قومی

عمر قید کا مطلب 25 سال نہیں، چیف جسٹس آف پاکستان

اسلام آباد (94 نیوز) عمر قید کا مطلب 25 سال کی قید نہیں بلکہ تاحیات قید ہے البتہ اس معاملے پر کسی مناسب موقع پر تشریح کریں گے یہ بات چیف جسٹس آف پاکستان جسٹس آصف سعید کھوسہ نے کہی۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان میں ایک کیس کی سماعت ہوئی جس میں قتل کے مجرم کی سزائے موت برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا۔

دوران سماعت چیف جسٹس آصف سعید کھوسہ نے عمر قید کا موجودہ مفہوم غلط قرار دیتے ہوئے عمر قید کی مدت کی تشریح کرنے کا عندیہ بھی دے دیا۔ چیف جسٹس آصف سعید کھوسہنے سماعت کے دوران ریمارکس دیتے ہوئے کہا کہ عمر قید کا یہ مطلب نکال لیا گیا ہے کہ یہ 25 سال قید ہے جو کہ غلط ہے۔ عمر قید کا مطلب تاحیات قید ہوتا ہے۔ کسی مناسب موقع پر عمر قید کی درست تشریح کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ اگر ایسا ہو گیا تو دیکھیں گے کہ کون قتل کرتا ہے، پھر ملزم عمر قید کی جگہ سزائے موت مانگیں گے۔ بھارت میں جس کو عمرقید دی جاتی ہے اس کے ساتھ سالوں کا تعین بھی کیا جاتا ہے کہ مجرم عمر قید کے تحت کتنے سال سزا کاٹے گا۔

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close