زرعی شعبہ میں غیرملکی زرمبادلہ کا 25 فیصد حصہ ہے،70 فیصد آبادی کی روزمرہ زندگی زراعت پر منحصر ہے، فارمر ڈے پر شرکاء کا خطاب


فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر)پاکستان کی 70 فیصد آبادی کا روزگار زراعت و لائیو سٹاک سے منسلک ہے۔ زرعی شعبہ غیرملکی زرمبادلہ کمانے کے لئے 25 فیصد حصہ ڈال رہا ہے۔ جبکہ 70 فیصد آبادی کی روزمرہ زندگی زراعت پر منحصر ہے۔ ان خیالات کا اظہار چیف سائنٹسٹ شعبہ گندم ڈاکٹر جاوید احمد نے ایوب زرعی تحقیقاتی ادارہ فیصل آباد میں بوران کوٹڈ یوریا کے استعمال کی اہمیت پر منعقدہ فارمر ڈے کے شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ اس فارمر ڈے میں پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر علیم سرور، حفیظ اللہ رافع، ڈاکٹر محمد عارف، ڈاکٹر ضیاء چشتی، ڈاکٹر ثمرین صدیق، ڈاکٹر حنا جاوید، آنا اسلم، ڈاکٹر عبد المجید، ڈائریکٹر و ڈپٹی ڈائریکٹر ایگریکلچرل انفارمیشن ڈاکٹر آصف علی اور محمد اسحاق لاشاری سمیت زرعی سائنسدانوں اور ترقی پسند کاشتکاروں نے شرکت کی۔ چیف سائنٹسٹ شعبہ سائل کیمسٹری اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز ڈاکٹر عابد نیاز نے فارمر ڈے کے شرکاء کو بتایا کہ پاکستان میں زمینوں کی زرخیزی کو بحال رکھنے اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لئے زمینوں کی دیکھ بھال اور نامیاتی مادّہ میں اضافہ کو کلیدی اہمیت حاصل ہے۔ پنجاب میں گندم، کپاس، دھان، مکئی, کماد اور تیلدار اجناس کے علاوہ ہائی ویلیو کراپس خصوصاً پھلوں اور سبزیوں کی کاشت کے فروغ سے ملکی فوڈ سکیورٹی کا حصول ممکن ہے۔ شعبہ سائل کیمسٹری اینڈ انوائرنمنٹل سائنسز آری فیصل آباد اور نایاب فیصل آباد کے زرعی سائنسدانوں کے علاوہ پرائیویٹ فرٹیلائزرز کمپنیوں کے ماہرین ملکی زراعت کو منافع بخش بنانے اور ملکی فوڈ سکیورٹی کے حصول کو یقینی بنانے میں ہراول دستے کا کردار ادا کر رہے ہیں۔ پرنسپل سائنٹسٹ ڈاکٹر قدسیہ نزیر، سینئر سائنٹسٹ، ڈاکٹر ساجد محمود, ڈاکٹر عفرا سلیم اور ڈاکٹر آفتاب احمد نے فارمر ڈے کے شرکاء کو بتایا کہ پنجاب میں کاشتکاروں کی فصلوں کی معیاری پیداوار کے حصول کے لئے دستیاب وسائل بروئے کار لائے جا رہے ہیں۔ بوران کوٹڈ یوریا کی تیاری میں زرعی سائنسدانوں اور پرائیویٹ فرٹیلائزر کمپنی کے زرعی ماہرین کی مشترکہ کاوشیں قابل تحسین ہیں۔ پبلک پرائیویٹ سیکٹر کی مشترکہ کاوشوں سے پاکستان کی دیہی آبادی کی غربت میں کمی ممکن ہوگی جس سے معاشی ترقی کی نئی راہیں کھلیں گی۔ نجی کمپنی کے نمائندہ عمران احمد نے شرکاء کو بتایا کہ زرعی سائنسدان اور پرائیویٹ سیکٹر کی مشترکہ کاوشوں سے فصلوں کی جدید پیداواری ٹیکنالوجی کاشتکاروں کی دہلیزِ تک پہنچائی جارہی ہے۔ معروف زرعی سائنسدان ڈاکٹر اختر حسین نے فارمر ڈے کے شرکاء کو بتایا کہ فصلوں کی بہتر نشوونما کے لئے پی ایچ 5.5 سے 7.0 کی ضرورت ہوتی ہے۔ پودوں کی مناسب نشونما کے لئے 25 ڈگری سے 35 ڈگری سینٹی گریڈ درجہ حرارت زیادہ اہمیت کا حامل ہے۔ انہوں نے کاشتکاروں کو سفارش کی کہ وہ اپنی فصلوں کی کامیاب کاشت کے لئے زیادہ نامیاتی مادّہ رکھنے والی زرخیز میرا زمینوں کا انتخاب کریں۔ سینئر سائنٹسٹ ڈاکٹر عرفان الحق نے شرکاء کو اپنے تجربات سے مستفید کرتے ہوئے بتایا کہ کاشتکاروں کو بوران کوٹڈ یوریا کے علاوہ زنک اور آئرن فورٹیفائیڈ اور بائیو فرٹیلائزرز کے استعمال سے کیمیائی کھادوں کی مد میں سالانہ لاکھوں روپے کی بچت کیساتھ فصلوں کی فی ایکڑ پیداوار میں اضافہ سے آمدنی حاصل ہو گی۔



