قومی

وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کو بھی بلا لیں گے، سپریم کورٹ

اسلام آباد (94 نیوز) چیف جسٹس آف پاکستان نے ریمارکس دیتے ہوئے کہا ہے کہ اگر ضرورت پڑی تو وزیراعظم کو بھی بلائیں گے۔

تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں ریلوے خسارہ از خود نوٹس کیس کی سماعت ہوئی۔عدالت نے کراچی سرکلر ریلوے پر پاکستان ریلوے اور سندھ حکومت کو توہین عدالت نوٹسز جاری کر دئیے۔عدالت نے سماعت کے دوران استفسار کیا کہ عدالتی حکم پر عملدرآمد کیوں نہیں کیا گیا۔
محکمہ خط بازی کی گئی لیکن سپریم کورٹ کے حکم پر عمل درآمد نہ کیا گیا۔عدالت نے استفسار کیا کہ بتائیں کراچی سرکلر ریلوے کا منصوبہ کیوں فعال نہیں ہوا؟ عدالت نے ڈی جی ایف ڈبلیو او کو بھی ذاتی حیثیت سے پیش کر کو وضاحت کا حکم دے دیا۔چیف جسٹس پاکستان گلزار احمد نے کہا کہ اب بات یہاں تک نہیں رکے گی اب سب کو بلائیں گے،اگر ضرورت پڑی تو وزیراعظم اور وزیراعلیٰ سندھ کو بھی بلا لیں گے۔
عدالت نے ریمارکس دئیے کہ سیکرٹری ریلوے اور چیف سیکرٹرین توپین عدالت کے مرتکب ہوئے ہیں۔عدالت نے سیکرٹری ریلوے اور چیف سیکرٹری سندھ کو ذاتی حیثیت میں پیش ہونے کا حکم دے دیا۔ چیف جسٹس پاکستا نے ریلوے خسارہ از خود نوٹس کیس کی سماعت دو ہفتے کے لیے ملتوی کر دی۔20 اگست کو سماعت کے دوران چیف جسٹس گلزار احمد نے ریمارکس دیئے کہ کراچی حیدرآباد برج کسی بھی وقت گر سکتا ہے، کوٹری میں انگریز کا بنایا ہوا پٴْل آج بھی درست حالت میں ہے، دریائے سندھ پر کوئی ایسا پٴْل نہیں جس پر قوم فخر کر سکے، ایوب خان کے دور میں بننے والا ایوب برج واحد خوبصورت پٴْل ہے، ایوب برج کے بعد ملک میں جتنے بھی پٴْل بنے سب گندے بنائے گئے، ایم ایل ون کیلئے اچھے برج بنائے جائیں،دریائے سندھ ملک کی اکانومی چلاتا ہے اسکو عزت دیں، سماعت کے دوران سیکرٹری ریلوے نے عدالت کو بتایا کہ ایم ایل ون میں سٹیٹ آف دی آرٹ پٴْل بنائے جائیں گے، ایم ایل ون کا پیکج ون تین سال میں مکمل ہوگا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close