تقریبات/سیمینارز

زیادہ گندم اگاؤ مہم کے تحت محکمہ زراعت توسیع اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کے اشتراک سے سرسبز کسان کنونشن کا انعقاد

فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر) وزیراعلی پنجاب مریم نواز شریف کی ہدایات پرزیادہ گندم اگاؤ مہم کے تحت محکمہ زراعت توسیع اور فاطمہ فرٹیلائزر کمپنی کے اشتراک سے سرسبز کسان کنونشن کا انعقاد کیا گیا جس میں ضلع بھر سے500 سے زائد کسان شریک ہوئے۔کمشنر راجہ جہانگیر انور نے بطور مہمان خصوصی شرکت کی۔کمشنر نے کہا کہ انتظامیہ ڈویژن میں گندم کی کاشت کے ہدف کے لئے پرعزم ہے۔انہوں نے کہا کہ وزیراعلی مریم نواز شریف کی ہدایات پر موجودہ حکومت نے گندم کی کاشت کو منافع بخش بنانے کے لئے اس کی امدادی قیمت 3500 روپے فی من مقرر کی ہے اورحکومت کسانوں سے گندم خریدے اور کاشتکار کو گندم کی فصل کی اصل قیمت ملے گی۔انہوں نے کہا کہ محکمہ زراعت توسیع،زرعی یونیورسٹی کے ماہرین اور انٹرنیز گندم کے ٹارگٹ کے حصول کے لئے متحرک ہیں اورکاشتکاروں کے لئے گاؤں کی سطح پر جا کر نمبرداروں کے ڈیروں پر تربیتی پروگرام منعقد کئے جارہے ہیں۔حکومت پنجاب نے گندم کے بیج کی قیمت6500 سے کم کر کے 5500 فی تھیلا مقرر کر دی ہے تاکہ کاشتکاروں کو تصدیق شدہ بیج کم قیمت پر دستیاب ہوجس کے استعمال کی بدولت وہ اپنی فی ایکڑ پیداوار بڑھا کر زیادہ منافع کما سکیں گے۔انہوں نے بتایا کہ حکومت پنجاب نے بلا سود قرض دینے کے لئے کسان کارڈ ربیع سیزن کا اجراء کر دیا ہے جس سے کاشتکار اپنے مقامی کھاد ڈیلروں سے کھاد، بیج اور سپرے نوٹیفائیڈ قیمت پر حاصل کر سکتے ہیں۔ حکومت پنجاب نے گندم کی بروقت کاشت اور فصل کی باقیات کے خاتمے کے لئے 60 فیصد سبسڈی پر پانچ ہزار کاشتکاروں میں سپر سیڈر تقسیم کئے ہیں۔حکومت پنجاب نے مشینی کاشت کے فروغ کے لئے 19 ہزار ٹریکٹر کاشتکاروں میں 10 لاکھ فی ٹریکٹر سبسڈی پر تقسیم کئے اور مزید 9500 ٹریکٹرز دینے کے لئے رجسٹریشن کا عمل جاری ہے۔انہوں نے کہا کہ حکومت نے گرین ٹریکٹر سکیم فیز ٹو کا آغاز کر دیا ہے جس میں پانچ ایکڑ زرعی اراضی کے مالک کاشتکار اپنی رجسٹریشن کرا کر بذریعہ قرعہ اندازی ٹریکٹر حاصل کر سکتے ہیں۔کمشنر نے بوائز اینڈ گرلز انٹرنیز سے بھی گفتگو کی اور کہا کہ انٹرنیز اہم قومی مہم میں اپنی ذمہ داریاں نبھائیں۔اس موقع پر فاطمہ فرٹیلائزر کی طرف سے کسانوں میں پرکشش انعامات بھی تقسیم کئے گئے۔ڈائریکٹر زراعت چوہدری خالد محمود،ڈپٹی ڈائریکٹر حافظ عدیل احمدودیگر افسران بھی موجودتھے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button