کالم

سکول کونسلز سے تعلیمی سرگرمیاں ماند پڑیں گی اور لڑائی جھگڑوں کو فروغ ملے گا

حکومت کونسا نجی تعلیمی اداروں کو فنڈز دے رہی ہے جو سکول کونسلز کے قیام کا حکم صادر کررہی ہے؟

سکول کونسلز مسئلے کا حل نہیں، اکثر سٹاف خواتین کاہوتا ہے، تمام والدین پڑھے لکھے نہیں ہوتے،والدین کی شرکت سےمسائل بڑھیں گے۔

کسی کے ذاتی کاروبار میں کسی دوسرے کو بااختیارکرنا کہاں کا انصاف ہے؟

حکومت کونسا نجی تعلیمی اداروں کو فنڈز دے رہی ہے جو سکول کونسلز کے قیام کا حکم صادر کررہی ہے؟

کسی بھی ملک کی ترقی کا دارومدار اور بنیاد تعلیم میں پوشیدہ ہے، تعلیم کے شعبہ کو ترقی دئیے بغیر کسی بھی شعبہ میں ترقی نا ممکن ہے، وہ چاہے ملکی سیاست ہو، ملکی معیشت ہو، داخلی یا خارجی امور ہوں۔ ہر ملک تعلیم کے شعبہ پر اپنے بجٹ کا بہت بڑا حصہ خرچ کررہا ہے،1980 کی دہائی میں ملائشیاء کے سربراہ مہاتیر محمد نے ایک تھنک ٹینک قائم کیا یہ جاننے کے لئے کہ وہ کونسی وجوہات ہیں جن کی بنا پر ترقی یافتہ ممالک نے ترقی کی اور وہ اس صف میں کھڑے ہوگئے، اس تھنک ٹینک نے مخلتف ممالک کے دورے کئے اور وہ عوامل تلاش کئے جن میں سب سے پہلا شعبہ تعلیم کا تھا کہ ان ممالک نے تعلیم پر بہت توجہ دی، دوسرا شعبہ صحت کا تھا اور تیسرا روزگار تھا،  لیکن بدقمستی کے ساتھ ہمارے ملک میں جتنی بھی حکومتیں آئیں سب نے دعوے تو بہت بڑے بڑے کئے مگر ان دعووں پر عملدرآمد ایک خواب ہی نظر آیا، کسی نے پڑھو پنجاب بڑھو پنجاب کا نعرہ لگایا، کسی نے پڑھا لکھا پاکستان، پڑھا لکھا پنجاب کا نعرہ لگایا کسی نے، تعلیمی ایمرجنسی نافذ کرنے کا اعلان کیا، لیکن یہ سب اعلان تک اور نعروں تک ہی محدود رہا، اگر ہم اپنے1973ء کے آئین کی دفعہ 25A دیکھتے ہیں تو یہ آئین ریاست کو پابند کرتا ہے کہ وہ اپنے ملک میں رہنے والے تمام طلباء و طالبات کو مفت تعلیم فراہم کرے، لیکن تیزی کیساتھ بڑھتی ہوئی آبادی میں جب سرکاری تعلیمی اداروں سے لاکھوں کی تعداد میں طلباء و طالبات سنبھالے نہ گئے تو مختلف سماجی ادارے اور نجی شعبہ مین تعلیم پر کام کرنے والے لوگ بھی میدان میں آگئے اور دیکھتے ہی دیکھتے انہوں نے اپنی طاقت کا لوہا منوا لیا، نجی تعلیمی اداروں کے نتائج دیکھیں تو سب سے آگے وہ چاہے پنجاب ایگزامینیشن کمشن کے تحت ہونے والے امتحانات ہوں یا بورڈ آف انٹرمیڈیٹ کے زیر اہتمام جماعت نہم ،دہم اور ہائر سیکنڈری ایجوکیشن کے ہوں، حتیٰ کہ ماسٹر لیول تک کے امتحانات کے نتائج کا بغور جائزہ لیں تو نجی تعلیمی اداروں نے اپنا اعتماد بھی بحال رکھا اور معیار کو بھی قائم رکھا، نجی تعلیمی اداروں نے سب سے پہلے مار نہیں پیار کرکے دکھایا پھر حکومتوں نے بھی اسی پر عمل کرتے ہوئے قانون سازی کردی، نجی تعلیمی اداروں نے ہم نصابی سرگرمیوں کی طرف بھرپور توجہ دی پھر پنجاب حکومت کو بھی خیال آگیا اور حکومت نے پنجاب بھر میں مقابلہ جات کروائے، اگر دیکھا جائے تو پنجاب میں ایک لاکھ سے زائد چھوٹے اور بڑے نجی تعلیمی ادارے قائم ہیں اور ان میں 300 اوسط طالبعلم کے حساب سے تقریباََ 3 کروڑ بچے تعلیم حاصل کررہے ہیں، ہزاروں کی تعداد میں ٹیچنگ اور نان ٹیچنگ سٹاف اپنا روزگار کما رہا ہے، لیکن محکمہ تعلیم اور دیگر محکموں کی طرف سے ہمیشہ نجی تعلیمی اداروں کو تنقید کا نشانہ بنایا جاتا رہا ہے، وہ والدین جو اپنے بچوں کو اس سکول میں تعلیم بھی دلوانا چاہتے اور اکثر اوقات اس سکول میں داخلہ کے لئے سفارشیں بھی ڈھونڈتے لیکن داخلہ فارم کی تمام شرائط کو مانتے ہوئے دستخط کرکے اپنے بچوں کو داخل کرواکر پھر اس سکول کے خلاف بولنے سے بھی باز نہیں آتے، یہی حال محکمہ تعلیم کے افسران کا، حکومتی عناصر کا جب رزلٹ دیکھتے تو تعریفیں کرتے نہیں تھکتے کہ نجی تعلیمی ادارے بے پناہ خدمات سرانجام دے رہے لیکن تھوڑی دیر بعد پھر پرائیویٹ سیکٹر کے خلاف سازشوں میں مصروف دکھائی دئیے، بہرحال، اگر ہم نے آنے والی نسل کو پڑھا لکھا بنانا ہے تو ہمیں وہ تمام تعلیمی ادارے چاہے وہ سرکاری ہوں یا نجی انکو مضبوط کرنا ہوگا، 23 اپریل2019میں لاہور سیکرٹری سکولز ایجوکیشن کے میٹنگ روم میں سیکرٹری ایجوکیشن کی صدارت میں ایک اجلاس ہوا جس میں پنجاب بھر سے نجی تعلیمی اداروں کے حقوق کے لئے کام کرنے والی تنظیمات کے سربراہان نے شرکت کی سیکرٹری ایجوکیشن نے نجی سیکٹر کیساتھ بھرپور تعاون کا یقین دلایا اور بتایا کہ نجی سیکٹر کے لئے ایک قانون پاس ہونے جا رہا ہے جس کے ڈرافٹ پر وزیراعلیٰ پنجاب عثمان بزدار نے بھی دستخط کردئے ہیں لیکن انہوں نے اس قانون کو فی الحال رکوالیا ہے، اس قانون میں اہم بات سکول کونسلز کی ہے  جس پر عمل درآمد کے لئے لاہور ہائیکورٹ نے بھی حکم جاری کیا ہے کہ اس پر عمل درآمد کروایا جائے، جس میں ہر نجی سکول میں ایک سکول کونسل بنے گی، کونسل میں والدین کی طرف سے بھی نمائندگان ہونگے اور ایجوکیشن اتھارٹی کی جانب سے بھی نمائندہ ہوگا، والدین کی نمائندگی کے لئے باقاعدہ الیکشن ہوگا، یہ کونسل سکول کے تمام معاملات کو دیکھے گی اس دوران نجی تعلیمی اداروں کی نمائندہ تنظیموں میں سے آٹھ رکنی کمیٹی تشکیل دی گئی جو تجاویز مرتب کرے گی اور آئندہ 15 روز میں اپنی تجاویز دے گی، لیکن 30 اپریل کو ہی دوبارہ میٹنگ طے ہوگئی اور کسی سے بھی تجاویز وصول نہیں کی گئیں بلکہ سیکرٹری ایجوکیشن کی طرف سےایک نوٹیفیکیشن جاری کردیا گیا کہ پنجاب بھر کے تمام نجی تعلیمی ادارے سکول کونسل بنانے کے پابند ہونگے کونسل 7 ممبران پر مشتمل ہوگی، کونسل کا سربراہ پرنسپل ہوگا، 3 ممبرز والدین کی طرف سے ہونگے اور انکا انتخاب باقی تمام والدین کی موجودگی میں ہوگا (الیکشن)، اسی طرح 2 ممبرز اساتذہ ہونگے انکا بھی انتخاب بذریعہ الیکشن ہوگا، ایک جنرل ممبر ہوگا جو ریگولیشن اتھارٹی  اسی علاقہ سے کسی کو بھی مقرر کرے گی، کونسل کو اختیار ہوگا کہ وہ سکول کے تمام معاملات کی نگرانی کرے گی، جن میں فیسوں کو متعین کرنا، چھٹیوں کے معاملات، اساتذہ، بچوں اور والدین کے تمام معاملات کے فیصلے کرنے کا اختیار بھی ہوگا، کونسل کا ماہانہ اجلاس ہوگا،

یہ نوٹیفیکیشن دیکھتے ہوئے ذوالفقار علی بھٹو کے دور کی یاد تازہ ہوگئی جب مزدور کو مل مالکان کیساتھ لڑا دیا گیا یہ کہہ کر کہ اس مل میں یونین بنے گی اس میں آپ کا بھی حصہ ہوگا، اس وقت بھی نجی تعلیمی اداروں کو نیشنلائز کردیا گیا، اداروں کو تباہ کردیا گیا، ہر روز جلسے جلوس لڑائی جھگڑے معمول بن گئے، پھر اگلی حکومت نے بہت سارے ادارے مالکان کو واپس کردئے، کاروبار کرنا حکومتوں کا کام نہیں ہوتا، حکومتوں کا کام اداروں کو مضبوط کرنا اور ان کو سپورٹ کرنا ہوتا ہے، اب بھی ایسا لگ رہا ہے کہ شعبہ تعلیم ایک مرتبہ پھر بھیانک صورتحال اختیار کرنے جا رہا ہے، سوچنے والی بات ہے کہ کیا ایسا ممکن ہے کہ کوئی اپنی عمر بھر کی کمائی اکٹھی کرے سکول بنائے اور حکومت اسکو کچھ بھی نہ دے اور اس کے ادارہ میں دوسرے لوگوں کو شامل کردے تو کیا یہ دنگا اور فساد کروانے کا منصوبہ نظر نہیں آتا، کیا تمام والدین پڑھے لکھے ہیں، کیا کوئی اپنی ساری کمائی کرکے لوگوں کے آگے رکھ دے کہ تم میرے کاروبار کا فیصلہ کرو، میں نے کیا کرنا ہے؟ ایک طرف حکومت یہ نعرے لگا رہی ہے کہ اداروں میں سیاسی مداخلت بند کردیں گے جس سے ادارے تباہ ہو رہے ہیں دوسری طرف نجی سکولوں میں غیر ذمہ داران کو مداخلت کے لئے کھلی چھٹی دی جا رہی ہے،جن کا کوئی تعلق ہی نہیں اس سکول کے معاشی معاملات سے۔ پھر تعلیمی سرگرمیاں نظر نہیں آ رہی  بلکہ آئے روز اداروں میں سیاست ہوگی، لڑائی جھگڑے معمول ہونگے، عدالتوں ، تھانہ کچہریوں کے چکر ہونگے اور لوگ تنگ آکر سکول بند کرکے کسی اور کاروبار کی طرف رجحان کرلیں گے، حکومت اپنے بہت سارے سرکاری سکول پہلے ہی نجی سیکٹر کو دے چکی ہے، بہت سے سکولوں کو دسرے سکولوں میں ضم کردیا گیا، بہت سارے ادارے خود بخود ہی بند ہوگئے۔ جیسے سرکاری تعلیمی اداروں کا بیڑہ غرق کیا گیا اسی طرح  اب کامیاب ترین نجی تعلیمی اداروں کا بیڑہ غرق کرنے کے لئے کمر کس لی گئی ہے، سوچنے والی بات ہے کہ اگر حکومت کو کوئی خدشہ لاحق ہے تو نجی سکولوں کی درجہ بندی کردی جائے 80 فیصد سے زائد تعلیمی ادارے نہایت کم فیس وصول کررہے ہیں، جن کی فیس پہلے ہی 100 روپے سے  لیکر 4000 روپے ماہانہ ہے وہ کیا فیسوں میں اضافہ کریں گے، وۃ حد سالانہ 100 روپے سے لیکر 200 روپے سالانہ تک اضافہ کرسکیں گے اس سے زیادہ کریں گے تو والدین نے خود ہی اپنے بچے سکول سے ہٹا لینے ہیں، نجی تعلیم اداروں پر تو پہلے ہی والدین مانیٹرنگ کررہے ہیں، اب مزید اس طرح کی نہ تو قانون سازی کی ضرورت ہے اور نہ ہی ایسی پابندیاں لگانے کی ضرورت ہے، عمران خان کو چاہئے کہ وہ اس معاملہ کو یا تو خود دیکھیں یا پھر ایک کمشن بنائیں جس میں نجی تعلیمی اداروں کی نمائندگی موجود ہو اور اس پر بہتر حل تلاش کریں نہ کہ ٹینشن والا ماحول پیدا کیا جائے،

مزید

متعلقہ خبریں

جواب دیں

Close