پنجاب میں ن لیگ کی حکومت کو ایک بڑا جھٹکا، مخصوص نشستیں معطل،

قومی اسمبلی میں نیب کے اختیارات محدود کرنے کا ایک بار پھر فیصلہ

94 نیوز: کالم کڑوا کھرا سچ
تحریر: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
جمعہ کے روز 10مئی کو صوبہ پنجاب کی اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر ڈرامائی صورت پیدا ہوگئی۔ آپ کو یاد ھوگا کہ 16 اپریل 2022 کو پنجاب اسمبلی میں رن وے انتخابات ھوئے تھے ۔ ن لیگ حکومت نے دو تہائی اکثریت کے بلند و بانگ دعوے کئے تھے۔ پی ٹی آئی اور ن لیگ کے درمیان کانٹے دار مقابلہ کئی گھنٹوں تک جاری رہا تھا ۔ ھر پل صورتحال بدلتی رھی۔ ن لیگ نے عبوری وزیر اعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز شریف کی کامیابی کے خوب شادیانے بجائے تھے۔ خوب جشن منایا گیا تھا۔ لیکن عمران خان کے یارکر نے ن لیگ اور عبوری وزیر اعلیٰ حمزہ شہباز شریف کو کلین بولڈ کردیا تھا ۔ آصف علی زرداری کا وہ خط بھی کسی کام نہ آسکا جو وہ ق لیگ کے پوسٹ آفس سے نکلوا کر لے آئے تھے ۔ ق لیگ کے دس ووٹوں نے حمزہ شہباز کو رنگ سے باہر نکال پھینکا تھا۔ ان کی جگہ پرویز الٰہی رن آف ووٹنگ کے نتیجے میں صوبہ پنجاب کے نئے وزیر اعلیٰ منتخب ہوگئے تھے ۔ اس کے بعد شہباز حمزہ مداری کے رومال کی طرح غائب ہو گئے ۔ سیاسی منظر نامے سے وہ ابھی تک غائب ھی ھیں ۔ آصف علی زرداری کوخط کی بےکاری کا علم ھوچکا تھا ۔ اسی لیے وہ رن آف ووٹنگ سے پہلے ھی کراچی کے راستے دوبہی روانہ ھو گئے تھے ۔ عمران خان کے خلاف پی ڈی ایم کی جانب سے 7 مارچ 2022 کو عدم اعتماد کی تحریک ٹبیل ھوئی ۔ رجیم چینج آپریشن سے قبل قومی اسمبلی میں جو سنسنی خیز کھیل کھیلا گیا۔ عمران خان کی جانب سے جو آئینی و قانونی داؤ پیچ استمعال کئے گئے پاکستان تو کیا پوری دنیا کی تاریخ اس جیسی ایک بھی مثال نہیں ملتی ھے ۔ جے یو آئی ، پیپلز پارٹی ، ن لیگ کے بڑے بڑے نامور کھلاڑی دو دن تک قومی اسمبلی میں ھیجھان انگیز کیفیت میں بری طرح سے محبوس رہے۔ پی ڈی ایف کی سیاسی جماعتوں کے ارکان قومی اسمبلی کے اعصاب جواب دے گئے تھے ۔ 9 اپریل کی رات بارہ بجے عدالت لگانی پڑ گئی۔ عدالت نے تحریک عدم اعتماد پیش کرنے والوں کو اعصابی جنگ کی شکت سے بچا لیا ۔ مارشل لاء کے نفاذ کے قوی روشن امکانات بھی پیدا ھوچکے تھے ۔ اسی وجہ سے تحریک انصاف کے سربراہ اور سابق وزیراعظم پاکستان عمران خان کو بیک فٹ پر جانا پڑ گیا ۔عدلیہ کے اس فیصلے نے اپاھج مفلوج سیاسی نظام کو چوتھے مارشل لاء سے بچا لیا۔ تحریک عدم اعتماد پیش کرنے اور رجیم چینج آپریشن تک عمران خان نے اپنی تمام اپوزیشن جماعتوں کو تگنی کا خوب ناچ نچایا۔ عمران خان اور اپوزیشن سیاسی جماعتوں کے درمیان اب تک کئی روانڈ کھیلے جاچکے ہیں ۔ ھر روانڈ میں عمران خان کا پلا بھاری رھا ھے ۔ 9 مئی کا حادثہ تحریک انصاف اور عمران خان کے لیے نائیں الیون ثابت ھوا ھے۔ 9 مئی کا سانحہ اگر پیش نہ آتا تو خاص کر ن لیگ کا ٹائئ ٹانیک کب کا ڈوب چکا ھوتا۔ عمران خان دنگل کے رنگ سے باہر ضرور ھوگئے ھیں، لیکن وہ ابھی تک ٹیکنیکل ناک آؤٹ نہیں ہوئے ہیں۔ راولپنڈی کی اڈیالہ جیل میں بیٹھ کر بھی ن لیگ پر باؤنسر پہ باؤنسر پھینک رھے ھیں ۔ اتحادی حکومت کا وکٹ پر کھیلنا مشکل کردیا ہے۔ پنجاب اسمبلی میں ایک مرتبہ پھر ٹی ٹونٹی کا کانٹے دار میچ شروع ہو چکا ھے ۔ پنجاب اسمبلی کے فلور پر جمعہ کے روز اس وقت ڈرامائی صورت حال پیدا ہوگئی جب صوبائی اسمبلی سپیکر ملک محمد احمد خان نے اجلاس شروع ہوتے ہی رولنگ دی کہ مخصوص نشستوں پر آنے والے 27 ارکان کی رکنیت معطل کی جاتی ہے۔ سپیکر کا کہنا تھا کہ سپریم کورٹ کے فیصلے کے بعد مخصوص نشستوں کے ارکان کے نوٹیفکیشن معطل ہو چکے ہیں۔ صوبائی اسمبلی سپیکر نے اپنی رولنگ میں ان ارکان کے اسمبلی میں داخلے پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ جب تک سپریم کورٹ حتمی فیصلہ نہیں دیتی یہ ارکان اسمبلی کی عمارت میں داخل نہیں ہو سکتے ھیں۔ دوسری طرف گزشتہ سال سے پشاورھائی کورٹ اور سپریم کورٹ میں آئینی و قانونی جنگ جاری ہے ۔ اس جنگ کو ایک لحاظ سے اعلان اقدام بغاوت بھی کہا جا سکتا ہے ۔ لیکن مخصوص نشستوں کے مسئلے پر اس بار پشاور ہائیکورٹ میں سنی اتحاد کونسل کی درخواستیں مسترد ھوچکی ھیں ۔ سینیٹر علی ظفر کا کہنا ہے کہ سنی اتحاد کونسل سے اتحاد غلط فیصلہ تھا۔ شیر افضل مروت سچ بول رہے ہیں۔ جماعت اسلامی تحریک انصاف کی قریب ترین حلیف جماعت ھے ۔ ان کا دونوں جماعتوں کا فطری اتحاد بھی قائم رھے چکا۔ اس کے علاؤہ جماعت اسلامی کے پاس تجربہ کار ، مستند ، تعلیم یافتہ دیانتدار لوگوں کی کمی بھی نہیں ھے ۔ عمران خان کو اصولی طور ایک غیر سیاسی، وظیفہ خور درباری جماعت سے اتحاد کرنے کی بجائے جماعت اسلامی سے کرنا چاہیے تھا ۔ اس طرح جماعت اسلامی کی سیاسی صلاحیتوں کا پتہ بھی چل جاتا ۔ صوبائی پنجاب اسمبلی میں مخصوص نشستوں پر معطل ہونے والی 22 خواتین اور ایک اقلیتی رکن کا تعلق مسلم لیگ ن سے ہے۔ جبکہ پیپلز پارٹی کی ایک خاتون اور ایک اقلیتی رکن جبکہ ق لیگ اور آئی پی پی کی ایک ایک خاتون رکن معطل ہونے والوں میں شامل ہیں۔ واضح رہے کہ سپریم کورٹ نے سنی اتحاد کونسل کی درخواست پر گذشتہ ہفتے حکم امتناعی جاری کرتے ہوئے ان مخصوص نشستوں کے نوٹی فیکشن معطل کر دیے تھے۔ کیونکہ الیکشن کمیشن نے سنی اتحاد کونسل میں شمولیت اختیار کرنے والے آزاد ارکان کو مخصوص نشستیں نہیں دی گئی تھیں۔ اور یہ جواز پیش کیا گیا کہ سنی اتحاد کونسل منتخب ہو کر اسمبلیوں میں نہیں پہنچی ھے۔ جمعہ کے روز اجلاس کی کارروائی میں سپیکر ملک محمد احمد خان نے رولنگ دی ۔ رولنگ سنتے کے بعد اپوزیشن نے سپیکر کو دلیرانہ فیصلے پر مبارک باد بھی دی۔ پنجاب اسمبلی کو یہ اعزاز ملا ھے کہ ملک کی چاروں صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی میں سے وہ پہلی اسمبلی بن گئی ہے جس نے سپریم کورٹ کے فیصلے کے تحت مخصوص نشستوں پر آنے والے ارکان کی رکنیت معطل کی ہے۔ پنجاب میں مخصوص نشستیں ملنے کے بعد حکومتی اتحاد کو دو تہائی اکثریت حاصل ہوئی تھی۔ اگر سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ بھی یہی رہتا ہے تو حکومتی اتحاد اب دوبارہ دوتہائی اکثریت اس اسمبلی میں نہیں لے پائے گا۔ کیونکہ ن لیگی حکومتی اتحاد کے پاس 226 جبکہ سنی اتحاد کونسل کے پاس 104 نشستیں تھیں۔ سنی کونسل اتحاد میں پی ٹی آئی کے نامزد آزاد امیدوار جن میں بہت سے امیدوران کو کامیابی حاصل ھوئی ھے۔ وہ سب کہتے ہیں کہ ہم امید کرتے ہیں کہ اب فارم 47 والی سیٹیں بھی واپس آئیں گی۔

حکومتی ترجمان کے مطابق اپوزیشن کی یہ خوشی عارضی ہے۔کیوں کہ سنی اتحاد کونسل منتخب ہو کر اسمبلی میں پہنچی ہی نہیں ھے۔ اپوزیشن کو سپریم کورٹ کے حتمی فیصلے کا انتظار کرنا چاہیے ۔ آئینی و قانونی نقطہ کو دیکھا جائے تو دو تہائی اکثریت کی ضرورت قومی اسمبلی میں ہوتی ہے۔ اسے آئینی ترمیم کرنا ہوتی ہے۔ صوبائی حکومتیں آئینی ترمیم نہیں کر نہیں سکتی ھیں۔ آئین اور قانون کا احترام کرنے کے اعتبار سے سپیکر کی رولنگ اچھی اور حوصلہ افزا ہے۔ اس میں شک کی گنجائش نہیں ہے کہ ن لیگ پاکستان کی ایک بڑی سنجیدہ سیاسی جماعت ہے ۔ ڈبل AA کی قبولیت اور بعض ریاستی اداروں کی ھمدری کے باوجود ن لیگ کو مرکز اور صوبہ پنجاب میں سادہ اکثریت حاصل نہیں ھو سکی ۔ حالیہ عام انتخابات کے بعد ن لیگ میں کئی سیاسی ، تنظیمی برائیاں اور خامیاں پیدا ھو چکی ھیں ۔جن میں سب سے بڑی خامی عوام الناس کے محروم طبقات کی مجبوریوں، ان کی تکلیفوں کے احساس سے دوری ، بےفکری بہت افسوسناک عمل ھے۔ ن لیگ میں مخلص سینیٹر کارکنان کی اب پہلی جیسی قدر و قیمت ، منزلت نہیں رھی ھے ۔ برداری ازم کا تعصب ، سیاسی تنگ نظری کا عنصر کافی بڑچکا ھے ۔ ھر حلقے سے نومنتخب ارکان اسمبلی کے خلاف کارکنوں کی جانب سے شکایتیں موصول ھورھی ھیں ۔ جنوبی لاھور کے علاقہ جات اس کی بھاری روشن دلیل ھیں ۔ پی پی 162 لاھور کا حلقہ کارکنان کی مسلسل نظر اندازی کے معاملے میں سر فہرست ہے ۔ عوام الناس کو درپیش مسائل کا معاملہ ھو، گیس ، بجلی کے بلوں میں بےتحاشا اضافہ کا مسلہ ھو، زینب ریپ کیس میں درندوں کو سر عام پھانسی یا سزائے موت کا مسلہ ھو تو قومی اسمبلی ، سینٹ میں سکوت مرگ طاری ھوجاتا ھے ۔ اول تو عوامی مسائل کے حل لیے اسمبلیوں میں بل یا قرارداد پیش ھی نہیں ھوتی ھے بھول چھوک کر اگر اتفاق سے کوئی مسودہ پیش ھو بھی جائے تو اس پر برسوں گرد و غبار جمی رہتی ہے ۔ اخر میں یہ مسودہ ، یہ دستاویزات دیمک کی خوراک بن جاتے ہیں ۔ ارکان قومی اسمبلی کے اپنے یا اپنے ھم نوالہ ریاستی اداروں کے مفادات کا، اپنی مراعات کا مسلہ ھو تو پارلیمان کی ساری جماعتیں ، سارے رکن اسمبلی چند لمحوں کے اندر اندر ایک پیچ پر جمع ھو جاتے ھیں ۔ آنکھ جھپکنے سے پہلے پہلے بلز اور قراردادیں منظور ھو جاتی ھیں ۔ سابقہ اتحادی حکومت نے اپنے 16 ماہ عہد کے آخری ھفتے میں 60 کے قریب بل پیش اور منظور کئے تھے ۔ یہ کل کی بات ہے 10 مئی 2024 کو قومی اسمبلی میں نظامِ سقہ کا ایک اور قانون پیش کیا گیا۔ جسکو چند لمحوں میں متفقہ طور پر منظور بھی کر لیا گیا ۔ سپیکر قومی اسمبلی ایاز صادق نے چیرمین نیب کو نئے ایس او پیز سے آگاہ کردیا ہے ۔ نئے قوائد و ضوابط کے مطابق اب نیب کسی بھی سیاستدان کو براہ راست گرفتار نہیں کر سکے گا۔ ذرائع کے مطابق ایس او پیز کو قانونی شکل دینے کیلئے نیب نے قومی اسمبلی کے سپیکر سے مدد مانگ لی ہے۔ اب کسی بھی رکن کیخلاف شکایت پر سپیکر قومی اسمبلی سے رابطہ کیا جائے گا۔ سینیٹ رکن کی صورت مین چیئرمین سینیٹ کو آگاہ کیا جائے گا۔ صرف الزامات پر کسی رکن یا سیاسی رہنما کو انتقام کا نشانہ نہیں بنایاجائے گا۔انکوائری کی سطح پر بھی رکن پارلیمنٹ کو گرفتار نہیں کیا جا سکے گا۔ غلام گردش ذرائع کا کہنا ہے کہ احکامات کی خلاف ورزی پر متعلقہ افسر ایک ماہ سے ایک سال تک قید بھگتے گا۔ متعلقہ افسر کو 10لاکھ روپے جرمانہ بھی کیا جا سکے گا۔ نیب کا کوئی افسر کسی بھی حیثیت میں میڈیا یا عوام میں کوئی بیان نہیں دے گا۔ نیب افسر متعلقہ سیاسی اور منتخب رہنما کیخلاف ریفرنس دائر ہونے پر ہی بیان دےگا۔ مصدقہ اطلاعات کے مطابق نیب کی جانب سے صرف شکایات و الزامات پر رکن پارلیمنٹ کو گرفتار نہ کرنے کا فیصلہ بھی کیا گیا ہے۔نیب کی جانب سے اہم پیشرفت چیئرمین نیب اور سپیکر قومی اسمبلی کے مابین حالیہ ملاقات کے بعد سامنے آئی ہے۔ شنید ہےکہ نیب اس حوالے سے جامع پالیسی بھی تیار کر رہا ہے۔ تحریک عدم اعتماد کی کامیابی اور رجیم چینج آپریشن کے بعد اتحادی حکومت نے اقتدار میں آنے کے بعد سب پہلا کارنامہ نیب آرڈیننس میں 6 ترامیم کا انجام دیا تھا ۔ سپریم کورٹ کے نئے چیف جسٹس نے اپنا عہدہ سنبھالتے ھی اپنے قلم کی ایک جنبش سے نیب آرڈیننس کی تمام ترامیم کو ھوا میں تحلیل کر دیا تھا۔ اتحادی حکومت میں شامل چودہ سیاسی جماعتوں کی ساری محنت ، ساری امیدوں پر پانی پھر گیا ۔ ساری آرزوئیں ، ساری تمنائیں خاک میں مل گئی تھیں۔ 3 اگست 2022 کو پاکستان کی قومی اسمبلی نے نیب کا دوسرا ترمیمی بل 2022 کثرت رائے سے منظور کیا تھا۔ نیب 50 کروڑ روپے سے کم کے کرپشن کیسز کی تحقیقات نہیں کر سکتا تھا۔ قومی اسمبلی کی جانب سے منظور ہونے والے بل کے مطابق احتساب عدالت کے ججز کی تقرری سے متعلق صدر کا اختیار بھی واپس لے لیا گیا۔ نیب ترمیم کے تحت ملزمان کے خلاف تحقیقات کے لیے دیگر کسی سرکاری ایجنسی سے مدد نہیں لی جاسکتی تھی۔ یاد رہے کہ نیب دوسرا ترمیمی بل 2022 سابق وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کی جانب سے قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔ اس مزکورہ بل میں طے قرار پایا گیا کہ ملزم کا ٹرائل صرف اس کورٹ میں ہو گا جس کی حدود میں جرم کا ارتکاب کیا گیا ہو۔ نیب تحقیقات مکمل ہونے کے بعد ریفرنس دائر کرے گا۔ پلی بارگین کے تحت رقم واپسی میں ناکامی کی صورت میں پلی بارگین کا معاہدہ ختم ہو جائے گا۔ اس نیب آرڈیننس بل کے تحت ریاستی ملکیت کے اداروں کے بورڈ آف ڈائریکٹرز پر اطلاق نہیں ھو سکتا تھا۔ صدر وفاقی حکومت کی سفارش پر پراسیکیوٹر جنرل مقرر کرے گا ۔ اس بل کے مطابق تحقیقات مکمل ہونے کے بعد نیب ریفرنس دائر کر سکے گا۔ یہ بھی ترمیم میں تھا کہ حتمی ریفرنس ہو گا اور کوئی اضافی ریفرنس دائر نہیں کیا جائے گا۔ یاد رہے کہ تحریک انصاف کے تبدیلی دور میں اپنے سیاسی مخالفین کو شکنجے میں پھنسانے کے لیے نومبر2021 میں بھی نیب قوانین میں ترمیم کی گئی تھیں۔ چیئرمین کو ہٹانے کا اختیار صدر کو منتقل کیا گیا۔ یہ نیب کا تیسرا ترمیمی آرڈیننس تھا ۔ آئین ، جمہوریت اور عوامی مینڈیٹ کے ساتھ کھلواڑ کا کھیل یہی پر ختم نہیں ھوتا ھے ۔ بلکہ یہ بندر تماشا بدستور آگے تک جاری و ساری رھتا ھے۔ اب تک نیب ڈھوڈوگی بجائی جارھی ھے ۔ اگست 2022 کے شروع میں قومی اسمبلی میں نیب آرڈیننس کی مزید ترامیم کی گئیں۔ قومی اسمبلی میں قومی احتساب آرڈیننس کی مزید ترامیم دو کا بل کثرت رائے سے منظور کیا گیا ۔ احتساب عدالت کے ججز کی تعیناتی کا اختیار صدر سے وفاقی حکومت کو منتقل کر دیا جاتا ہے ۔ اس ترمیم کے مطابق نیب سے ملزمان کی نگرانی اور گرفتاری میں انٹیلی جنس اداروں کی معاونت حاصل کرنے کے اختیارات واپس لے لئے جاتے ہیں ۔اس کے علاوہ ایمنیسٹی اسکیموں کی تحقیقات بھی واپس لے لی جاتی ہیں ۔ ترمیم دو بل کے مطابق گرفتاری کے وقت ملزم کو ٹھوس وجوہات بتانا ہوں گی۔ سپلیمنٹری ریفرنس صرف نئے حقائق سامنے آنے پر دائر ہو سکے گا۔ آرڈیننس کی نئی شق کے تحت ملزم کو قید کے ساتھ جرمانے کی سزا نہیں سنائی جا سکتی۔ سب سے اھم سوال تو یہ ہے کہ ایف آئی اے جیسے ادارے کی موجودگی میں نیب ادارہ بنانے کی ضرورت ھی کیا تھی ۔ اس مردہ اور بے سود ناکارہ ادارے کے ریگولیٹر کے بارے میں آج تک کسی کو صحیح طرح سے علم حاصل نہیں ھو سکا ھے۔ اس سفید ہاتھی کا ریکوری ریٹ 4 سے 5 فیصد سے کبھی آگے نہیں بڑ سکا ھے ۔ عمران خان کے دور حکومت سے لیکر آج تک نیب ادارہ کسی قومی مجرم کے خلاف عدالت میں ٹھوس ثبوت اور دلائل پیش نہیں کرسکا ھے ۔ کسی ملزم کو سزا نہیں دلا سکا ھے ۔ چور لٹیروں سے لوٹی گئی رقوم میں سے ایک روپیہ کی بازیابی نہیں کرسکا ھے ۔ پاکستان میں گزشتہ دس سالوں سے جو سیاسی کشیدگی پائی جاتی ہے ۔ سیاست میں جو انتشار ، خلفشار کی شکایت پائی جا رہی ہے ۔ جو سیاسی تناؤ موجود ہے یہ سب نیب ادارہ کی نااھلی اور نالائقی کے سبب ھے ۔ ماضی میں آصف علی زرداری ، شہباز شریف ، نواز شریف پر بدعنوانیوں کے جو سنگین الزامات عائد کئے گئے ہیں ۔ نیب کی جانب سے لگائے گئے تھے ۔ فرخ گوگی خان ، عثمان بزدار ، پیرنی بشری بی بی پر بدعنوانی کے الزامات نیب کے لگانے ھوئے ھیں ۔ عمران خان نیب ادارہ کے الزامات کی وجہ سے آج روالپنڈی کی سنٹرل اڈیالہ جیل میں بند ھیں ۔ توشہ خانہ ، القادر ٹرسٹ مقدمات کا سامنا کررھے ھیں ۔ عائد کردہ کرپشن کے الزامات کا نیب ادارہ کے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے ۔ اگر یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ سارے فساد، سیاسی شر و فتنہ کی اصل جڑ نیب ھی ھے ۔ یہ ادارہ قومی خزانہ پر بوجھ کے علاؤہ اور کچھ بھی نہیں ھے ۔ آرڈیننس میں گائے بگائے ترامیم کرنے کے بجائے سیاسی جماعتیں ، پارلمینٹ اس ناکارہ ، بےمقصد ادارہ کو ختم کیوں نہیں کر دیتا ھے۔ مسلسل عذاب سے نجات اور چھٹکارا بھی مل جائے گا ۔
نوٹ: ادارہ کا کالم نگار کیساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔



