زمین و جائیداد کے حقوق کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا، پاکستان میں پائیدار ترقی کے اہداف کو آگے بڑھانا“ کے موضوع پر جی سی یونیورسٹی میں سیمینار کا انعقاد


فیصل آباد (94 نیوز) ڈاکٹر مظہر عباس جو کہ ایچ ای سی کے فنڈڈ ریسرچ پروجیکٹ”پاکستان میں خواتین کے زمین و جائیداد کے حقوق، قوانین، پالیسیاں اور طرز عمل“کے پرنسپل انویسٹی گیٹر ہیں، نے گورنمنٹ کالج یونیورسٹی فیصل آباد کے شعبہ تاریخ میں”زمین و جائیداد کے حقوق کے ذریعے خواتین کو بااختیار بنانا، پاکستان میں پائیدار ترقی کے اہداف کو آگے بڑھانا“ کے موضوع پہ ایک قومی سیمینار کا اہتمام کیا۔ ڈاکٹر آسیہ سیف علوی (چئیرپرسن شعبہ سیاسیات، یونیورسٹی آف سرگودھا) نے خواتین کے زمین و جائیداد کے حقوق، ان کی معاشی خود مختاری اور اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے اہداف کے آپسی تعلقات کا تعین کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ خواتین کے زمین و جائیداد کے حقوق کو یقینی بنائے بغیر ان کی معاشی خودمختاری ممکن نہیں ہے اور ان کی معاشی خود مختاری کو یقینی بنائے بغیر اقوامِ متحدہ کے پائیدار ترقی کے پانچویں ہدف (خواتین کو بااختیار بنانا اور صنفی مساوات) کو حاصل کرنا محض ایک خواب ہی رہے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ خواتین کو محض زمین و جائیداد دے دینے سے وہ با اختیار نہیں بن جائیں گی بلکہ اس کے لئے فنانس، کریڈٹس اور مہارت کی ترقی کے پروگرام انتہائی اہم عناصر ہیں۔ ڈاکٹر محمد ابرار ظہور (چئیرمین شعبہ تاریخ و مطالعہ پاکستان، یونیورسٹی آف سرگودھا) نے زور دیا کہ ہمارے معاشرے میں خواتین کو زمین و جائیداد کے حقوق سے محروم رکھنا اور ان کی ترقی و خودمختاری میں رکاوٹیں کھڑی کرنا یقیناً ان کے وجود سے انکاری یا خاتمے کی طرف اشارہ ہے۔ پراجیکٹ کے پرنسپل انویسٹی گیٹر ڈاکٹر مظہر عباس کا کہنا تھا کہ بدقسمتی سے پاکستان مین زمین طاقت اور وقار کی علامت ہے۔ جس کی وجہ سے مرد حضرات زمین و جائیداد میں سے خواتین کو حصہ دینے سے انکاری ہیں۔ دوسرے معنوں میں جب تک مرد حضرات اپنی اناء کا خاتمہ کرتے ہوئے ذہنی طور پر خواتین کو زمین و جائیداد میں سے حصہ دینے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے تب تک خواتین کی ترقی، خوشحالی اور خود مختاری (یعنی پانچویں پائیدار ترقی کے ہدف) کا حصول ممکن ہی نہیں ہے۔





