بین الاقوامی

بنگلہ دیش نے سابق وزیراعظم حسینہ واجد سے متعلقہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالرز کے اثاثے ضبط کرلیے

ڈھاکہ (94 نیوز) بنگلہ دیش حکومت نے سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد سے متعلقہ 6 ارب 20 کروڑ ڈالرز (تقریباً 760 ارب ٹکا)کے اثاثے ضبط کرلیے۔

تفصیلات کے مطابق ضبط کیےگئے اثاثوں کا تعلق حسینہ واجد، انکے خاندان اور 10 بزنس گروپوں سے ہے۔ بنگلہ دیشی حکام کا کہنا ہے کہ حسینہ واجد کے ملک میں اوربیرون ملک اثاثے بھی ضبط کیےگئے ہیں۔

بنگلہ دیشی میڈیا کے مطابق 2024 میں طلباء کی قیادت میں چلنے والی عوامی تحریک کے نتیجے میں اقتدار سے ہٹائے جانے اور بھارت فرار ہونے کے بعد حکام نے شیخ حسینہ کے اثاثوں کی تحقیقات شروع کی تھیں۔ اس کے ساتھ ان کے قریبی رشتہ داروں اور ان بڑے کاروباری گروپوں کی بھی چھان بین کی جا رہی تھی جن پر الزام ہےکہ انہوں نے ان کے 15 سالہ  دور حکومت میں غیر معمولی فائدہ اٹھایا۔

بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ (بی ایف آئی یو) کے مطابق ملک کے اندر 570 ارب ٹکا اور بیرون ملک مزید 190 ارب ٹکا مالیت کے اثاثے ضبط کیے گئے ہیں۔

بنگلہ دیش فنانشل انٹیلی جنس یونٹ کے سربراہ اختیار محمد مامون کے مطابق شیخ حسینہ اور ان سے منسلک افراد کے خلاف تحقیقات کے سلسلے میں اب تک 98 مقدمات درج کیے جا چکے ہیں، بیرون ملک منتقل کی گئی رقوم کی واپسی کے لیے مزیدکام کر رہے ہیں اور امید ہےکہ رواں سال کے اختتام تک اس حوالے سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی۔

خیال رہے کہ سابق بنگلہ دیشی وزیراعظم حسینہ واجد کے اثاثوں سے متعلق 2024 سے تحقیقات جاری ہیں۔ اقتدار سے ہٹائے جانے کے بعد شیخ حسینہ کو متعدد مقدمات میں ان کی عدم موجودگی میں سزائیں بھی سنائی جاچکی ہیں، جن میں انسانیت کے خلاف جرائم کے مقدمے میں سزائے موت بھی شامل ہے۔

شیخ حسینہ اگست 2024 میں بنگلہ دیش سے فرار کے بعد سے بھارت میں مقیم ہیں اور حال ہی میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ رواں سال کے اختتام تک وطن واپس آنے کا ارادہ رکھتی ہیں۔ بنگلہ دیشی حکومت نے بھارت سے شیخ حسینہ کی حوالگی کا مطالبہ بھی کر رکھا ہے۔

2روز قبل بنگلہ  دیش کی وزیرمملکت برائے خارجہ شمع عبید اسلام نے صحافیوں سے گفتگو میں کہا تھا کہ شیخ حسینہ ایک سزا یافتہ مجرم ہیں، اگر وہ خود کو حکام کے حوالے کرتی ہیں تو بنگلہ  دیش کے قانون کے مطابق ان کے خلاف کارروائی کی جائے گی، وطن واپسی پر انہیں جیل جانا ہوگا، جس کے بعد قانون کے مطابق مزید عدالتی کارروائی آگے بڑھے گی۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button