہ مسائل کے حل کی امید پیدا ہو گئی ہے۔ ان کے مطابق جب قیادت تعلیمی پس منظر رکھتی ہو تو فیصلے بھی زمینی حقائق کے مطابق ہوتے ہیں اور ان کے مثبت نتائج جلد سامنے آتے ہیں۔

تقریب میں آل پاکستان پرائیویٹ سکولز الائنس کے صدر میاں ندیم احمد نے نجی تعلیمی اداروں کی نمائندگی کرتے ہوئے ایک نہایت اہم تجویز پیش کی کہ نجی تعلیمی اداروں کے الحاق کی مدت ایک سال سے بڑھا کر تین یا چار سال کی جائے۔ بلاشبہ یہ ایک قابلِ غور تجویز ہے۔ ہر سال الحاق کی تجدید کے باعث اداروں کو غیر ضروری دفتری کارروائی، وقت اور اخراجات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ اگر شفاف معیار کے مطابق بہتر کارکردگی دکھانے والے اداروں کو طویل المدتی الحاق دیا جائے تو نہ صرف بورڈ کا انتظامی بوجھ کم ہوگا بلکہ تعلیمی ادارے بھی اپنی تمام تر توجہ معیارِ تعلیم بہتر بنانے پر مرکوز کر سکیں گے۔

آج دنیا کا ہر ترقی یافتہ ملک اپنی تعلیمی اصلاحات کو اولین ترجیح دیتا ہے۔ پاکستان میں بھی اگر تعلیمی اداروں کو مضبوط بنانا ہے تو امتحانی بورڈز کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہوگا۔ ڈیجیٹلائزیشن، شفافیت، میرٹ، بروقت نتائج، آن لائن سہولیات اور طلبہ دوست پالیسیاں ہی مستقبل کا راستہ ہیں۔ خوش آئند امر یہ ہے کہ فیصل آباد تعلیمی بورڈ کی نئی قیادت اسی سمت میں سوچتی دکھائی دیتی ہے۔

امید کی جانی چاہیے کہ پروفیسر رانا بنیامین صرف انتظامی سربراہ نہیں بلکہ ایک اصلاح پسند تعلیمی رہنما ثابت ہوں گے۔ ان کی قیادت میں اگر امتحانی نظام مزید شفاف، تیز رفتار، جدید اور سہل بن جاتا ہے تو اس کا سب سے بڑا فائدہ لاکھوں طلبہ، ہزاروں اساتذہ اور سینکڑوں تعلیمی اداروں کو ہوگا۔

آخر میں یہی کہا جا سکتا ہے کہ تعلیمی اداروں کی باگ ڈور جب تعلیم کے سپاہیوں کے ہاتھ میں ہو تو فیصلے بھی تعلیمی مفاد میں ہوتے ہیں، اصلاحات بھی دیرپا ثابت ہوتی ہیں اور اعتماد بھی بحال ہوتا ہے۔ فیصل آباد بورڈ میں یہ آغاز یقیناً خوش آئند ہے، اب نظریں اس بات پر ہیں کہ اس وژن کو عملی جامہ کس رفتار سے پہنایا جاتا ہے۔ اگر یہی جذبہ برقرار رہا تو آنے والے برسوں میں فیصل آباد تعلیمی بورڈ نہ صرف پنجاب بلکہ ملک کے بہترین تعلیمی بورڈز میں شمار ہو سکتا ہے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button