فیصل آباد: 25 ہزار روپے ماہانہ امداد دراصل آئمۂ مساجد کو خریدنے اور ان کی آزادیٔ رائے کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جمعیت علماء اسلام کی پریس کانفرنس


فیصل آباد (94 نیوز سٹی رپورٹر) جمعیت علماء اسلام اور وفاق المدارس ضلع فیصل آباد کی جانب سے فیصل آباد پریس کلب میں آئمہ مساجد اور تعلیمی مدارس کے لیے حکومت پنجاب کے اعلان کردہ مالی پیکج کے خلاف مشترکہ پریس کانفرنس منعقد کی گئی۔ پریس کانفرنس میں مولانا مفتی محمد طیب رکن مجلس عامله و غازان وفاق المدارس العربیہ پاکستان,مولانا قاری عزیز الرحمن رحیمی معاون ناظم وفاق المدارس پنجاب میاں محمد عرفان امیر جمعیت علماء اسلام، مولانا شاہد معاویہ جنرل سیکرٹری جمعیة علماء اسلام ضلع فیصل آباد، مفتی حامد صدیق سینیئر ضلعی نائب امیر جمعیتہ علماء اسلام،قاری طاہر جنرل سیکرٹری ,مفتی عبد الشکور رضوی، ڈاکٹر طاہر مصدق مولانا الهم اعوان، مولانا عثمان تقی ، سید حبیب احمد شاد، سمیت مختلف مکاتبِ فکر کے علمائے کرام اور مذہبی رہنماؤں نے شرکت کی۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے مقررین نے کہا کہ حکومت پنجاب کی جانب سے 25 ہزار روپے ماہانہ کے نام پر دی جانے والی امداد دراصل آئمۂ مساجد کو خریدنے اور ان کی آزادیٔ رائے کو محدود کرنے کی کوشش ہے، جسے کسی صورت قبول نہیں کیا جا سکتا۔ انہوں نے کہا کہ آئمہ اور حافظِ قرآن کو "ان پڑھ” سمجھنے یا پیش کرنے کا رویہ قابلِ مذمت ہے۔ دینی مدارس ہمیشہ علم و کردار کے قلعے رہے ہیں اور 1860ء کے ایکٹ کے تحت تمام تعلیمی مدارس کی رجسٹریشن ضروری قرار دی گئی ہے۔ مقررین کے مطابق سال 2025ء میں صوبے بھر میں تقریباً 27 ہزار حفاظِ قرآن تیار ہوئے، جو حکومتی ریکارڈ کا حصہ ہیں، لہٰذا مدارس کی خدمات کو نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔ علمائے کرام نے کہا کہ اگر حکومت واقعی آئمہ اور مدارس کے ساتھ مخلص ہے تو انہیں چند ہزار روپے کی امداد دینے کے بجائے بجلی اور دیگر یوٹیلیٹی بلز میں ریلیف فراہم کرے۔ حکومت کو چاہیے کہ مدارس کی رجسٹریشن کے عمل کو قانونی دائرے میں مضبوط کرے اور اس حوالے سے متعلقہ بل صوبائی اسمبلی سے منظور کرایا جائے۔ انہوں نے واضح کیا کہ جمعیت علماء اسلام اور وفاق المدارس تشدد کے راستے کو نہیں بلکہ امن اور گفت و شنید کے راستے کو اختیار کریں گے۔ پریس کانفرنس کے شرکاء نے بتایا کہ حکومت کی جانب سے انہیں دس دن کا وقت دیا گیا ہے، اگر ان کے مطالبات تسلیم نہ کیے گئے تو دیگر قائدین کے ہمراہ 20 نومبر کو ایک بڑا احتجاجی جلسہ کیا جائے گا۔ علمائے کرام نے کہا کہ یہ کوئی حکومتی ایجنڈا نہیں بلکہ ایک بین الاقوامی منصوبے کا حصہ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد مساجد و مدارس کی خودمختاری کو متاثر کرنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ ائمہ کو حقیر سمجھ کر تنخواہ دینا ان کی توہین کے مترادف ہے۔پریس کانفرنس میں شریک رہنماؤں نے کہا کہ ہمارا مقصد حکومت کے خلاف محاذ آرائی نہیں بلکہ دینی اداروں اور ائمہ کی عزت و وقار کا تحفظ ہے۔ اگر ائمہ یا مدارس کو امداد کے نام پر دباؤ میں لانے یا ہراساں کرنے کی کوشش کی گئی تو جمعیتِ علماء اسلام پورے صوبے میں عوامی رابطہ مہم کا آغاز کرے گی اور بوقتِ ضرورت قائدِ جمعیت حضرت مولانا فضل الرحمن، شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی اور مولانا قاری محمد حنیف جالندھری کی قیادت میں تحریک چلائی جائے گی۔



