عالمی دنیا اور انسانی حقوق کے دعویداروں کی پراسرارخاموشی نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے، مرکزی جمعیت اہلحدیث


فیصل آباد (94 نیوز) مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان کے صوبائی امیر مولانا عبد الرشید حجازی ناظم اعلیٰ حافظ محمد یونس آزاد سرپرست اعلیٰ سید سبطین شاہ نقوی، خالد محمود اعظم،محمد عبداللہ ودیگر نے کہا ہے کہ 5 اگست 2019 کا دن کشمیریوں کے لئے انتہائی کربناک اور المناک ثابت ہوا تھا جب ظالم اور سفاک ہندو بنیا نے غیر قانونی ۔ غیر اخلاقی اور غیر انسانی طور پر کشمیریوں کے حق خودارادیت پر وار کر کے ان کی بنیادی خصوصی حیثیت کو ختم کر دیا تھا عالمی دنیا کی بے حسی اور انسانی حقوق کے دعویداروں کی پر اسرار خاموشی نے کشمیریوں کی زندگی اجیرن بنا رکھی ہے۔ ہین الاقوامی قوانین کے تحت بھارتی قانون کی کوئی حیثیت نہیں مگر اس کے باوجود مظلوم کشمیریوں پر انڈین آرمی کا ظلم وبربریت اور سفاکیت روز بروز بڑھتا ہی جارہا ہے ۔اقوام متحدہ ۔او آئی سی یونیسکو اور دیگر انسانی حقوق کے ادارے 76 سالوں سے خاموش تماشائی کا کردار ادا کر کے انسانی واخلاقی اور بنیادی خصوصی حقوق سے ہی عاری نظر آتے ہیں یہی وجہ ہے بھارت اپنی بدمعاشی پر ڈٹا ہوا ہے ۔ مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان اپنے قائدین امیر مرکزی جمعیت اہلحدیث پاکستان علامہ پروفیسر سینیٹر ساجد میر ناظم اعلیٰ ڈاکٹر حافظ عبد الکریم اور چیف آرگنائزر چوہدری کاشف نواز رندھاوا کی قیادت میں کشمیریوں کی اخلاقی وسفارتی اور قانونی امداد کرتی رہی ہے اور کرتی رہے گی ۔ اپنے مظلوم کشمیریوں کی خصوصی حیثیت کی بحالی کے لئے اخری حد تک جانے کو تیار ہے عالمی دنیا اور ادارے ہوش کے ناخن لیں اور بھارتی غنڈہ گردی کے خاتمے کے لئے انڈیا کو عالمی دہشت گرد قرار دیکر اپنے دوغلے پن سے برات کا اظہار کریں ۔ اور حکومت پاکستان کو بھی چاہیے کہ بھارت کے خلاف اعلان جہاد کر کے مظلوم کشمیری مسلمانوں کے بنیادی حقوق کے لئے میدان عمل میں نکلیں تا کہ دہشت گرد انڈین حکومت کو سبق سکھایا جا سکے ۔بڑی بڑی باتیں اور کھوکھلے نعرے تو 75 سالوں سے لگائے جا رہے ہیں مگر اب عملی میدان میں نکل کر بھارت کو سبق سکھانا ہو گا تاکہ کشمیری بھائیوں کو آزادی کی زندگی گذارنے کا موقع مل سکے ۔



