قومی

فیصل آباد:ایل پی جی دکانداروں کا معاشی قتل بند کیا جائے، غیر معینہ مدت کے لیے ہڑتال اور دھرنے کا اعلان


فیصل آباد(94 نیوز سٹی رپورٹر) ایل پی جی دکانداروں نے سول ڈیفنس اور ضلعی انتظامیہ کی کارروائیوں کے خلاف شدید احتجاج کرتے ہوئے غیر معینہ مدت کے لیے شٹر ڈان ہڑتال اور کل جی ٹی ایس چوک میں دھرنے کا اعلان کر دیا ہے۔ پریس کلب میں شوکت علی پڈھیار،علی حسن وڑائچ ، محمود احمد ،مرزا شوکت علی ودیگر نے پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے دکانداروں کا کہنا تھا کہ وہ پچھلے پانچ سے چھ ماہ سے کریک ڈان کا سامنا کر رہے ہیں، جبکہ ان کا واحد "جرم” سستے داموں ایندھن فراہم کرنا ہے۔دکانداروں نے الزام عائد کیا کہ سول ڈیفنس کے اہلکار بغیر رسید کے ان کا کروڑوں روپے کا سامان اٹھا کر لے جاتے ہیں اور بعد میں اسے تلف کر دیا جاتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر حکومت ایل پی جی کی ریفلنگ کو غیر محفوظ سمجھتی ہے تو اس کا متبادل فراہم کرے، کیونکہ عوام کی قوت خرید ایجنسیوں سے مہنگا سلنڈر خریدنے کی اجازت نہیں دیتی۔ایل پی جی ڈیلرز ایسویسی ایشن راہنماوں نے مزید کہا کہ سوئی گیس کے ذخائر ختم ہو رہے ہیں، ایسے میں ایل پی جی ایندھن کا بہترین متبادل ہے۔ دکانداروں نے کہا کہ اگر ان کے مطالبات نہ مانے گئے تو وہ نہ صرف ہوٹلوں، گھروں فیکٹریوں اور رکشہ ویگینز کو ایل پی جی فراہم کرنا بند کر دیں گے بلکہ اگر ہمارے مطالبات نا مانے گیے تو ہم موٹر وے بند کرنے جیسے سخت اقدامات بھی اٹھا سکتے ہیں۔ا۔ انہوں نے ڈی سی فیصل آباد سے سوال کیا کہ انہوں نے تعیناتی کے بعد ایل پی جی دکانداروں کے خلاف کاروائی کے علاوہ اور کوئی کام۔نہیں کا ان کا الزام تھا کہ جو دکاندار ایس او پیز پر عمل کرتے ہیں، ان پر بھی اسی انداز میں کارروائیاں کی جاتی ہیں جیسے غیر معیاری کاروبار کرنے والوں پر۔ایل پی جی دکانداروں کا کہنا تھا کہ گوجرانوالہ میں ناقص سلنڈر بنانے والی فیکٹریوں کے خلاف کارروائی ہونی چاہیے، مگر اس کا ملبہ ہم پر نہ ڈالا جائے۔ انہوں نے کہا کہ عوام 12 کلو کے مہنگے سلنڈر خریدنے کی استطاعت نہیں رکھتے، ہم انہیں سستا ایندھن فراہم کرتے ہں آخر میں انہوں نے حکومت سے مطالبہ کیا کہ ان کے ساتھ مشاورت کر کے نئے اور سخت ایس او پیز بنائے جائیں تاکہ کاروبار محفوظ بھی ہو اور عوام کو سہولت بھی میسر آ سکے۔ حکومت ہمارا مزید امتحان نا لے اور ہمارا معاشی قتل بند کرے ہم پورا پلان رکھتے ہیں جو محفوظ ہے اور حادٹات سے محفوظ ہو گا لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ بلاوجہ کی کارواائیوں کی بجائے ہمارے ساتھ مذکرات کے ذریعے کوئی لائحہ عمل طے کیا جائے۔

Show More

Related Articles

جواب دیں

Back to top button