General Election 2024, Election Commission failed to make public the work of its verification committees, Baba Latif Ansari


Faisalabad(94 news)ممبر پتن کولیشن بابا لطیف انصاری نے کہا ہے کہ الیکشن کمشن آف پاکستان کی طرف سے کئی حلقوں کے فارم45کی تصدیق 7 دن کی ڈیڈ لائن گزر جانے کے باوجود نامکمل ہے۔الیکشن کمیشن اپنی تصدیقی کمیٹیوں کے کام کو پبلک کرنے میں ناکام رہا الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اپنی ویب سائٹ پراپلوڈ کئے گئے نتائج فارمز کی تفصیلات اور معیار کو یقینی بنانے کیلئے عام انتخابات 2024 کے متنازعہ انعقاد کے سات ماہ بعد 4 Sep 2024 کو ایک آفیشل آرڈر کے ذریعے اپنے عملے پرمشتمل تقریبا 38 ٹیمیں تشکیل دیں، ٹیموں کوٹاسک دیا گیا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان کی ویب سائٹ پرمسنگ فارمز اور ایسے فارمز جس پر ڈیٹا پڑھا نہیں جاسکتا کی تصدیق کریں اورایسے فارمز کو نئے سرے سے تیار کر کے ویب سائٹ پر اپلوڈ کرنے کو یقینی بنائیں اس کام کیلئے سات دن کا وقت دیا گیا تھا، لیکن پندرہ دن گزرنے کے باوجود ای سی پی نے ابھی تک کام کی کوئی تفصیلات پبلک نہیں کیں۔پتن کولیشن-38، جو کہ 250 سے زائد ایسوسی ایشنز، سی بی اوز اور مزدور یونینوں کا نیٹ ورک ہے نے اس بات پرتشویش کا اظہار کیا ہے کہ اس وقت ای سی پی نے قانون اور طے شدہ طریقہ کار کو نظر انداز کرتے ہوئے، خفیہ طور پر اپنی تصدیقی کمیٹیاں تشکیل دیں، خاص طور پر اس وقت جب 300 سے زائد انتخابی درخواستیں الیکشن ٹربیونلز میں زیر التوا ہیں۔ قبل ازیں پتن کولیشن-38 نے کئی درجن حلقوں کے انتخابی نتائج کے اپنے آڈٹ کے اہم نتائج کو عام کیا جس میں بڑے پیمانے پر دھاندلی، جعلسازی اور ڈیٹا غائب ہونے کے واقعات سامنے آئے ہیں۔اس سے قبل جن حلقوں کا جائزہ لیا گیا تھا ان میں سے ایک حلقہ این اے 265 پشین،بلوچستان کا تھا جہاں سے منسلک صوبائی حلقہ پی بی 48 کے نوے مشترکہ پولنگ سٹیشنوں میں قومی اسمبلی کے امیدواروں کو ڈالے گئے ووٹوں کا پورا انتخابی ڈیٹا ای سی پی کی ویب سائٹ سے غائب تھا، اور جو اب اپ لوڈ کیا گیا ہے،اسے باریک بینی سے دوبارہ جانچا گیا ہے۔ جس کے دوران یہ انکشاف ہو اہے کہ جاری کردہ بیلٹ پیپرز کے مقابلے میں، NA-265 کے لیے 12194 کم ووٹ ریکارڈ کیے گئے ہیں۔ جبکہ اس حلقہ میں 4,461 ووٹ مسترد ہوئے۔ مجموعی طور پر NA-265 کے لیے جاری کردہ بیلٹ پیپرز کی تعداد ڈالے گئے ووٹوں کا 12فیصد سے 14,223 کم ووٹ درج کیے گئے ہیں۔ این اے 265 سے جیتنے والے امیدوار مولانا فضل الرحمان کی 20,992 ووٹوں کی جیت کے مارجن کے ساتھ یہ مجموعی تضاد انتخابی نتائج کے منصفانہ ہونے پر سوالات اٹھاتا ہے۔NA-265کے انتخابی نتائج کے حوالے سے کمیٹیوں کی ناقص کارکردگی ہمارے آڈٹ میں سامنے آئی ہے جہاں 312 فارم45میں سے 268 ابھی تک نامکمل ہیں یا ان میں اہم معلومات موجود نہیں۔ 12فیصد میں مر د اور خواتین کے ڈالے گئے ووٹوں کی علیحدہ سے معلومات نہیں، 49 فیصد میں رجسٹرڈ ووٹ کی معلومات نہیں، 26 فیصد میں پریزائیڈنگ آفیسر کی پوسٹنگ کی جگہ کا ذکر نہیں، 52فیصد اور 61فیصد میں فارم 45 کی تیاریوں کی تاریخ اورمقام درج نہیں، 42فیصد فارم پولنگ ایجنٹوں کے دستخطوں کے بغیر ہیں، اور 14سے 17فیصد میں فارم 45 کی تیاریوں کے مراحل کا ذکر نہیں۔ متعلقہ پولنگ آفیسرزکے دستخط،شناختی کارڈ نمبر اور انگوٹھے کے نشانات وغیرہ موجودہ نہیں۔ مزید برآں 2 پولنگ سٹیشنوں کا فارم45 اور 122 پولنگ سٹیشنوں کا فارم46 ابھی تک ای سی پی کی ویب سائٹ پر اپ لوڈ نہیں کئے گئے۔ فارم45 اور فارم48 میں درج پول شدہ ووٹوں کے مجموعہ میں سینکڑوں کا فرق ہے۔ اسی طرح یہ بات بھی ناقابل فہم ہے کہ ای سی پی کی مقرر کردہ کمیٹی نے یہ ناقابل فہم کام کیسے انجام دیا کہ 4 پولنگ اسٹیشنوں کی صوبائی اور قومی نشستوں کے فارم 45 پر پریزائیڈنگ افسران کے نام مختلف ہیں۔ تینوں صوبائی اسمبلیوں کے انتخابی اعداد و شمار بھی اسی طرح کی بے ضابطگیوں کا شکار ہیں۔پتن کولیشن 38، انتخابات کے دن سے ہی مطالبہ کر رہا ہے کہ تمام انتخابی نتائج کا مکمل آڈٹ کسی تیسرے فریق کے ذریعے صاف و شفاف طریقے سے کرایا جائے تاکہ انتخابی دھاندلی کی نشاندہی کی جا سکے اور مجرموں کو قانون کے تحت جوابدہ بنایا جائے۔ ای سی پی نے قانون اور طے شدہ طریقہ کار کے مطابق کام کرنے کے بجائے انتخابی بے ضابطگیوں اور دھاندلی کو چھپانے کے لیے یہ مشکوک اقدام اٹھایا۔ اس کے باوجود، الیکشن کمیشن کا فرض ہے کہ وہ اپنی تصدیقی کمیٹیوں کے کام کو پبلک کرے۔



