Urdu News

ٹیکسٹائل کے مسائل کو اگلے دو ماہ میں حل کرکے اس شعبہ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں گے، وزیر مملکت محمد اکرم انصاری

ٹیکسٹائل کے مسائل کو اگلے دو ماہ میں حل کرکے اس شعبہ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں گے، وزیر مملکت محمد اکرم انصاری
وزیر مملکت برائے ٹیکسٹائل حاجی محمد اکرم انصاری نے کہا ہے کہ ٹیکسٹائل کے شعبہ کواگرچہ عالمی سطح پر بھی مسائل درپیش ہیں مگر ہم ان ملکی سطح پر ان مسائل کو اگلے دو ماہ میں حل کرکے اس شعبہ کو مضبوط بنیادوں پر استوار کریں گے۔ یہ بات انہوں نے بدھ کو نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی میں منعقدہ ٹیکسٹائل نٹنگ میں جدید رجحانات اور ایجادات کے موضوع پر دو روزہ انٹرنیشنل کانفرنس کے افتتاحی سیشن سے خطاب کرتے ہوئے کہی۔
انہوں نے کہا کہ بلاشبہ نیشنل ٹیکسٹائل یونیورسٹی ہمیشہ سے ہی ایجاد اور تحقیقات میں اپنا بھر پور کردار ادا کرتی چلی آرہی ہے۔ خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر میں اس یونیورسٹی کا کردار قابل ستائش ہے ۔ مجھے امید ہے کہ یہ یونیورسٹی ملکی ترقی میں اپنا شاندار کردار ادا کرتی رہے گی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان ایسا ملک ہے یہاں کاروباری اور منافع بخش صنعتیں لگانے کے وافر مواقع موجود ہے۔
یہ بات انتہائی خوش آئندہے کہ آج کی اس کانفرنس میں ممتاز صنعتکار اور جدت پسند محققین موجود ہیں جن کی کارآمد تجاویز پر عمل کرنے سے پاکستان ٹیکسٹائل کے شعبہ میں بہت آگے نکل جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ فیصل آباد کو پاکستان کے مانچسٹر کے نام سے پکارا جاتا ہے جہاں کپڑے اور دھاگے کی ہزاروں ملیں کام کر رہی ہیں۔پاکستان کے معرض وجود میں آنے سے لے کر اب تک ہمارا ٹیکسٹائل سیکٹر ملکی معیشت میں بہت اہم اور بڑا کردار ادا کر رہا ہے۔
یہ شعبہ روزگار کی فراہمی اور ملکی آمدن کا سب سے اہم سیکٹر ہے جس سے ہر دوسرا شخص منسلک چلا رہا ہے ۔ اس اہم شہر کا باسی ہونے کے ناطے مجھے احساس ہے کہ فیصل آباد کی صنعت کا خصوصاً ٹیکسٹائل سیکٹر سے وابستہ حضرات انتہائی مشکل حالات میں اپنی صنعتیں چلا رہے ہیں۔ ہمیں اس وقت عالمی اور ملکی چیلنجز کا سامنا ہے جن کا ہم نے پوری یکجہتی سے بھر پور مقابلہ کرنا ہے۔
مجھے انڈسٹری کی مشکلات کا پورا احساس ہے جن میں مارکیٹ شیئرز، نئی مارکیٹوں کی تلاش اور ڈویلپمنٹ کم منافع اور بیرونی منڈیوں میں تیزی سے بڑھتے ہوئے مقابلوں کے رجحان ہماری معیشت پر اثر انداز ہورہے ہیں۔ جنہیں ہم نے مل جل کر حل کرنا ہے ۔ ہم نے بحیثیت قوم کافی نقصان اٹھائے ہیں اور متحد ہو کر ہمیں دہشت گردی ، لوڈ شیڈنگ، خام مال کی آسمان سے باتیں کرتی چیزوں اور تربیت یافتہ مین پاور کی کمی جیسے مسائل کو حل کرنے کی بھر پور کوشش کرنی ہے۔
ہمیں اب نئے رجحانات سے نبردآزما ہونا ہے جس کیلئے آجروں اور اجیروں دونوں کو دنیا میں بھر پور کردار ادا کرنا ہے۔انہوں نے کہا کہ نٹنگ میں جدیدرجحانات کے موضوع پر منعقدہ یہ انٹرنیشنل کانفرنس ہمارے لیے ایک اچھا شگون ہے کیونکہ ہم اس کے ذریعے ٹیکسٹائل نٹنگ میں جدید رجحانات اور ایجادات سے روشناس ہو کر ترقی یافتہ ممالک سے اہم پلہ بن سکیں گے۔


اس کانفرنس کے موقع پر میں غیر ملکی محققین اور ریسرچر زکو دعوت دیتا ہوں کہ وہ پاکستان کا دورہ کریں اور اس ملک میں تیزی سے بڑھتی ہوئی معیشت اکانومی کاخودجائزہ لیں میں یہ بتا دینا ضروری سمجھتا ہوں کہ حکومت پاکستان کی اولین ترجیح یہ ہے کہ وہ دوسرے ممالک کے محققین سے خیالات کا تبادلہ کریں اور ریسرچ میں ان کے ساتھ مل کر کام کریں۔ ایسا کرنے سے ہم بین الاقوامی محققین کی ریسرچ اور ٹیکنالوجی سے استفادہ حاصل کر سکیں گے اور پاکستان غیر ملکی ریسرچرزاور ٹیکنالوجسٹ کی ایجادات سے فائدہ اٹھا کر ملکی معیشت کو درست سمت لے جانے میں کامیاب ہوجائے گا۔


انہوں نے کہا کہ میں حکومت پاکستان کی طرف سے غیر ملکی محققین کو یقین دلاتا ہوں کہ انہیں پاکستان میں دو طرفہ ریسرچ معلومات فراہم کرنے کیلئے ایک اچھا ماحول فراہم کیا جائے گا۔ ایسی کانفرنسوںکا انعقاد یقینا پاکستانی ریسرچ سکالر کو غیر ملکی ریسرچرز سے اور ایک دوسرے سے تبادلہ خیال کے ذریعے مزید استفادہ حاصل کرنے موقع مل سکے گا۔اس موقع پر یونیورسٹی کے ریکٹر پروفیسر ڈاکٹر تنویر حسین نے خطبہ استقبالیہ پیش کیا۔

Haji Muhammad Akram Ansari Minister Of State Commerce And Textile

International conference  emerging trends in knitting 2018 National Textile University Faisalabad Pakistan. Textile Industry Latest education Faisalabad Haji akram ansari

TaleemTV Pakistan Online Educational News Portal

Show More

Related Articles

Back to top button