تاندلیانوالہ محرومیوں کا قیدی اور امید کی نئی کرن


94 نیوز۔ تحریر: رانا عامر محمود
پنجاب کے زرعی دل میں واقع تاندلیانوالہ اور اس سے منسلک انتخابی حلقہ NA-97 فیصل آباد III آج بھی بنیادی سہولیات سے محرومی کی ایک دردناک داستان پیش کر رہا ہے اس کے ذیلی حلقے PP-102 فیصل آباد V اور PP-103 فیصل آباد VI بھی اسی پسماندگی اور نظراندازی کی واضح تصویر ہیں اگر ماضی کی طرف نظر دوڑائی جائے تو یہ خطہ ترقی کے ایک روشن دور سے بھی گزرا ہے۔ سابق وزیرِ اعلیٰ پنجاب میاں منظور احمد وٹو (مرحوم) کا دورِ حکومت اس علاقے کے لیے ایک سنہری باب کی حیثیت رکھتا ہے تقریباً 30 سال قبل ان کے دور میں اس خطے میں ترقیاتی کاموں کا ایسا جال بچھایا گیا جس نے تاندلیانوالہ کو ایک نئی شناخت عطا کی لڑکیوں کے لیے مڈل اسکول لڑکوں کے لیے ہائی اسکول بینکنگ سہولیات پکی سڑکیں، نکاسی آب کا نظام، روزگار کے مواقع ہسپتال پریس کلب کی عمارت اور تاندلیانوالہ کو تحصیل کا درجہ دلوانا یہ سب اس بات کا ثبوت تھا کہ مخلص قیادت کسی بھی علاقے کی تقدیر بدل سکتی ہے مگر آج صورتحال اس کے بالکل برعکس ہے گاؤں گڑھ فتح شاہ اس زوال کی ایک واضح مثال ہے یہاں ایک ڈسپنسری موجود ہے مگر برسوں سے بند پڑی ہے نہ ڈاکٹر نہ دوا اور نہ ہی بنیادی سہولت لوگ معمولی بیماریوں کے علاج کے لیے ساہیوال فیصل آباد یا اوکاڑہ جانے پر مجبور ہیں اسی طرح تعلیمی صورتحال بھی انتہائی تشویشناک ہے جہاں اسکولوں کی کمی نے نئی نسل کے مستقبل کو غیر یقینی بنا دیا ہے۔ سیوریج، سڑکیں، صاف پانی اور صحت کا نظام سب زبوں حالی کا شکار ہیں یہ صرف ایک گاؤں کا مسئلہ نہیں بلکہ پورے حلقے کی اجتماعی محرومی ہے سب سے بڑا سوال یہ ہے کہ حکومت کیا کرے جب منتخب نمائندے ہی اپنی آواز بلند نہ کریں؟ جب عوام کے مسائل ایوانوں تک ہی نہ پہنچیں تو ان کا حل کیسے ممکن ہوگا؟ یہی وجہ ہے کہ آج عوام خود اپنی آواز بلند کرنے پر مجبور ہیں اسی پس منظر میں لوگ اب ایک نئی امید کے ساتھ متحرک ہو رہے ہیں اور ایک ایسی شخصیت کی طرف دیکھ رہے ہیں جسے وہ میاں منظور احمد وٹو کے ترقیاتی وژن کے تسلسل کے طور پر دیکھتے ہیں یہ شخصیت عائشہ منظور وٹو ہیں عوام کا ماننا ہے کہ جس وژن اور خدمت کے جذبے کی بنیاد میاں منظور احمد وٹو (مرحوم) نے رکھی تھی اسی مشن کو آگے بڑھانے کی صلاحیت عائشہ منظور وٹو میں موجود ہےعائشہ منظور وٹو نہ صرف اپنے والد کے ترقیاتی وژن کی امین ہیں بلکہ عوامی مسائل کو سمجھنے کی صلاحیت اور سیاسی بصیرت بھی رکھتی ہیں لوگوں کا یقین ہے کہ وہ اس خطے کے لیے امید کی ایک نئی کرن ثابت ہو سکتی ہیں اور ترقی کا وہ سفر دوبارہ شروع کر سکتی ہیں جو کہیں رک گیا تھا آخر میں: اندھیروں میں چراغ جلانے والا چاہیے اس بکھرے دیس کو سنوارنے والا چاہیے اگر پھر سے امید کی شمع روشن ہو جائے تو یہ خطہ بھی سنورنے کا حوصلہ رکھتا ہے تاندلیانوالہ کے ساتھ ساتھ ماموں کانجن کی محرومیاں بھی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں یہ اہم قصبہ آج بھی تحصیل کا درجہ حاصل کرنے کے لیے ترس رہا ہے۔ یہاں کے عوام کو معمولی سرکاری کاموں کے لیے بھی دور دراز علاقوں کا رخ کرنا پڑتا ہے جس سے وقت اور وسائل دونوں کا شدید ضیاع ہوتا ہے ایک ایسا علاقہ جو آبادی اہمیت اور جغرافیائی لحاظ سے تحصیل بننے کی مکمل اہلیت رکھتا ہے آج بھی نظرانداز ہے عوام آج بھی ایک فیصلے ایک توجہ اور ایک مخلص قیادت کے منتظر ہیں اس حوالے سے عائشہ منظور وٹو کا کہنا ہے کہ تاندلیانوالہ کو باقاعدہ طور پر ضلع کا درجہ اور ماموں کانجن کو تحصیل کا درجہ ملنا چاہیے کیونکہ یہ ان کا آئینی اور انتظامی حق ہے اور جو حق بنتا ہے وہ ضرور ملنا چاہیے


