کالم

یاد کرتا ہے زمانہ انہی ھی انسانوں کو، وطن کے نایاب قیمتی موتی انمول رتن

94 نیوز کالم: کڑوا کھرا سچ
کالم نگار: طارق محمود جہانگیری کامریڈ
یہ اس سنہرے دور کا واقعہ ھے جب مصور پاکستان علامہ اقبال کا ابھی خواب ٹوٹا نہیں تھا ۔ مسٹر محمد علی جناح کے رفقا اور تحریک پاکستان کے اکابرین کا جزبہ سرد نہیں پڑا تھا ۔ پاکستان کے سیاسی حالات اتنے بدتر نہیں تھے ۔ جتنے کہ گزشتہ پانچ برسوں کے دوران ھو چکے ھیں ۔ اس ابتدائی دور میں سیاست کے دامن پر داغ دھبے نہیں تھے ۔ سیاست کا دامن پر گندے پانی کے چھینٹے 1985 کے بعد پڑنے شروع ھوئے۔ اب تو سیاست کا دامن داغدار ھوچکا ھے ۔ سچ پوچھیے تو آج کی سیاست بازار حسن کی طوائف بن گئی ھے، سارا سیاسی ماحول سیاسی عمل ھیرا منڈی بن چکا ھے ۔ بدقسمتی سے بہت سی حکمران سیاسی جماعتوں کے بشتر راہنما، سربراہ اس بازار کے تماشائی بن گئے ہیں ۔ اصولی نظریاتی سیاست کا ملک بھر سے جنازہ نکل گیا ہے۔ یہ واقعہ 1952 کی ایک رات کا واقعہ ھے۔ رات 12بجے کا وقت تھا ۔ لاھور سے ملتان جانے والی ایک بس دیپالپور چوک اوکاڑہ پر رکی۔ایک بارعب چہرہ , باوقار پرکشش شخصیت کا مالک خوبصورت نوجوان اس مسافر بس سے اترا۔ اس خوبرو جوان کو سول ریسٹ ہاؤس جانا تھا۔ اس نے اپنے آس پاس دیکھا۔ اسے کوئی کوئ سواری نظر نہیں آئی ۔ ایک عام سا تانگہ بس اسٹینڈ کے قریب کھڑا ھوا تھا ۔ اس مسافر نوجوان نے کوچوان سے سول ریسٹ ھاؤس جانے کا پوچھا۔ مگر کوچوان نے وھاں جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس نوجوان نے کوچوان سے ایک مرتبہ پھر عاجزی سے سول ریسٹ ھاؤس جانے کی گزارش کی۔ لیکن تانگہ کے کوچوان نے سخت انداز میں ریسٹ ہاؤس جانے سے انکار کر دیا ۔ کوچوان نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ آگے پھاٹک پر ایک سنتری کھڑا ھے۔ وہ مجھے وھاں جانے نہیں دے گا۔ سختی سے پیش آئے گا۔ کیونکہ میں چار سے زیادہ سواریاں اپنے ٹانگہ میں نہیں بٹھا سکتا ھوں۔ تانگے میں بیٹھی ان سواریوں نے جب اس نوجوان کی بےبسی اور لاچارگی کو دیکھا تو انہوں نے بھی کوچوان سے نوجوان کو تانگہ میں بیٹھانے کے لیے کہا۔ کوچوان نے نہ چاہتے ھوۓ بھی اس نوجوان کو تانگہ میں سوار کر لیا۔ تانگہ جب پھاٹک کے قریب پہنچا تو ڈیوٹی پر موجود سنتری ، اس پولیس والے نے سیٹی بجا کر تانگہ روک لیا۔ کوچوان پر برس پڑا کہ اس نے 4 سے زیادہ سواریوں کو تانگے میں کیوں بٹھایا ھے ؟ کوچوان نے 5 ویں سواری کی شکل میں اس نوجوان کو اپنے تانگہ میں سوار کرنے کی مجبوری بیان کی۔ اس سنتری اس پولیس اھل کار کا لہجہ پہلے سے تلخ اور رویہ پہلے سے زیادہ سخت ھوچکا تھا۔ اس سوار نوجوان نے 5 روپے کا نوٹ کوچوان کو دیا کہ اس سنتری کو دے کر اپنی جان چھڑاؤ ۔ مگر جب سنتری، پولیس اھل کار نے 5 روپے کا نوٹ دیکھا تو وہ اور بھی زیادہ غصے میں آگیا۔ وہ کوچوان سے کہنے لگا کہ تم مجھے رشوت دیناچاہتے ہو۔ جانتے نہیں ھو کہ رشوت دینا اور رشوت لینا ایک جرم ھے۔ اس جرم کی پاداش میں اب تمہارا چالان لازمی کروں گا۔ سنتری نے کہا کہ اگر یہی سب کچھ کرنا تھا تو پھر پاکستان بنانے کی ضرورت ھی کیا تھی۔ یہ کہہ کر اس نے کوچوان کا چالان کر دیا۔ کوچوان اپنا تانگہ لے کر وھاں سے چلا گیا ۔ سول ریسٹ ھاؤس کے قریب جب وہ نوجوان سوار تانگہ سے اترا تو اس نے کوچوان سے کہا کہ یہ میرا کارڈ ھے اسے اپنے پاس رکھ لو۔ کل نو بجے میرے پاس یہاں آجانا میں خود تمہارا جرمانہ ادا کروں گا ۔ اگلی صبح 9 بجے کوچوان سول ریسٹ ھاؤس پہنچا تو پولیس کے جوانوں نے اس کوچوان کو خوش آمدید کہا اور پوچھنے لگے کہ گورنر صاحب سے ملنے آۓ ھو؟ کوچوان کی جانے بلا کہ گورنر کیا ھوتا ھے ۔ ڈیوٹی پر موجود پولیس عملہ کے کچھ اھل کار اس کوچوان کو اپنے ساتھ ریسٹ ہاؤس کے اندر لے گۓ ۔ رات کے وقت تانگہ میں سوار ھونے والے اس نوجوان نے کوچوان سے اٹھ مصافحہ کیا اور اس کو بیٹھنے کے لیے کہا۔اس کے بعد اپنے پاس بیٹھے ہوئے ڈی سی او کو رات پیش آنے والے واقعہ کی ساری روداد سنائی ۔ اس سوار نوجوان نے رات والے سنتری پولیس اھل کار کو فورا طلب کیا اور ڈی سی او کوحکم دیا کہ اس ایماندار پولیس جوان کو فورا ترقی دے کر تھانہ صدر گوگیرہ کا ایس ایچ او تعینات کیا جائے۔ کوچوان کا جرمانہ بھی اپنی جیب سے ادا کیا ۔ اپنی جیب سے جرمانہ ادا کرنے والا وہ نوجوان کوئی اور نہیں تھا ۔ بلکہ وہ گورنر پنجاب سردارعبدالرب نشتر تھے ۔ جہنوں نے آل انڈیا مسلم لیگ کیلیے بے شمار خدمات سر انجام دی تھیں اور اب بھی اپنے نئے وطن عزیز پاکستان کے لیے خدمات انجام دے رہے تھے ۔ سابق گورنر سردار عبد الرب نشتر بانی پاکستان محمد علی جناح کے دست راست اور ایمانداری کی اعلی مثال سمجھے جاتے تھے۔

نوٹ: ادارہ کا کالم نگار کیساتھ متفق ہونا ضروری نہیں۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button