ایرانی صدر کا حادثہ، سانحہ بہاولپور میں کیا مماثلت، بےنظیر کا اندھا قتل کیوں ھوا، سائفر کا شور صرف ایک سیاسی شوشہ، بھٹو کو پھانسی کیوں ھوئی؟


94 نیوز: کڑوا کھرا سچ
کالم نگار: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
94 نیوز۔ 20 مئی 2024 کو ھوائئ حادثہ کی ایک المناک خبر سننے کو ملی ۔ یہ خبر حال میں پاکستان کا دورہ اور اسرائیل کی کھلی جارحیت کو للکارنے والے ایرانی صدر ابراہیم رئیسی اور وزیر خارجہ کے ھیلی کاپٹر تباہ ھونے کی جان بحق ھونے کی دل خراش خبر تھی ۔ ایرانی خبر ایجنسی ، میڈیا کی اطلاعات کے مطابق ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کا حادثہ تبریز سے 100 کلومیٹر دور پیش آیا جس میں گورنر تبریز بھی جاں بحق ہوئے ہیں۔ ایرانی نیوز ایجنسی نےھیلی کاپٹر حادثے کو غیر ملکی سازش قرار دے دیا ہے۔ ایران نے ہیلی کاپٹر حادثے کی تحقیقات کرنے کے بعد اس سازش میں ملوث تمام افراد اور ممالک کے خلاف سخت کارروائی کا اعلان کرنے کی افواہیں بھی گردش کرنے لگی ھیں۔ اسرائیل میڈیا نے اس حادثہ کی سب سے پہلے اطلاع دی ۔ جبکہ ایرانی حکومت اور میڈیا اس خبر میں بڑی احتیاط سے کام لے رھا تھا ۔ رات کو صرف اتنی خبر دی کہ رات بھر سے ایرانی صدر کو حادثہ پیش آنے کی خبریں موصول ھو رھی ھیں۔ لیکن ابھی ان خبروں کے بارے میں حتمی طور پر کچھ بھی نہیں کہا جا سکتا۔ البتہ اتنا ضرور کہا جا سکتا ہے کہ ایرانی صدر اب اس دنیا میں نہیں رہے ھیں ۔ایرانی صدر کی شہادت کے بعد اسرائیلی میڈیا پر جشن کا سماں باندھا گیا۔ بہت سے عرب ممالک اور پاکستان میں ایک مخصوص لوگوں ، حضرات کا یہ دعویٰ تھا کہ ایران اسرائیل کے حالیہ جاری کشیدگی ، اور ایک دوسرے پر میزائل کے تابڑ توڑ حملے ملی بھگت کی ایک منظم سازش ھے ۔ نورا کشتی کھیلی جارہی ہے ۔ ایرانی صدر کی ہلاکت کی خبر کے بعد ایران کی خارجہ پالیسی، اسرائیل ایران کشیدگی کا تمسخر اڑانے والوں کو اب خوش مندی اور اپنی بند آنکھیں کھولنے کی بھی ضرورت ہے ۔

ایرانی میڈیا نے ہیلی کاپٹر حادثے میں صدر ابراہیم رئیسی کے جاں بحق ہونے کی بھی تصدیق کردی ھے ذرائع کی مصدقہ اطلاعات کے مطابق ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کے ترجمان اور مشرقی آذربائیجان کے گورنر بھی اس ہیلی کاپٹر میں سوار تھے۔ ایرانی احکام کے مطابق جلنے کی وجہ سے کچھ لاشیں جل کر ناقابل شناخت ہوگئی ہیں۔ ایرانی صدر رئیسی کا ہیلی کاپٹر کریش ہونے کے بعد زندہ بچنے والے مسافروں کا کوئی نشان نہیں ھے ۔ ایرانی صدر رئیسی کا ہیلی کاپٹر مکمل طور پر جل گیا ہے۔ ترکیہ میڈیا کے مطابق ایرانی صدر کا ہیلی کاپٹر خراب موسمی حالات میں دیزمر جنگل میں کریش ہوا۔ یہ جنگل ضلع اُوزی اور پیر داؤد قصبے کےدرمیانی علاقے میں واقع ہے ۔ میڈیا ذرائع کا کہنا ہے کہ ہیلی کاپٹر حادثہ شدید دھند اور بارش کی وجہ سے پیش آیا ھے ۔ پرواز کے آدھے گھنٹے بعد صدارتی ہیلی کاپٹر کا دیگر 2 ہیلی کاپٹروں سے رابطہ منقطع ہو گیا تھا ۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی ڈیم کے افتتاح کے بعد واپس تبریز جا رہے تھے۔ ڈیم کی افتتاحی تقریب میں آذربائیجانی صدر نے بھی شرکت کی تھی۔ حادثے کا شکار ہونے والے ہیلی کاپٹر میں صدر رئيسی کے ساتھ ایرانی وزير خارجہ حسین امیرعبداللہیان، مشرقی آذر بائيجان کے گورنر مالک رحمتی اور ایرانی سپریم لیڈر کے ترجمان بھی سوار تھے۔ ایرانی صدر ابراہیم رئیسی 2021 کو اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر منتخب ہوئے تھے۔ ابراہیم رئيسی قدامت پسند سیاستدان، اسلامی قانون دان اور مصنف بھی تھے۔ ابراہیم رئیسی 2021 سے اسلامی جمہوریہ ایران کے صدر تھے۔ 20 سال کی عمر میں ہی وہ ایران کے عدالتی نظام کا حصہ بن گئے۔ اور پھر 2014 میں ایران کے پراسیکیوٹر جنرل مقرر ہوئے ۔ ابراہیم رئیسی علاقائی خودمختاری کے حامی مانے جاتے تھے۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد انہوں نے افغانستان میں استحکام کی حمایت کی اور کہا کہ افغان سرحد کے اطراف داعش جیسے کسی بھی دہشت گرد گروپ کو پیر جمانے نہیں دیا جائے گا۔ یاد رہے کہ ایرانی صدر ابراھیم رئیسی نے ایک ماہ قبل ان نامساعد حالات ، فلسطین اسرائیل کشیدگی کے دوران پاکستان کے دورے پر بھی آئے تھے ۔ شکر ہے کہ یہ حادثہ دورے کے دوران پاکستان کے ناگا پربت، کوہ ہمالیہ یا مارگلہ کی پہاڑیوں کے درمیان پیش نہیں آیا ۔ ورنہ ھماری تو دما دم مست قلندر ھوجانی تھی ۔ مغربی ، ایرانی ابلاغ کے مطابق ایرانی صدر کے ہیلی کاپٹر کو پیش آنے والے حادثے کے مقام کی ابتدائی فوٹیج سامنے آگئی ھیں۔ جاری کردہ ان فوٹیج میں ہیلی کاپٹر کو دیزمر کے جنگلات میں تباہ حالت میں دیکھا جا سکتا ہے۔ ھائی پروفائل شخصیت کے ھیلی کاپٹر یا حادثہ کا شکار ھونا کوئی نئی یا انوکھی بات نہیں ہے ۔ اس پہلے بھی اس قسم کے کئی پراسرار فضائی حادثے ھو چکے ھیں ۔ عراق جنگ میں امریکہ کی مدد کے لیے فوجی امداد بھیجنے کی تجویز سے انکار پر جنرل محصف علی کا طیارہ ھمارے کوھاٹ کے جنگل خیل علاقہ کے اوپر ھواؤں میں ھی تحلیل ھو گیا تھا ۔ اور ملبہ کوہ ھند کے پہاڑی سلسلے میں گر گیا تھا ۔ جنرل محصف علی نے سابق صدر جنرل پرویز مشرف کے دور میں اس تجویز سے شدید اختلاف کیا تھا ۔ ایرانی صدر ابراھیم رئیسی کی طرح سابق صدر جنرل ضیاء الحق کا طیارہ بھی ایک خوفناک حادثہ کا شکار ھوا تھا ۔ جرنل ضیاء الحق کی لاش بری طرح سے جلنے کی وجہ سے ناقابل شناخت ھو چکی تھی ۔

جنرل ظہیر نے درست کہا تھا کہ ان کے بیٹے اعجاز الحق کو پتہ ہے کہ جرنل ضیاء الحق کی قبر کہاں ھے ۔ اسلام آباد کی فیصل مسجد میں جو قبر ھے یہ علامتی ھے ۔ ضیاء الحق کے خاکستری جسم کی پہچان ان کی عینک سے کئی گئی تھی ۔ ایرانی صدر ابراھیم رئیسی کی سابق جنرل ضیاء الحق الخالد ٹینک کے معائنہ کے لیے بہاولپور گئے تھے ۔ ان کے ساتھ امریکی سفیر ، افغان جہاد کے کمانڈر اسرائیلی بریگیڈیر بھی جہاز میں سوار تھے ۔ فروری 1988 میں روسی افواج کے انخلاء کے بعد افغانستان کے امریکہ ڈالری جہاد کی سی آئی اے کو اب جہادی مشن ٹیم کی ضرورت نہیں رھ گئی تھی ۔ سابق وزیر اعظم پاکستان محمد خان جونیجو بھی روسی انخلا معاہدہ کی پاداش میں معزول اور سبکدوش کئے گئے۔ یہ اصول ھے کہ ایک جہاز میں دو سے زیادہ جرنل سوار نہیں ہوسکتے ہیں ۔ لیکن جنرل ضیاء الحق کے طیارہ میں 32 کے لگ بھگ اعلیٰ فوجی افسران بھی موجود تھے ۔ ان میں سے ایک بھی زندہ نہ بچ سکا ۔ سب کے سب جل کر راکھ کا ڈھیر بن گئے ۔ اعجاز الحق نے اپنے باپ ضیاء الحق طیارہ کے حادثہ کی تحقیقات کرانے کے لیے ایک طویل عرصے تک مطالبہ کرتے رھے ھیں۔ لیکن آج تک بلیک باکس کی رپورٹ بھی منظر عام پر نہیں آسکی ہے ۔

ضیاء الحق طیارہ کے کپتان مشہورِ کا تعلق پاراہ چنار کے علاقے سے تھا مختلف ذرائع کی قیاس آرائیوں سے صرف اتنا پتہ چل سکا کہ طیارہ کے اندر سے کسی نے کہا تھا کہ ” مشہود یہ تم کیا کررھے ھو۔۔ ” اب تک صرف اتنا ھی معلوم ھو سکا ھے کہ طیارہ میں کسی نے آم کی پیٹیاں رکھی تھیں ۔ آم یہ پیٹیاں کس نے اور کیوں رکھی تھیں ؟ ایک پامسٹ ، ایک روحانی پیشوا نے پیشنگوئی کی تھی کہ جب ام کی پیٹیاں پھٹیں گی تب بےنظیر بھٹو ملک کی وزیر اعظم بنیں گی ۔ جنرل ضیاء الحق کے طیارہ میں اتنے سارے اعلیٰ فوجی افسران الخالد ٹینک دیکھنے کیوں گئے ؟ اور کس کے کہنے پر بہاولپور گئے تھے ۔ امریکی سفیر اور بریگیڈیئر کا اس فوجی مشق سے کیا تعلق تھا ۔ ان سوالوں کا ابھی تک جواب نہیں مل سکا ھے ۔ جنرل ضیاء الحق کا طیارہ بہاولپور کے رن وے سے ٹیک آف کرتے ھی چند سیکنڈوں کے اندر اندر ایک روز دار دھماکہ کے ساتھ ھوا میں ھی تباہ ھوگیا ۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی صدر ابراھیم رئیسی کے ھیلی کاپٹر میں آذربائجان کے خؤش ذائقہ رسیلے انگوروں کی پیٹیاں تو نہیں رکھی تھیں کسی نے ۔ سابق صدر پاکستان جنرل اسلم بیگ نے سانحہ بہاولپور کے بہت عرصے بعد اپنے ایک انٹرویو میں انکشاف کیا کہ ھمیں اپنے سامنے دھواں نظر آ رہا تھا، اگلے ہی لمحے ہمارا طیارہ اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ وہاں ایک ہیلی کاپٹر بھی اُتر رہا تھا۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا تو اُس نے بتایا کہ جرنل ضیاء الحق کا خصوصی طیارہ سی 130 کریش ہو گیا ہے .اور کوئی نظر نہیں آ رہا ہے ۔ جنرل اسلم بیگ کا مزید کہنا تھا کہ اگر میں جائے حادثہ پر پہنچ بھی جاتا، تو بھی کچھ کر نہیں سکتا تھا۔ اسی لیے میں نے پائلٹ کو کہا کہ سیدھے راولپنڈی چلو۔ یاد رہے کہ جنرل ضیاء الحق کے طیارہ سی 130 کو حادثہ 17 اگست 1988 بہاولپور ایئربیس کے قریب پیش آیا تھا۔ اس فضائی حادثے میں صدر جنرل ضیا الحق، چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر رحمان، امریکی سفیر آرنلڈ لوئس رافل سمیت 30 کے قریب افراد ہلاک ہو گئے تھے۔ واضح رہے کہ 1988 میں الخالد ٹینک کا پروٹو ٹائپ چین اور پاکستان کی مشترکہ کوششوں سے مکمل ہو رہا تھا جس کے ساتھ ٹرائل کے لیے امریکہ کا ’ایم ون ابراہم‘ ٹینک پاکستان لانے کی تیاریاں کی جا رہیں تھیں۔ سینیئر افسران اور خود جنرل ضیا کو یقین نہیں تھاکہ ہم کوئی ایسا ٹینک بنا سکیں گے جو دور حاضر کے جنگی تقاضوں کے مطابق ہو۔ اس وقت سٹیٹ آف دی آرٹ ٹیکنالوجی کے حوالے سے یہ ایک بہترین ٹینک تھا۔ الخالد ٹینک پاکستانی اور چینی ماہرین کی مشترکہ تخلیق تھی ۔ الخالد ٹینک کے تین نمونے تیار کئے گئے تھے ۔ ان نمونوں کے حتمی ٹیسٹ کے لیے الخالد اور ایم ون ٹینک ملتان پہنچ گئے تھے ۔ الخالد اور ایم ون ٹینک کی آزمائش بہاولپور کے قریب واقع ’ٹامے والی‘ فائرنگ رینج میں رکھی گئی تھی ۔ بہاولپور جانے کے لیے جی ایچ کیو نے اہم شخصیات اور متعلقہ افسران کی دو فہرستیں تیار کی تھیں ۔ ایک جنرل ضیا کا گروپ تھا اور دوسرا چیئرمین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کمیٹی جنرل اختر عبدالرحمان کا گروپ تھا ۔پہلا ٹرائل 17 اگست کو تھا۔ جنرل ضیاء الحق کا سی 130 طیارہ ٹیک آف ھونے کے بعد سابق صدر چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ کا جہاز روانہ ہوا تھا ۔اسلم بیگ اپنی آپ بیتی میں ایک جگہ پر سانحہ بہاولپور کے بارے میں لکھتے ہیں کہ لکھتے ہیں کہ”ابھی کوئی دس منٹ ہوئے تھے کہ پائلٹ کرنل منہاج نے پریشانی کے عالم میں بتایا ’سر اسلام آباد کنٹرول کا پاکستان سی ون طیارہ سے رابطہ نہیں ہو رہا ہے۔ کوشش کرنے کے باوجود کوئی ریسپانس نہیں ہے۔ اس کے بعد ھم سب دعائیں پڑھنے لگے۔ وہ آگے چل کر مزید لکھتے ہیں کہ مجھے پائلٹ نے بتایا کہ سامنے دھواں نظر آ رہا ہے اور دوسرے ھی لمحے ہمارا جہاز اس کے نزدیک پہنچ چکا تھا۔ ہیلی کاپٹر کے پائلٹ سے رابطہ کیا کیا انھوں نے بتایا کہ سی 130 کریش ہو گیا ہے۔ آگ لگی ہوئی ہے۔ اسلم بیگ نے ایک نجی ٹی وی چینل انٹرویو کے دوران کہنا تھا کہ جی ایچ کیو رابطہ کیا تو وہاں حالات پُرسکون تھے۔ اب مجھے یہ فیصلہ کرنا تھا کہ اقتدار اپنے ہاتھ میں لینا ہے یا اسے دینا ہے جس کی یہ اقتدار امانت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ 1985 کے بعد 1988کے ابتدائی ماہ میں، میں نے جنرل ضیا الحق کو مشورہ دیا تھا کہ الیکشن کرائیں اور اقتدار عوام کو سونپ دیں۔جنرل اسلم بیگ کے دعویٰ کے مطابق فوجی قیادت کا یہ متفقہ فیصلہ تھا کہ آئین کے مطابق چیئرمین سینیٹ غلام اسحاق خان کو بلایا جائے اور اقتدار کی ذمہ داریاں ان کو سونپی جائیں تاکہ 90 دنوں کے اندر اندر اقتدار عوام کے نمائندوں کو سونپ دیا جاسکے۔ یہ افواج پاکستان کا فیصلہ تھا۔ واضح رہے کہ سانحہ طیارہ بہاولپور میں ہلاک ہونے والوں کی شناخت مشکل تھی ۔جنرل ضیا کی کچھ باقیات ملی تھیں ۔جنھیں جمع کرنے کی کوشش کی گئی ۔ ان میں سب سے بڑی نشانی ضیاء الحق کی مخصوص عینک تھی۔ سی ایم ایچ کے ڈاکٹروں کی ٹیم نے پوسٹ مارٹم کے لیے اعضا اکٹھے کئے تھے۔ جنرل ضیا کی میت دوسرے دن راولپنڈی پہنچائی گئی تھی سی ایم ایچ کی رپورٹ کسی قسم کے کیمیکل کی نشاندہی نہیں کی گئی تھی۔ عسکری ماہرین اور تجزیہ نگاروں کے کہنا کے مطابق چند ہفتوں بعد جب امریکہ سے رپورٹ آئی۔ اس میں بھی کسی قسم کی آلائش نہیں پائی گئی تھی ۔ یہ بتایا جاتا ھے کہ آدھے سے زیادہ جسموں کے ٹکڑے انھوں نے چیف آف آرمی سٹاف جنرل اسلم بیگ ٹیم کو واپس کر دیے تھے جو امریکیوں کے نہیں تھے۔ واضح رہے کہ سی ون تھرٹی طیارہ صدر مملکت کے لیے خصوصی جہاز ہوتا ہے اس کی ذمہ داری پاکستان ایئر فورس کی ہوتی ہے۔ اس کے نزدیک کسی اور کو جانے کی اجازت نہیں ہوتی ہے۔ جو سامان بھی جہاز میں رکھا جاتا ہے اس کی تلاشی ہوتی ہے۔ جو مسافروں کی لسٹ بنتی ہے وہ صدر کے آفس کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ پھر آم کی پیٹیاں کہاں سے آگئی تھیں ۔ لیکن ایک بات سب کو معلوم ہے کہ جب جہاز ڈگمگانے لگا تو اندر سے کسی نے پائلٹ کا نام لے کر پکارا تھا کہ کیا ہو رہا ہے، لیکن پائلٹ کی طرف سے کوئی جواب نہیں ملا تھا۔ ھوسکتا ھے کہ کسی کریو ممبر نے یہ بات کہی ہو جسے مانیٹرنگ ڈیسک نے نہ سُنا ہو۔ طیارہ کے پائلٹ نے ایس او ایس بھی نہیں مانگا۔ ان سب باتوں، ان تمام سوالوں سے شبہ ہوتا ہے کہ اس حادثے کے پیچھے کوئی سازش تھی۔ ایرانی صدر ابراھیم رئیسی کے ھیلی کاپٹر کے حادثہ کے پیچھے بھی کسی ناں کسی سازشی ذھن کا ھاتھ ھوسکتا ھے ۔ 16 اکتوبر 1988 کو ملک میں عام انتخابات منعقد ہوئے تھے ۔ لیکن بےنظیر بھٹو نے 2 دسمبر 1988 کو وزیراعظم کا حلف اٹھایا۔ پیپلز پارٹی کو دو ماہ کے بعد اقتدار کیوں سونپا گیا ؟

سابق وزیر اعظم پاکستان محترمہ بینظیر بھٹو شہید کے عہد حکومت میں بندیال کمیشن بنایا گیا ۔ اس کمشن نے پارلیمنٹ کو یہ رپورٹ دی کہ ایک ڈکٹیٹر کا یہی انجام ہوتا ہے۔ یاد رہے کہ جنرل ضیاء الحق نے بےنظیر بھٹو کے باپ سابق وزیر اعظم ذوالفقار علی بھٹو کو پھانسی دی تھی۔ سپریم کورٹ بھی ری اوپن بھٹو کیس میں یہ ریمارکس دے چکی ہے کہ بھٹو کے مقدمہ قتل میں انصاف و قانون کے بنیادی اصولوں اور تقاضوں کو پورا نہیں کیا گیا۔ ذولفقار علی بھٹو اسلامی ممالک کے باقاعدہ نامزد چیرمین تھے ۔ تیسری دنیا کا بلاک بنانے کی وجہ سے امریکہ اور روس بھٹو کو مروانے چاھتے تھے ، اسی وجہ سے بھٹو کے گللے میں پھانسی کا پھندا ڈالا گیا۔ ایک نازک سوال ھے بےنظیر بھٹو کی شہادت کا سبب بنا۔ بےنظیر بھٹو کا سوال تھا کہ سوات جیسا امن پسند ، محنت کش خطہ دھشت گردوں کا ٹھکانہ کیسے بنا ۔ سوات میں سات سو میٹرک ٹن اسلحہ و بارود کیسے پہنچا ؟ جب نواز شریف وزیراعظم بنے تو ان سے بھی سانحہ بہاولپور کی تحقیقات کی درخواست کی گئی۔ انھوں نے بھی جسٹس شفیع الرحمن کی سربراہی میں ایک جوڈیشل کمیشن بنایا گیا ، اس کمشن نے بھی اس واقعے کو حادثہ قرار دیا۔ امریکہ اور سی ون تھرٹی جہاز بنانے والی کمپنی کے مطابق جہاز کے اندر ایک تیکنیکی خرابی کے سبب یہ حادثہ پیش آیا۔ اب دیکھنا یہ ہے کہ ایرانی کمشن کی رپورٹ ایرانی صدر ابراھیم رئیسی کے فضائی حادثہ کے بارے میں کیا آتی ھے ۔ کوھاٹ کرک علاقے سے تعلق رکھنے والے اسلم خان خٹک وزیر داخلہ تھے ۔ سانحہ بہاولپور سے ایک دو ھفتہ قبل انہوں نے جنرل ضیاء الحق کو آگاہ کردیا تھا کہ آپ کی زندگی ، آپکی جان کو شدید خطرہ لاحق ہے ۔ آپ کے ساتھ کوئی خطرناک حادثہ پیش ا سکتا ہے ۔ حادثہ سے چند دن پہلے ہی ٹی وی چینل پر ضیاء الحق نے اپنی ایک تقریر میں واضح طور کہہ دیا تھا کہ ” اس کرسی کا کیا پتہ ھے ، کل یہ میرے پاس نہ رھے ، زندگی کا کیا بھروسہ ھے کل کیا ھو جائے کچھ معلوم نہیں ” ۔ اندھی تقلید ، شخصیت پرستی میں مبتلا بےخبر دیوانوں کو کیا پتہ ہے کہ دنیا کا سب بڑا مانیڈ سیٹ پنٹاگون ھے ۔ امریکہ اپنے مخالف کو راستہ سے ھٹانے ، یا رجیم چینج آپریشن کے لیے سائفر جیسی بچگانہ حرکت نہیں کرتا ھے ۔ ایسی بھونڈی حرکت اسد مجید جیسے لوگ ھی کرسکتے ہیں ۔ سی آئی اے وہ چال چلتا ہے کہ کسی کو خبر نہیں ھوتی ھے ۔ اس کا دوشمن ھواؤں میں ھی خاموشی سے تحیل ھوجاتا ھے ۔ ایرانی صدر ابراھیم رئیسی کے ھیلی کاپٹر کی تباہی ایک حادثہ ھی قرار دیئے جائے ۔ بےنظیر بھٹو کے اندھے قتل کی طرح یہ بھی ایک اندھا قتل ثابت ھو۔
نوٹ: ادارہ کا کالم نگار سے متفق ہونا ضروری نہیں۔


